ویڈیو: ’سوچ کر اُنگلی اٹھانا، کٹ رہی ہیں اُنگلیاں‘

جب آپ نظم ’واستوک قانون‘ (حقیقی قانون) کا مکمل ویڈیو دیکھیں گے تو احساس ہوگا کہ نوین چورے ایک حساس ذہن کے مالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انجینئرنگ سے زیادہ اب ان کا دل شاعری میں لگنے لگا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

تم سوالوں سے بھرے ہو، کیا تمھیں معلوم ہے

بھیڑ سے کچھ پوچھنا بھی، جان لیوا جرم ہے

تفتیش کرنے آئے ہو، کھل کے کر لو شوق سے

فرق پڑتا ہی کہاں ہے ایک دو کی موت سے

چار دن چرچا اٹھے گی ڈیموکریسی لائیں گے

پانچویں دن بھول کے سب کام پہ لگ جائیں گے

کام سے ہی کام رکھنا، ہاں مگر یہ یاد رکھنا

کوئی پوچھے کون تھے؟ بس تمھیں اتنا ہے کہنا

بھیڑ تھی، کچھ لوگ تھے

پھر بھی گر کوئی ضد پکڑ لے، کیا ہوا، کس نے کیا؟

سوچ کے انگلی اٹھانا، کٹ رہی ہیں انگلیاں

یہ اس نظم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو آئی آئی ٹی دہلی سے کیمیکل انجینئرنگ کرنے والے نوین چورے نے ایک سال قبل لکھی اور پڑھی تھی۔ ’دی ہیبی ٹیٹ اسٹوڈیو‘ کے یو ٹیوب چینل نے اس نظم کو پڑھتے ہوئے نوین چورے کا ویڈیو 24 جولائی 2018 کو اَپ لوڈ کیا تھا۔ یہ ویڈیو پچھلے کچھ دنوں میں اچانک وائرل ہوا اور پھر ایسا ہوا کہ نوین چورے کا نام مشہور ہو گیا۔ ’مکمل‘ تخلص رکھنے والے نوین نے اپنی یہ نظم موب لنچنگ کو مرکز میں رکھ کر لکھی ہے، لیکن جس انداز سے انھوں نے اس نظم کو پڑھا ہے اور جس طرح کے الفاظ انھوں نے استعمال کیے ہیں، وہ کسی بھی ذی شعور انسان کو اندر تک جھنجھوڑ نے کے لئے کافی ہیں ۔

اس وقت ملک میں موب لنچنگ اپنے عروج پر ہے اور تبریز انصاری، پہلو خان و اخلاق جیسے ’مسلم نام‘ ہی بھیڑ کے ظلم کا شکار نہیں ہیں بلکہ دیگر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اشخاص اور دلتوں کو بھی بے وجہ اور غلط الزام لگا کر اتنی پٹائی کی جاتی ہے کہ وہ موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ ان واقعات نے نوین چورے کے ذہن کو اتنا متاثر کیا کہ وہ اپنے جذبات کو صفحہ قرطاس پر اتارے بغیر نہ رہ سکے۔ حالانکہ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے وہ خود بہت خوف میں رہتے ہیں، لیکن اس خوف کے اظہار کے لیے اپنے تجربات و احساسات کو نظم میں ڈھالنا ضروری تھا۔

’واستوک قانون‘ (حقیقی قانون) کے نام سے لکھی گئی اس نظم میں حکمراں طبقہ، بھیڑ، کٹی ہوئی انگلی، انگلی پر لگی ووٹ کی سیاہی وغیرہ لفظوں کا نہ صرف استعمال کیا گیا ہے بلکہ اس کی سوچ، ذہنیت، احساس اور بے بسی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ نوین نے یہ سب کیسے لکھا، کن چیزوں سے متاثر ہو کر لکھا اور اب وہ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جو انتہائی اہم ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے پرائم ٹائم میں انھوں نے بتایا کہ اچانک انھوں نے اس نظم کو نہیں لکھا بلکہ دھیرے دھیرے اس کے لیے ذہن تیار ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ کافی پہلے سے بھیڑ کے تشدد اور اکثریتی طبقہ کے اقلیتی طبقہ پر ہو رہے مظالم کو دیکھتا رہا، لیکن اب یہ سب کچھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور مجھے لگا کہ کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ لوگ ’موب لنچنگ‘ پر بات کریں، اس کے خلاف کھڑے ہوں۔ نوین نے اپنی باتوں کے دوران یہ بھی کہا کہ اگر آپ اکثریتی طبقہ کا حصہ ہیں تو بھی آپ یہ سوچ کر خوفزدہ رہتے ہیں کہ اگر ان کے خلاف آواز اٹھائی تو مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی۔

جب آپ اس نظم کا مکمل ویڈیو دیکھیں گے تو احساس ہوگا کہ نوین چورے ایک حساس ذہن کے مالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انجینئرنگ سے زیادہ اب ان کا دل شاعری میں لگنے لگا ہے۔ وہ شاعری لکھتے ہیں اور زوال پذیر سیاسی، سماجی اور اخلاقی اقدار کو اس کا حصہ بناتے ہیں۔ انھوں نے شاعری کو ایک ایسا ذریعہ بنانے کا عزم کر رکھا ہے جس سے اپنی بات نہ صرف عام لوگوں تک پہنچا سکیں بلکہ حل طلب مسائل حکمراں طبقہ کے سامنے بھی رکھ سکیں۔

Published: 14 Sep 2019, 1:09 PM