نجی گھر میں نماز، پھر بھی اعتراض؟ عقیدے کے احترام کا سوال...پربھات سنگھ
سفر اپنی جگہ اور مسافر کی آستھا، اس کی عقیدت اپنی جگہ۔ یہ نیو نہیں تھا، نارمل تھا۔ وہ سماج اور لوگ تھے جن میں ہماری پرورش ہوئی، جہاں ایک دوسرے کی عبادت میں خلل نہ ڈالنا تہذیب سمجھا جاتا تھا

میڈیا کی سنسنی خیز خبروں کی بھوک اور سوشل میڈیا سے ملنے والی اس کی غذا نے ایسا منظرنامہ تشکیل دے دیا ہے کہ صحیح اور غلط، جائز اور ناجائز، معمولی اور اہم، سب کچھ گڈمڈ ہو کر محض سنسنی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ عام طور پر امن پسند سمجھا جانے والا ہمارا شہر بریلی بھی اب اسی زد میں ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے بشارت گنج کا ایک چھوٹا سا گاؤں محمد گنج خبروں میں ہے۔ مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، ہر کسی کے پاس کچھ نہ کچھ بتانے کو ہے اور بتایا بھی جا رہا ہے۔ اس بار زیرِ بحث نماز ہے۔
واقعہ 16 جنوری کا ہے۔ گاؤں میں حسین خاں کے خالی گھر میں گاؤں کے ہی چند لوگ جمعہ کے دن نماز ادا کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تیج پال نامی ایک شخص نے گھر میں داخل ہو کر نماز ادا کرتے لوگوں کی ویڈیو بنائی، اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور پھر لوگوں نے پولیس سے شکایت کر دی کہ ایک عارضی مدرسہ قائم کر کے وہاں نماز پڑھائی جا رہی ہے۔ بعد ازاں سب انسپکٹر انیس احمد نے ویڈیو کی بنیاد پر شناخت کرتے ہوئے 15 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور 12 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کو آنولا میں ایس ڈی ایم کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
محمد گنج، بھنڈورا گاؤں کا ایک مضافاتی حصہ ہے، جہاں کی آبادی ایک ہزار سے بھی کم ہے اور جہاں مسلمانوں کے کل بیس بائیس گھر ہیں۔ نہ جانے کتنے عرصے سے ساتھ رہتے آئے اس گاؤں کے لوگوں کو تو شاید یہ بات معلوم نہ ہو، مگر حیرت ہے کہ میڈیا کے ماہرین کو بھی عبادت گاہ اور درس گاہ کے فرق کی سمجھ نہیں۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں بھی یہی شور ہے کہ خالی مکان پر قبضہ کر کے اسے مدرسے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں صوبے میں مدارس کے خلاف جو ماحول بنایا گیا ہے، اس کا اثر عام آدمی کی سوچ پر بھی پڑا ہے۔ مدارس اب تعلیم کی جگہ نہیں بلکہ خوف کی علامت بنا دیے گئے ہیں۔
محمد گنج کے معاملے میں غلط فہمیوں کا یہ سلسلہ پچھلے مہینے اس وقت شروع ہوا جب محمد طارق کے گھر کی تعمیر ہو رہی تھی۔ 21 دسمبر کو بھٹے سے اینٹیں لے کر گاؤں آنے والے تانگے والے نے کسی سے پتا پوچھتے ہوئے کہہ دیا کہ جہاں مدرسہ بن رہا ہے، وہاں اینٹیں پہنچانی ہیں۔ اسی بات نے گاؤں میں چہ میگوئیاں تیز کر دیں۔ کچھ لوگ اس کی شکایت لے کر آنولہ میں ایس ڈی ایم کے پاس پہنچ گئے۔ اگلے روز، یعنی 30 دسمبر کو، ایس ڈی ایم نے موقع پر جانچ کے لیے لیکھ پال اور قانون گو کو بھیج دیا۔
طارق نے تحریری طور پر وضاحت دی کہ وہ جانوروں اور بھوسے کے لیے ایک ہال تعمیر کر رہے ہیں، مدرسے کے لیے نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھ کر دیا کہ آئندہ اگر کبھی اس ہال کا استعمال کسی مذہبی سرگرمی کے لیے ہوا تو کسی بھی قانونی کارروائی کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
گاؤں میں کشیدگی کا ایسا ہی ایک واقعہ تیس برس قبل بھی پیش آ چکا ہے۔ سن 1995 میں رمضان کے مہینے میں گرام سبھا کی عوامی زمین پر نماز ادا کیے جانے پر تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ چند لوگوں کے اعتراض پر گاؤں کے شکیل خاں، رحمت خاں، شرافت خاں اور انتظار وغیرہ نے یقین دہانی کرائی کہ عید کے بعد وہاں نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ اس پر باہمی رضامندی ہو گئی۔ 15 مارچ کو ڈی ایم اور ایس ایس پی کو ایک درخواست دے کر گاؤں والوں نے کہا کہ کچھ لوگ اب بھی گرام سبھا کی خالی زمین پر نماز پڑھ رہے ہیں اور منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتے۔ گاؤں کے امن کا حوالہ دیتے ہوئے بغیر اجازت نئی مذہبی سرگرمیوں کو روکنے کی اپیل کی گئی۔
