فکر و خیالات

گھبرائی بی جے پی ’ہندو-مسلم‘ کارڈ کھیلنے لگی... سہیل انجم

ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ بساہڑہ گاؤں میں یوگی کی ایک ریلی کے دوران سامعین کی پہلی صف میں ایک ایسے شخص کو جگہ دی گئی جو اخلاق کو مارنے کا ملزم ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

جوں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں بی جے پی رہنماؤں کی گھبراہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کے عوام اور غریب حامی اعلانات نے ان لوگوں کو اول فول بکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو ہندو دہشت گردی کا مسئلہ اٹھا کر کانگریس کو بدنام کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔

راہل گاندھی جس طرح پرزور انداز میں اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اس کی توقع بی جے پی لیڈروں کو نہیں تھی۔ کانگریس صدر نے جب ملک کے غریب عوام کے لیے 72 ہزار روپے سالانہ کی ’’نیائے اسکیم‘‘ کا اعلان کیا تو بی جے پی لیڈروں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اسے ایک گمراہ کن اعلان بتانے کی کوشش کی جانے لگی اور یہ بھی کہا جانے لگا کہ اس سے معیشت کو گہرا دھچکہ لگے گا۔ لیکن جب کانگریس کی جانب سے یہ وضاحت آئی کہ اس کے بارے میں بڑے بڑے ماہرین معیشت یہاں تک کہ ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن سے بھی مشورہ کیا گیا ہے اور یہ کہ یہ اعلان محض یوں ہی آناً فاناً نہیں کر دیا گیا ہے بلکہ اس پر چھ ماہ تک غور خوض کیا گیا اور اس کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا گیا ہے تو بی جے پی کی مہم اپنی موت آپ مر گئی۔

اس اعلان سے ملک میں غریبی کے خاتمے کے امکانات پر بحث کا آغاز ہو گیا۔ خود رگھو رام راجن نے اور پھر دوسرے ماہرین معیشت نے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا اور کہا کہ اگر اس پر کام کیا جائے تو اس سے ملک کے غریبوں کی زندگی بدل جائے گی اور ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ جب بی جے پی نے دیکھا کہ معاملہ الٹا ہو رہا ہے اور اس سے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے تو وزیر اعظم مودی نے ایک اور ڈرامہ کر ڈالا۔

انھوں نے اگلے روز ہی یہ اعلان کیا کہ وہ بارہ سوا بارہ بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ اب پورے ملک کی سانسیں تھم گئیں۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کہیں نوٹ بندی جیسا پھر کوئی اعلان تو نہیں ہونے والا ہے۔ قیاس آرائیاں ہونے لگیں اور نیوز چینلوں کو ایسا لگا کہ ایک بہت بڑا ہتھیار ہاتھ میں آگیا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ مودی جی الیکشن کا رخ پلٹ دینے والے ہیں اور ایسا اعلان کرنے جا رہے ہیں کہ فضا بی جے پی کے حق میں ہموار ہو جائے گی۔

لیکن جب وہ آئے تو کھودا پہاڑ نکلی چوہیا والا معاملہ سامنے آیا۔ انھوں نے اپنے ہی ایک سیٹلائٹ کو مار گرانے کا دعویٰ اس انداز میں کیا کہ جیسے کسی دشمن ملک کا سیٹلائٹ آرہا تھا اور اسے مار گرایا گیا ہے۔ حالانکہ اسے مار کر گرایا نہیں گیا بلکہ اسے تباہ کیا گیا۔ اور اب اس کا ملبہ روئے زمین پر گرنے والا ہے۔ دیکھیے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ لیکن نیوز چینلوں نے پورے دن ایسی بحث کی کہ جیسے کیا ہو گیا ہے۔

لیکن مودی کا یہ حربہ بھی کام نہیں آیا اور عوام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ مودی کے خلاف جو فضا بن گئی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اب کیا کریں۔ اب تو ہندو مسلم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔ لہٰذا سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ معاملے میں آئے فیصلے کو الگ رنگ دینے کی کوشش شروع ہو گئی۔

