لائبریری سے محروم جعفر آباد میں مسلم طلبا کی پریشانی سمجھنے والا کوئی نہیں

لائبریری نہ ہونے کی اہم وجہ جگہ کی کمی بتائی جاتی ہے، لیکن اس میں سچائی کم ہی ہے۔ شراب کی دکان، پولس اسٹیشن، ڈاک گھر وغیرہ کے لیے جگہ کی ضرورت ہوتی ہے تو مل جاتی ہے، پھر لائبریری کے لیے کیوں نہیں!

نئی دہلی (محمد تسلیم ): مشرقی دہلی کے جعفر آباد میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے اور ان میں طلبا کی تعداد بھی کثیر ہے۔ افسوسناک یہ ہے کہ اس علاقے میں لائبریری کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لائبریری کی اس عدم دستیابی کے سبب طلبا کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ بچوں کو گھر کے ہنگاموں کے درمیان پڑھائی کا ماحول نہیں مل پاتا، اس لیے انھیں پرسکون ماحول کی تلاش ہوتی ہے جو لائبریریز میں ہی ممکن ہے۔ یہی سبب ہے کہ بچوں کو دوسرے علاقے میں موجود لائبریریز سے استفادہ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ لائبریریز دور ہونے کے سبب آمد و رفت میں وقت اور پیسہ دونوں کا زیاں ہوتا ہے۔ متوسط طبقہ کے بچوں کے لیے یہ خرچ برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

جعفر آباد میں لائبریریز کی عدم موجودگی کے تعلق سے ’قومی آواز‘ کے نمائندہ نے علاقہ کےمشہور سماجی کارکن اور دانشور ڈاکٹر فہیم بیگ سے بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ’’جعفرآباد مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور یہاں تعلیمی اداروں کی کمی و لائبریری کی غیر موجودگی سے اس طبقہ کے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ ہمارے علاقہ کے جو بچے گریجو یشن ،ایم اے ،بی ٹیک اور ایس یس سی وغیرہ کی تیا ری کر رہے ہوتے ہیں تو ان کو لائبریری کی اشد ضرورت ہوتی جس سے جعفر آباد محروم ہے۔ اس محرومی کے سبب طلبا کو مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے۔‘‘ شمع ایجوکیشنل اینڈ پولی ٹیکنک سوسائٹی کے جنرل سکریٹری فہیم بیگ مزید بتاتے ہیں کہ ’’انتخابی موسم میں مختلف پارٹیوں کے لیڈران یہ وعدہ ضرور کرتے ہیں کہ فتحیابی کے بعد علاقہ میں لائبریری کا قیام عمل میں آئے گا، لیکن انتخابی نتیجہ برآمد ہونے کے بعد وعدہ کھوکھلا ثابت ہوتا ہے۔ افسوسناک یہ ہے کہ علاقے میں جو اسکول موجود ہیں ان میں بھی لائبریریز منظم نہیں ہیں۔‘‘

علاقے میں لائبریری نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ پریشان طالبات ہوتی ہیں جو اپنے گھر سے زیادہ دور نہیں جا پاتیں۔ تنگ گھروں میں اور گھریلو ہنگاموں کے بیچ رہ کر ہی انھیں اپنی پڑھائی کرنی ہوتی ہے۔ حالانکہ جعفر آباد میں ذاکر حسین اسکول، زینت محل اسکول، سروودے بال ودیالیہ سمیت کئی اردو میڈیم اسکول ہیں اور اگر یہاں اس علاقے میں لائبریری بھی ہوتی تو یقیناً اردو زبان کے فروغ میں آسانیاں میسر ہوتیں۔

