بہن صائمہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے نوازالدین، نہیں کر پائے آخری دیدار

صائمہ صدیقی بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی کی سب سے چھوٹی بہن تھی۔ والد کی موت کے بعد نواز اپنی بہن صائمہ کا بہت خیال رکھتے تھے اور اپنی بیٹی کی طرح محبت کرتے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

2015 میں نوازالدین صدیقی کے والد نواب الدین صدیقی کا جب انتقال ہوا تھا تو نوازالدین بہت پریشان رہنے لگے تھے۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے نوازالدین کو اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا تھا۔ نواز الدین قبرستان سے لوٹ کر جب گھر آئے تو وہ صائمہ کو گلے لگا کر خوب روئے تھے۔ اب وہ صائمہ صدیقی بھی دنیا میں رہی۔ صائمہ نواز کی سب سے چھوٹی بہن تھی۔ نواز اپنے گھر میں سب سے بڑے ہیں اور والد کی موت کے بعد نواز کو یہ احساس تھا کہ اب انھیں ہی اپنے بھائی بہنوں کو سنبھالنا ہوگا، خاص کر صائمہ کو تو انھیں ابو کا پیار بھی دینا تھا۔

صدیقی خاندان کے قریبی شاہد عالم کا کہنا ہے کہ ’’اپنے والد کی موت کے بعد سے نواز بھایئ صائمہ کو لے کر کافی حساس ہو گئے تھے، حالانکہ صائمہ پورے خاندان کی سب سے چہیتی لڑکی تھی۔‘‘ صائمہ کی سہیلی طیبہ کہتی ہیں کہ ’’صائمہ نے ہائی اسکول تک کی پڑھائی بڈھانا کے عزیز فاطمہ گرلس کالج سے کیا تھا۔ بعد میں وہ دہرہ دون بھی پڑھی، 18 سال کی عمر میں اس کی فیملی کو پتہ چلا کہ صائمہ کو بریسٹ کینسر ہے۔‘‘

نواز کے بھائی فیض الدین بتاتے ہیں کہ ’’بھائی (نواز) نے ابو اور امی کو کہا تھا کہ وہ دنیا کے سب سے اچھے ڈاکٹر سے صائمہ کا علاج کرائیں گےاور اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ ہماری بہن نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ بہترین ڈاکٹر سا کا علاج کر رہے تھے۔ وہ 8 سال بہادری سے لڑی، لیکن آخر میں زندگی کی جنگ ہار گئی۔‘‘ صائمہ پونے میں فیض الدین کے ساتھ ہی رہتی تھی اور فیض ہی انھیں بڈھانہ میں دفنانے کے لیے لے کر پہنچے۔

نوازالدین اس وقت امریکہ میں ہیں۔ بڈھانہ کے نسیم احمد کا کہنا ہے کہ ’’یہ نواز الدین کے لیے بے حد تکلیف دہ ہوگا کہ جس بہن کو وہ سب سے زیادہ پیار کرتا تھا اور بیٹی سمجھتا تھا، جسے بچانے کے لیے اس نے پوری طاقت لگا دی، وہ اس کے آخری سفر میں ساتھ نہیں تھا۔‘‘ صائمہ کا نواز کی زندگی میں اثر کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نواز جب بھی پریشان ہوتے تھے تو صائمہ سے بات کرتے تھے۔ فیض بتاتے ہیں ’’وہ پورے گھر کی مسکان تھی، اس نے ہر تکلیف برداشت کی لیکن خود کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔‘‘

گزشتہ مہینے 13 اکتوبر کو نواز الدین صدیقی نے اپنے انسٹاگرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اپنی بہن کو ایڈوانس اسٹیج کے کینسر کے بارے میں بتایا تھا اور اپنی بہن کے حوصلے کی تعریف کی تھی۔ قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ نواز یہ سمجھ چکے تھے کہ اب کیا ہونے والا ہے، اس لیے وہ دعا کے لیے کہہ رہے تھے۔

صائمہ گزشتہ مہینے ہی 25 سال کی ہویئ تھی۔ 7 دسمبر کو ان کا انتقال ہوا۔ گزشہ سال جنوری میں ان کی بہن صائمہ کی شادی سہارنپور میں ہوئی تھی۔ شادی میں قریبی لوگوں نے ہی شرکت کی تھی۔ نوازالدین حالانکہ اس شادی میں ممبئی سے سیدھے شوٹنگ سے پہنچے تھے۔ نواز کی ایک اور بہن سامعہ صدیقہ بھی ہے۔ نواز نے اپنی زندگی میں بے انتہا جدوجہد کیا ہے، وہ بالی ووڈ کے سب سے بہترین اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ اس وقت امریکہ میں ہالی ووڈ کی ایک فلم کی شوٹنگ کر رہے ہیں۔ 2017 میں بی بی سی نے ان کی ماں مہرالنساء کو 100 سب سے بااثر خواتین میں شامل کیا تھا۔

Published: 9 Dec 2019, 7:45 PM