اس فیصلے میں ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے۔ ملزمان کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ جب سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکہ ہوا تھا تو اس وقت مرکز میں یو پی اے کی حکومت تھی۔ دو وزرا پی چدمبرم اور سشیل کمار شنڈے نے اور اس وقت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنہا نے جو کہ اس وقت بی جے پی میں ہیں اسے ہندو دہشت گردی قرار دیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ تمام کے تمام ملزمان ہندوتو وادی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں اور ان کا گرو گھنٹال آر ایس ایس ہے۔

ان کے اس اعلان کے بعد بی جے پی اور آ رایس ایس نے ہنگامہ شروع کر دیا تھا۔ اتنا شور کیا گیا کہ رفع شر کے لیے دونوں وزرا نے اپنے بیانات واپس لے لیے۔ لیکن اب الیکشن میں اسی کو اچھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے ’’بلاگ منتری‘‘ ارو جیٹلی نے کہا کہ کانگریس نے ہندو دہشت گردی کا الزام لگایا تھا لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں معاملہ صاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ اور یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی یہی بات کہی ہے۔ اب یہی الزام وزیر اعظم مودی نے بھی کانگریس پر لگا دیا ہے۔ ان تمام لوگوں نے کانگریس کو ہندو مخالف بتانے کی کوشش شروع کر دی ہے تاکہ ہندووں کو اس سے برگشتہ کیا جائے اور اپنے حق میں ہموار کیا جائے۔

لیکن ان لیڈروں کی بے ایمانی دیکھیے کہ جہاں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت نے ملزموں کو بری کر دیا ہے وہیں فیصلہ سنانے والے جج جگدیپ سنگھ کے ان رنجیدہ بیانات کو نظرانداز کر رہے ہیں جن میں این آئی اے کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔

جج نے اپنے فیصلے میں این آئی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ اس نے اہم ثبوت پیش ہی نہیں کیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ انتہائی رنج اور تکلیف کے ساتھ لکھ رہے ہیں کیونکہ اتنے بڑے دہشت گردانہ واقعہ کے ملزمام بغیر سزا کے چھوٹ جا رہے ہیں۔ انھوں نے جس طرح این آئی اے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے وہ اپنے آپ میں یہ دکھاتا ہے کہ جان بوجھ کر ان ملزموں کو رہا کرایا گیا ہے۔

لیکن بی جے پی لیڈروں کو فیصلے کے اقتباسات نظر نہیں آتے۔ وہ اس کا تو پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ کانگریس نے ہندو دہشت گردی کا الزام لگایا تھا اور اب عدالت نے معاملہ صاف کر دیا ہے۔ لیکن یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ جج صاحب نے اپنے فیصلے میں کیا کیا کہا ہے۔ بی جے پی کو اس سے مطلب نہیں ہے۔ وہ تو اپنے کام کی چیزیں لے لیتی ہے باقی کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔

ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ بساہڑہ گاؤں میں جہاں محمد اخلاق کو بیف کے نام پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا وہاں یوگی کی ایک ریلی میں سامعین کی پہلی صف میں ایک ایسے شخص کو جگہ دی گئی جو اخلاق کو مارنے کا ملزم ہے۔ اس کا مقصد بھی ہندووں کو خوش کرنا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنانا ہے۔

بہر حال بی جے پی کو اب کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کیا جائے اس لیے سب سے آسان طریقہ ہندو مسلم نفرت کے بیج بونا ہے۔ لیکن بی جے پی کو سمجھ لینا چاہیے کہ عوام اس کے اس کھیل سے واقف ہو چکے ہیں او راب وہ اس جال میں پھنسنے والے نہیں ہیں۔

Published: 2 Apr 2019, 8:10 PM