کاشی کی صورت ہی نہیں، سیرت بھی بدل رہی... وشوناتھ گوکم

کاشی اب نئے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا رہی ہے۔ کاشی اب ترقی کی کروٹ لے رہی ہے۔ اب کاشی کی صورت ہی نہیں سیرت بھی بدل رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کاشی، تصویر بشکریہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کہتے ہیں کہ کاشی کسی ’زمانے کے دائرہ‘ سے بالاتر ہے۔ کاشی اس کائنات کی ’اوتار بھومی‘، یعنی وجود کا نکتۂ آغاز ہے۔ کاشی ماورائی ہے، کاشی لاجواب ہے۔ کاشی طلسم ہے، کاشی راز ہے۔ کاشی موکش (نجات) دینے والی ہے، کاشی میں موت بھی مبارک مانی جاتی ہے۔ کاشی شیو کی زمین ہے، کاشی علم کی زمین ہے۔ ہندو عقیدہ کے مطابق اس زمین کی سب سے قدیم نگری کاشی کے بارے میں یہ سب باتیں پُرانوں میں کہی گئی ہیں۔ ’شیو پُران‘ سے لے کر ’اسکند پُران‘ تک، اور پھر ’وشنو پُران‘ تک میں کاشی کا ذکر آیا ہے۔ وہ زمانہ اب گزر چکا ہے، اب نیا دور ہے۔

کاشی اب نئے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا رہی ہے۔ کاشی اب ترقی کی کروٹ لے رہی ہے۔ اب کاشی کی صورت ہی نہیں سیرت بھی بدل رہی ہے۔ جدید دور کی کاشی کا ذکر اب پُرانوں سے نکل کر سیاحت کی صنعت کے میدان میں ہو رہا ہے۔ کاشی کا مطلب اب صرف ’کرم کانڈ‘ نہیں رہا، کاشی کے معنی اب صرف تمام علوم کی راجدھانی بھی نہیں، اب کاشی کا مطلب چاندی کے سکوں کی کھنک ہے، ہوٹل انڈسٹری ہے، فوڈ فیسٹیول ہے۔ کاشی اب ہر طرح کے اسٹریٹ فوڈ کا ہب بن گئی ہے۔ کسی زمانے میں کاشی کے معنی ہوتے تھے ٹوٹی پھوٹی تنگ گلیاں، اکہری سڑکیں، جگہ جگہ گندگی، کچرے کے ڈھیر، سائیکل رکشوں کی سست رفتار، پان کھا کر آڑی بازی کرتے لوگ۔ اس میں سب شامل تھے، کیا ہندو اور کیا مسلمان۔ ٹریفک سسٹم کا تو بہت برا حال تھا۔ چوراہوں پر نہ پولیس ہوتی تھی اور نہ سگنل۔ اس وجہ سے جب چاہے تب اور جہاں دیکھیے وہیں جام لگ جاتا تھا۔ اس جام کے سبب کہیں آنا جانا ناممکن سا لگتا تھا۔ لیکن اب کاشی کے معنی بدل گئے ہیں، یا بدل رہے ہیں۔ اب کاشی کی گلیوں میں پتھر کے سلیقے دار چوک بچھے ہوئے ہیں۔ پان کی پیک سے ہر وقت رنگی رہنے والی گلی کی دیواروں پر کاشی کی کتھا کی تصویری جھلک بنا دی گئی ہے۔ شہر کی کئی اکہری سڑکوں نے اب 4 لین کی شکل اختیار کر لی ہے۔


مندر والے علاقوں کی سڑکوں یا گلیوں میں 2 سے 3 بار صفائی ہونے کے باعث اب کچرا نظر نہیں آتا۔ گھاٹ کنارے اور گنگا کی تھوڑی صفائی نے کاشی کی صورت تو بدل ہی دی ہے۔ دراصل کاشی 2 حصوں میں منقسم ہوا ہے۔ ایک ہے پکّا محل، اور دوسرا ہے کچا محل۔ پکا محل یعنی پرانا بنارس۔ پکا محل یعنی پختہ مکانوں کا محلہ۔ اس میں سناتنی لوگ رہتے ہیں۔ کچا محل میں کسی زمانے میں مکان کچے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں بنارسی ساڑی بُننے کے لومز یعنی ہتھ کرگھے چلتے تھے۔ ظاہر ہے یہ محلہ مذہب اسلام ماننے والے لوگوں کا ہے۔ لیکن اب ہتھ کرگھوں کی جگہ پاور لومز نے لے لی ہے تو یہاں کے مکان بھی اب پختہ ہو گئے ہیں۔ یعنی گلیوں اور سڑکوں میں بہتری ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ کاشی میں پہلے بائی پاس، فلائی اوور یا رِنگ روڈ کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن اب یہ سب حقیقت ہے۔ آنے والے سال میں کاشی وشوناتھ کوریڈور اور گنگا گھاٹ تک جانے والی کئی تنگ گلیوں کو چوڑا کر 4 لین سڑک بنانے کی منصوبہ بندی پر کام چل رہا ہے۔ ان گلیوں کے سینکڑوں مکانوں کو معاوضہ دے کر خالی کرائے جانے کا کام جاری ہے۔ ان میں سب سے اہم دال منڈی کا علاقہ ہے۔ دال منڈی شہر کے سب سے بڑے تجارتی مراکز میں سے ایک ہے۔ دالمندی کی گلی تاریخی ہے اور اس گلی میں ہر روز کا ٹرن اوور کروڑوں روپے کا ہے۔ دال منڈی کی چوڑائی کو لے کر بنارس کے ایک طبقے میں ناراضگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اس علاقے کے باشندے مسلمان ہیں اسی لیے اس خطے کے مکانوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ زمینی حقیقت دیکھیں تو اس علاقے کے بیشتر مکانات ایک خاص طبقہ کے ہیں، لیکن دال منڈی میں ہونے والے کاروبار میں 50 فیصد سے زیادہ شراکت دوسرے طبقے کی بھی ہے۔ دال منڈی میں کاسمیٹک سامان سے لے کر ہر طرح کی اشیا کی تھوک اور خوردہ فروخت کے سہارے بنارس کے دوسرے بازار آباد ہیں۔ اب جب مکان ہی نہیں رہیں گے تو یہاں کا بازار اجڑ کر کہاں جائے گا، اس کو لے کر دونوں ہی طبقات کے لوگ کشمکش میں ہیں۔