کئی مقامی لوگ علاقے میں لائبریری نہ ہونے کی اہم وجہ جگہ کی کمی بتاتے ہیں، لیکن اس میں سچائی کم ہی ہے۔ شراب کی دکان، پولس اسٹیشن، ڈاک گھر وغیرہ کے لیے جگہ کی ضرورت ہوتی ہے تو عوامی نمائندہ کی رضامندی سے کوئی نہ کوئی جگہ دستیاب ہو جاتی ہے، لیکن جب لائبریری کی بات آتی ہے تو کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملتی۔ حد تو یہ ہے کہ جعفر آباد کے ایک بڑے مدرسہ نے اپنی جگہ کرایہ پر ’جِم‘ (ورزش کی جگہ) کے لیے دے رکھی ہے، حالانکہ علاقے میں کئی جِم جگہ جگہ کھلے ہوئے ہیں۔ اس تعلق سے جعفر آباد کے موجودہ کونسلر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ’’مدرسہ کی جگہ جِم کے لیے کرایہ پر دی گئی ہے جو مایوس کن ہے۔ پہلے اس جگہ پر کمپیوٹر سنٹر چلتا تھا جس سے علاقہ کے متوسط طبقہ کے بچے استفادہ کر رہے تھے اور اسے جاری رہنا چاہیے تھا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’علاقے میں لائبریری قائم ہونا ضروری ہے تاکہ علاقے میں علم کی شمع روشن ہو اور علم کے پروانے اس سے استفادہ کریں۔ ہمارے لیے سب سے بڑی مشکل جگہ کا نہ ہونا ہے اور اس تعلق سے ہم نے کئی بار کوششیں بھی کی ہیں۔ ہم نے چوہان پانگر کے ایم سی ڈی اسکول میں لائبریری کھولنے کا منصوبہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سامنے پیش کیا تھا لیکن انھوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ صرف اسکول کے بچوں کے لیے لائبریری دے سکتے ہیں۔‘‘

عبدالرحمن نے جعفر آباد میں زینت محل اسکول کے بغل میں نہر کوٹھی (جو پیلی کوٹھی کے نام سے بھی مشہور ہے) کی زمین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کافی بڑی جگہ ہے جو اتر پردیش کے ایریگیشن اینڈ واٹر ریسورس ڈپارٹمنٹ کی ہے۔ ہم نے اس ڈپارٹمنٹ کے افسران سے زمین خریدنے کے تعلق سے بات کی لیکن انھوں نے منع کر دیا۔ گزشتہ دنوں یہاں کی 3400 گز زمیں ڈی ایم آر سی کو فروخت کر دی گئی۔ اگر یہ زمین ہمیں مل جاتی تو کئی سارے مسائل حل ہو جاتے۔ یہاں اولڈ ایج پارک، ڈسپنسری، لائبریری وغیرہ بنانے کا ارادہ تھا۔‘‘

’قومی آوازہ‘ کے نمائندہ نے جب جعفر آباد میں لائبریری کی غیر موجودگی پر رائے لینے کے مقصد سے طلبا سے بات کی تو کئی طرح کی باتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ ایس ایس سی کی تیاری کر رہے فاروق کہتے ہیں کہ ’’مسلمانوں میں تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے جو بہت اچھی بات ہے، لیکن لائبریری کی کمی کی وجہ سے طلبا کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا کو کچھ زیادہ ہی مسائل کا سامنا ہے۔‘‘ ایک دیگر طالب علم فرمان ادریسی کا کہنا ہے کہ ’’لائبریری ہوگی تو بچوں کو تعلیم کا اچھا ماحول ملے گا۔ جو بچے پڑھنے میں بہت زیادہ تیز نہیں ہوں گے انھیں بھی اس میں دلچسپی پیدا ہوگی، خصوصاً متوسط طبقہ کے طلبا کو آسانیاں میسر ہوں گی۔‘‘

اردو میں بی ایڈ کر رہے محمد شعیب بھی جعفر آباد میں لائبریری کی عدم دستیابی سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’گھر پر جگہ کم ہونے کی وجہ سے مجھے اپنی پڑھائی میں پریشانی ہوتی ہے۔ کالج میں مطالعہ کا کام ضرور ہو جاتا ہے لیکن جب کالج کی چھٹیاں ہوتی ہیں تو مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر علاقے میں لائبریری ہو تو اس طرح کے مسائل کھڑے نہ ہوں۔‘‘ کئی طالب علم لائبریری نہ ہونے کے لیے سماجی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں غیر سنجیدہ اور لاپروا ہیں جو باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں لیکن وقت پر مناسب قدم نہیں اٹھاتے۔ وہ صرف اپنی روٹی سینکتے ہیں۔ مقامی طلبا محمد راحل اور عامر انصاری کہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو اس تعلق سے غور و خوض کرنا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ وہ ایک ایسی لائبریری قائم کریں جہاں تاریخی و دینی سمیت ہر نوعیت کی کتابیں موجود ہوں۔ جعفر آباد میں ایک اعلیٰ معیاری لائبریری کا قیام نہ صرف یہاں کے طلبا کو عروج بخشے گا بلکہ جعفر آباد کو بھی شہرت دوام عطا کرے گا۔

سب سے زیادہ مقبول