تیس سال پہلے کا معاملہ عوامی جگہ کے استعمال سے متعلق تھا، لیکن حالیہ واقعہ تو ایک ذاتی مکان کے اندر کا ہے—بالکل نجی جگہ۔ مکان مالک حسین خان کے بھائی کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا کہ لوگوں نے ان کی اجازت سے وہاں نماز ادا کی تھی۔ 1995 کی باہمی رضامندی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی گاؤں میں نہ کوئی مندر ہے، نہ مسجد۔ امام نوشاد کے مطابق وہ گزشتہ 22 برسوں سے نماز پڑھاتے آ رہے ہیں۔ چونکہ جمعہ کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، اس لیے گاؤں کے لوگ اجازت لے کر کسی کے خالی گھر میں نماز پڑھتے رہے ہیں۔ اس بار بھی اجازت لی گئی تھی۔ البتہ گھر میں گھس کر ویڈیو بنانے والوں نے کسی سے اجازت نہیں لی۔ اور پھر وہی ہوا جسے اب ’نیو نارمل‘ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
میری نسل اور اس کے بعد کی نسل کے بہت سے لوگوں کو آج بھی یاد ہوگا کہ سفر کے دوران، چاہے سڑک پر ہوں یا ٹرین میں، اگر کوئی نمازی وقت ہونے پر وضو کر لیتا تو دو برتھ کے درمیان کپڑا بچھا کر نماز ادا کر لیتا تھا۔ آس پاس کے مسافر کچھ دیر کے لیے خود کو سمیٹ لیتے تاکہ عبادت میں خلل نہ پڑے۔ کہیں راستے میں ہوتے تو کسی درخت کے سائے یا کھلی جگہ پر جائے نماز بچھا لی جاتی۔ اسی درخت کے نیچے کہیں سندور میں لپٹی کوئی پوٹلی، پھول یا بجھے دیے بھی رکھے مل جاتے۔ اور اگر کوئی بزرگ مالا پھیرتے یا جاپ کرتے مل جاتے تو انہیں بھی اسی احترام کے لائق سمجھا جاتا۔ سفر اپنی جگہ، اور مسافر کی آستھا، اس کا عقیدہ اپنی جگہ۔ یہ ’نیو‘ نہیں تھا، یہی ’نارمل‘ تھا۔ یہی وہ سماجی اقدار تھیں جن میں ہماری پرورش ہوئی۔ شاید سماجی اقدار اور سیاسی اقدار میں بنیادی فرق بھی یہی ہے۔
چند برس قبل دہلی، گروگرام اور ملک کے دیگر حصوں میں عوامی مقامات پر نماز کے معاملے پر جو ہنگامے ہوئے، ان کے دوران یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سکھوں نے اپنے گردوارے اور کئی ہندوؤں نے اپنے گھر نمازیوں کے لیے کھولنے کی پیشکش کی۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی بلکہ ہماری مشترکہ وراثت کا حصہ ہے۔ نیہا دکشت نے اپنی دستاویزی کتاب ’کوئی ایک سعیدہ‘ میں دہلی کے کراول نگر علاقے کی شری رام کالونی کے واحد پارک پر قبضے کی تفصیل بیان کی ہے۔ یہ پارک شادی بیاہ، منڈن، جنم دن، دسہرہ پر رام لیلا اور راون کے پتلے جلانے کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور رمضان و عید کے مواقع پر وہاں نماز بھی ادا کی جاتی تھی۔ مگر کچھ سیاست دانوں کو یہی بات کھلنے لگی۔ 2015 کی عید پر وہاں ایک بڑا سیاسی پروگرام رکھا گیا—اور اس کے مضمرات کسی سے پوشیدہ نہیں۔
محمد گنج میں نہ مندر ہے، نہ مسجد، نہ مدرسہ—البتہ ایک پرائمری اسکول ضرور ہے۔ اسی اسکول کے میدان میں بدھ سے اکھنڈ رامائن کا پاٹھ شروع ہوا، جمعرات کی شام پاٹھ مکمل ہونے کے بعد بھنڈارے کا اہتمام کیا گیا۔ گاؤں اور آس پاس کے لوگوں نے پرساد پایا۔ بتھری چین پور سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر راگھویندر شرما بھی بھنڈارے میں شریک ہوئے۔ گاؤں والوں نے ان سے مل کر داروغہ انیس احمد کی شکایت کی اور کہا کہ وہ جان بوجھ کر جانبداری برت رہے ہیں اور گھر میں جمع ہو کر نماز پڑھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کر رہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