کاشی میں ترقی کی ہوا اب گھاٹ کنارے منی کرنیکا تک پہنچ گئی ہے۔ منی کرنیکا پر شمشان کے لیے 38 نئے طرح کے پلیٹ فارم بنائے جا رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر اونچی اونچی چمنیاں لگائی جا رہی ہیں۔ منی کرنیکا گھاٹ کے پھیلاؤ کے لیے وہاں کی پرانی ’مڑھیوں‘ کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ مڑھی یعنی پجاریوں کے بیٹھنے کی جگہ۔ وہاں کے لکڑی کے کاروبار کو بھی سرکاری نظام کے تحت لانے کی بات ہے۔ منی کرنیکا پر اجتماعی عمارت، اجتماعی بیت الخلا اور ہر طرح کی سہولتوں کے لیے نئی عمارتیں بنانے کا منصوبہ ہے۔ سرکاری نظام کا کہنا ہے کہ یہ سب چیزیں شمشان کے لیے آنے والے لوگوں کی سہولت کے لیے کی جا رہی ہیں۔ لیکن کاشی کے پرانے باشندے منی کرنیکا پر ترقی کی نئی ہوا چلائے جانے سے ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے عزیز کے شمشان کے لیے آنے والے لوگ اس طرح کی سہولتوں کے کبھی خواہش مند نہیں رہے۔ جو شخص خاندان میں کسی کی موت کے غم میں ہو وہ کب اور کیوں کسی طرح کی سہولت چاہے گا۔ شمشان کے لیے لکڑی کے دام کو لے کر بحث ہو سکتی ہے لیکن وہ وہاں کے کاروباریوں کو ہٹائے جانے کے خلاف ہیں۔ رہی بات سُلبھ بیت الخلا کی تو کاشی میں گنگا کنارے قضائے حاجت کو گناہ مانا جاتا ہے۔ ایسے میں کون چاہے گا کہ منی کرنیکا پر بیت الخلا بنے۔ ویسے لوگوں میں یہ گفتگو عام ہے کہ منی کرنیکا پر واقع ایک آشرم کے مہنت کو سہولت دینے کے لیے منی کرنیکا کی ترقی کی بات کی جا رہی ہے۔ مہنت صاحب اقتدار کے قریب ہونے کے باعث کاشی کے روایتی قدیم مہاشمشان کو وہاں سے ہٹوانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ بہرحال بنارس کے سیاحت افسر نے پچھلے دنوں ایک بیان جاری کر کہا ہے کہ کاشی کے ٹور پیکیج میں جلد ہی منی کرنیکا کا نام بھی شامل ہونے والا ہے۔ کاشی آنے والے ملکی غیر ملکی سیاحوں کو مہاشمشان منی کرنیکا کی سیر کرائی جائے گی۔ ’موکش‘ دینے والے ٹور کے لیے مہاشمشان کو ہر طرح کی سہولتوں سے لیس کیا جا رہا ہے۔ اگلے کچھ دنوں میں منی کرنیکا کی شکل ہی بدل جائے گی۔ تو ایسے میں ’موکش‘ دینے والی کاشی اب دھرم نگری سے زیادہ سیاحتی نگری ہو جائے گی۔


