مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات: عوامی مسائل غائب، اڈانی اور منی پاور انتخابی سیاست پر حاوی
مہاراشٹر میں بی ایم سی سمیت 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات میں شہری مسائل نظر، جبکہ انتخابی سیاست پر اڈانی منصوبے، امیدواروں کا بلا مقابلہ انتخاب، ووٹ خریدنے جیسے موضوعات چھائے رہے

مہاراشٹر میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم منگل کی شام ختم ہو گئی، جبکہ ووٹنگ 15 جنوری کو ہوگی۔ اس انتخابی مہم کا مجموعی منظرنامہ یہ رہا کہ شہری مسائل، بنیادی سہولتوں اور مقامی انتظامیہ کی ناکامیوں پر بات کرنے کے بجائے انتخابی سیاست کا محور بڑے صنعت کاروں اور مبینہ منی پاور کے گرد گھومتا رہا۔
انتخابی مہم کے دوران صنعت کار گوتم اڈانی مسلسل بحث کا مرکز بنے رہے۔ اس کی بنیادی وجہ دھاراوی جھوپڑ پٹی بازآبادکاری منصوبہ ہے، جس پر اڈانی گروپ کام کر رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ریاست کی بی جے پی زیر قیادت حکومت مبینہ طور پر ممبئی کی قیمتی زمین اڈانی گروپ کو سونپ رہی ہے۔ اسی بنا پر یہ منصوبہ شہری انتخابات میں ایک سیاسی مسئلہ بن کر ابھرا، حالانکہ پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، صحت اور رہائش جیسے بنیادی شہری مسائل انتخابی گفتگو سے تقریباً غائب رہے۔
انتخابات سے قبل ہی مہایوتی اتحاد کے 67 امیدواروں کا بلا مقابلہ منتخب ہو جانا بھی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس کے پیچھے منی پاور کے استعمال کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ انتخابی میدان سے امیدواروں کو ہٹانے کے لیے کروڑوں روپے کہاں سے آئے۔ مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کھلے عام دعویٰ کیا کہ ان کے امیدواروں کو ایک کروڑ سے لے کر 15 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی، تاکہ وہ انتخابی مقابلے سے دستبردار ہو جائیں، تاہم ان کے مطابق ان کے امیدواروں نے ایسی کسی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
بلا مقابلہ امیدواروں کے انتخاب کے معاملے کو بامبے ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے، جہاں بدھ کے روز سماعت ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ میونسپل کارپوریشنوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے، اور انہی رپورٹس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آئندہ قدم اٹھائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پہلے مرحلے میں امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے لیے مبینہ طور پر منی پاور کا سہارا لیا گیا، اور اس کے بعد ووٹ خریدنے کے لیے مختلف طریقوں سے نقد رقم کے استعمال کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ووٹنگ سے قبل کئی مقامات پر ووٹروں میں پیسے بانٹنے کے الزامات منظر عام پر آئے ہیں۔
دلچسپ اور چونکانے والی بات یہ ہے کہ ووٹ خریدنے کے الزامات مہایوتی اتحاد کے اندر سے ہی سامنے آئے ہیں۔ ایکناتھ شندے دھڑے نے بی جے پی پر ووٹروں میں رقم تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ نوی ممبئی کے کوپرکھیرنے علاقے میں شندے دھڑے کے کارکنوں نے بی جے پی کارکنوں پر پیسے بانٹنے کا الزام لگایا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ حالانکہ شندے دھڑا خود مہایوتی حکومت میں بی جے پی کا اتحادی ہے، اس کے باوجود یہ الزامات انتخابی سیاست میں بڑھتی تلخی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ممبئی سے متصل کلیان-ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کے انتخابی حلقے ڈومبیولی کے توکارام نگر علاقے میں واقع دشرتھ بھون عمارت میں اتوار کی شام بی جے پی کارکنوں کو مبینہ طور پر پیسے بانٹتے ہوئے پکڑا گیا۔ الزام ہے کہ انتخابی پمفلٹ کے ساتھ ایک لفافہ دیا جا رہا تھا، جس میں تین ہزار روپے موجود تھے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے امیدوار نتن پاٹل نے اپنے کارکنوں کے ساتھ چند بی جے پی کارکنوں کو پکڑا اور اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔ تاہم بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اسی طرح لاتور میں بھی بی جے پی پر ووٹروں میں رقم تقسیم کرنے کا الزام سامنے آیا۔ وارڈ نمبر 11 میں کانگریس کارکنوں نے بی جے پی کے مبینہ کارکنوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ سانگلی کے وارڈ نمبر 20 میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا۔ ممبئی کے وارڈ نمبر 124 میں اُدھو ٹھاکرے دھڑے نے ایکناتھ شندے دھڑے پر پیسے بانٹنے کا الزام لگایا، جس کے بعد دونوں گروپوں کے کارکن آمنے سامنے آ گئے۔ اس جھڑپ میں اُدھو دھڑے کے دو کارکن زخمی بھی ہوئے۔
ریاست میں ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے باعث پولیس اور انتخابی مشینری کسی حد تک سرگرم نظر آ رہی ہے۔ ممبئی کے دیونار علاقے میں ناکہ بندی کے دوران پیر کے روز ایک وین سے 2.33 کروڑ روپے نقد برآمد کیے گئے۔ نالاسوپارا میں بھی چار کروڑ روپے ضبط کیے گئے۔ یہی وہ نالاسوپارا ہے جہاں گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران پانچ کروڑ روپے مبینہ طور پر تقسیم کیے جانے کے معاملے میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری ونود تاوڑے سرخیوں میں آئے تھے۔
نوی ممبئی میں بھی انتخابی افسران نے بڑی کارروائی کی۔ واشی کے ارینزا کارنر پر گاڑیوں کی جانچ کے دوران ایک سفید مرسڈیز کار سے 16.16 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے۔ نقدی کے ماخذ اور اس کے ممکنہ استعمال کو لے کر شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور معاملے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ یہ کارروائیاں انتخابی عمل میں غیر قانونی رقم کے استعمال پر قابو پانے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔
ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات سے متعلق کارروائیوں میں اب تک سات کروڑ روپے نقد، 5.28 کروڑ روپے مالیت کی شراب اور 95 مختلف ہتھیار ضبط کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہری انتخابات میں منی پاور کس حد تک غالب ہو چکی ہے، جبکہ عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