ویسے بنارس اس وقت پریاگ راج کے ماگھ میلے سے لوٹ رہے یاتریوں کے الٹے بہاؤ سے پریشان ہے۔ بنارس کا یہ عام مسئلہ رہا ہے۔ ٹریفک جام یہاں معمول کی بات ہے۔ ایسے میں کاشی میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے ’روپ وے‘ شروع کیا جانے والا ہے۔ وارانسی جنکشن اسٹیشن سے دشاشومیدھ گھاٹ کے درمیان چلنے والے اس ’روپ وے‘ میں 148 جھولے چلیں گے۔ ہر جھولے میں 18 لوگ سوار ہو سکیں گے۔ ’روپ وے‘ کے پانچ اسٹیشن ہوں گے۔ ان کی تعمیر جاری ہے۔ آنے والے کچھ مہینوں میں یہ شروع ہو جائیں گے۔ ان پانچوں اسٹیشنوں کو چھوٹا موٹا مال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کاشی میں سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے یہاں ہوٹل انڈسٹری کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ گلی گلی میں ہوم اسٹے یا گیسٹ ہاؤس کھل گئے ہیں۔ شہر کے باہری علاقے میں انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم بننے کے ساتھ ہی کاشی میں بڑے بڑے ہوٹلوں کی قطار لگ گئی ہے۔ تاج، رماڈا اور ریڈیسن جیسے اسٹار ہوٹل پہلے سے ہی تھے لیکن اب ہاسپیٹیلٹی بزنس کے ان بڑے کھلاڑیوں نے کاشی کے گنگا کنارے کی قدیم عمارتوں کو خرید کر انہیں وراثتی انداز دیتے ہوئے اپنے قدم پھیلا دیے ہیں۔ کاشی میں ہوٹل صنعت کو پھلتا پھولتا دیکھ ملک کے کئی شاہی خاندانوں نے بھی گھاٹ کنارے کی اپنی تاریخی وراثتوں کو ہوٹل کی شکل دینا شروع کر دیا ہے۔ تاج ہوٹل نے رام گھاٹ میں کئی ایکڑ میں پھیلے مہتا اسپتال کو خرید کر تاج اونتیکا بنا دیا۔ اسی طرح سندھیا خاندان نے منی کرنیکا گھاٹ کے پاس واقع اپنے گنگا محل کو ہوٹل بنانے کی پہل کر دی ہے۔ آنے والے کچھ مہینوں میں یہ ہوٹل اپنا کام شروع کر دے گا۔ گنگا محل میں لکشمی نارائن کا قدیم مندر واقع ہے۔ قدیم پنچ گنگا گھاٹ پر واقع سندھیا خاندان کے ہی ایک اور بالا جی مندر کو بھی ہوٹل بنائے جانے کی پہل کی جا رہی ہے۔


گنگا گھاٹ کنارے کے ہوٹلوں تک سیاحوں کو لانا پہلے کچھ مشکل ہوتا تھا لیکن اب سرکاری پہل نے اسے آسان بنا دیا ہے۔ فی الحال تو سیاحوں کو ایئرپورٹ سے کاشی کے آخری گھاٹ ’نمو گھاٹ‘ تک سڑک کے راستے لایا جا رہا ہے۔ پھر وہاں سے اسٹیمر یا کروز کے ذریعے متعلقہ ہوٹل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ لیکن جلد ہی ایئرپورٹ سے ہیلی کاپٹر سروس شروع کی جا رہی ہے جو نمو گھاٹ تک پرواز بھرے گی، اور پھر آگے اسٹیمر یا کروز۔ اس کے لیے نمو گھاٹ پر تین ہیلی پیڈ بنائے گئے ہیں۔ کاشی کے 84 گھاٹوں کی سیر کرانے کے لیے سینکڑوں اسٹیمر اور کشتیوں کے علاوہ اس وقت ایک درجن کروز بھی کاشی میں چل رہے ہیں۔ کاشی سے گنگا ساگر تک باقاعدہ کروز سفر کے منصوبے پر بھی کام چل رہا ہے۔

درحقیقت کاشی وشوناتھ کوریڈور بننے کے بعد سے کاشی کی شکل ہی بدل گئی ہے۔ کاشی، گیا، پریاگ کے تیرتھ یاترا پیکیج میں اب ایودھیا کا نام بھی شامل ہو جانے سے یہاں ملک و بیرون ملک کے سیاحوں کی بھیڑ بڑھ گئی ہے۔ وندھیاچل کوریڈور بن جانے کے بعد سے اس بھیڑ میں اور اضافہ ہوا ہے۔ کاشی میں جلد ہی کال بھیرو کوریڈور شروع ہونے والا ہے۔ یہ کوریڈور کال بھیرو سے شروع ہو کر کاشی کے بیکنٹھ لوک کہلانے والے بندو مادھو مندر تک جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ وہی بندو مادھو مندر ہے جسے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے منہدم کر کے عالمگیر کی مسجد بنوا دی تھی۔ اگر اس سال کاشی کال بھیرو کوریڈور بننا شروع ہو گیا تو تیرتھ یاترا کو نیا رخ ملے گا۔ سیاحت کی صنعت میں اضافہ دیکھ کر کاشی کا نظام تو خوش ہے، لیکن کاشی کے لوگ اس سے ناخوش ہیں۔ عام بنارسیوں کا کہنا ہے کہ ترقی کی لہر میں ان کا شہر کہیں کھو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے تمام ریلز اور میمز اس شہر کی حقیقت نہیں ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