ایس سی او اجلاس: ہندوستان کے لیے موقع یا مصیبت؟ مودی کی سفارت کاری کا امتحان
وزیر اعظم مودی کی ایس سی او اجلاس میں شرکت ہندوستان کی سفارت کاری کا کڑا امتحان ہے۔ روس و چین سے قربت اور ٹرمپ کی ناراضگی کے بیچ نئی دہلی کا توازن قائم رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی کی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس (31 اگست تا یکم ستمبر) میں شرکت ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ گزشتہ 7 برسوں میں ان کا پہلا چین کا دورہ ہے۔ دوسری طرف، تیانجن میں ہونے والے اس اجلاس میں 20 سے زائد عالمی رہنما اور 10 بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے یہ چین کی تاریخ کا سب سے بڑا ایس سی او اجلاس ہے۔ بیجنگ کے لیے یہ اپنی عالمی طاقت دکھانے کا سنہری موقع ہے۔
تاہم، وزیر اعظم مودی کے لیے وقت اس سے زیادہ مشکل یا شرمناک نہیں ہو سکتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں، ہندوستان کو سخت امریکی ٹیرف کا سامنا ہے اور پاکستان کی دشمنانہ پالیسی، بنگلہ دیش کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدوں پر چین کی جارحیت کے درمیان خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
مودی کی تیانجن آمد کو نئی دہلی ’کثیر الجہتی تعاون‘ کے اشارے کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن اس سے نہ چین و روس سے کوئی حقیقی تزویراتی فائدہ ملنے والا ہے، نہ ہی ٹرمپ کے دباؤ سے کوئی راحت۔ اس کے برعکس، یہ اجلاس ہندوستان کو مزید تنہا کر سکتا ہے، جہاں واشنگٹن کی ناراضگی اور بیجنگ کے عدم اعتماد کے بیچ نئی دہلی پھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔
2001 میں 6 یوریشیائی (یورپی و ایشیائی) ممالک چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی۔ بنیادی طور پر یہ چین کی ہی پہل تھی اور آج بھی اس کی سمت متعین کرنے میں بیجنگ کی غالب حیثیت ہے۔ چین نے ایس سی او کو اپنے معاشی پھیلاؤ کا ذریعہ اور سکیورٹی تعاون کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ صدر شی جن پنگ کے دور میں اس کا دائرہ مسلسل بڑھا ہے۔ 2017 میں ہندوستان اور پاکستان مکمل رکن بنے، 2023 میں ایران شامل ہوا، جبکہ بیلاروس 2024 میں اس کا حصہ بنا۔ آج یہ تنظیم دنیا کی تقریباً آدھی آبادی اور عالمی جی ڈی پی کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ محض ایک علاقائی سلامتی کلب نہیں رہا بلکہ بین البرّی تنظیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بیجنگ کو اس توسیع سے دوہرا فائدہ ہوا ہے: وسط ایشیا میں اپنی گرفت مضبوط کرنا اور ایس سی او کو مغربی اداروں کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئے خود کو ’عالمی جنوب‘ کا علمبردار دکھانا۔
مودی نے اپنی خارجہ پالیسی بڑی حد تک امریکہ سے قربت کے گرد تعمیر کی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی مبینہ ذاتی کیمسٹری کو تزویراتی کامیابی کی ضمانت کے طور پر مشتہر کیا۔ کچھ وقت تک واشنگٹن نے ہندوستان کو انڈو-پیسفک خطے میں چین کے خلاف توازن قائم کرنے والی طاقت کے طور پر بھی دیکھا۔ لیکن جولائی میں ٹرمپ نے اچانک رویہ بدل لیا۔ انہوں نے ہندوستانی مصنوعات پر پہلے 25 فیصد اور پھر بڑے پیمانے پر روسی تیل کی خریداری کا بہانہ بنا کر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے بار بار یہ دعویٰ کیا کہ وہ ہند-پاکستان جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو مودی کے لیے سخت شرمندگی کا باعث ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ ہندوستان ’خصوصی شراکت دار‘ سے ’خصوصی مسئلہ‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اس کے جواب میں مودی نے روس کے ساتھ پرانے تعلقات کو تازہ کرنے اور چین سے بات چیت کی کوشش کی۔ حالیہ دنوں میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی نئی دہلی آمد کو تعلقات میں نرمی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی روابط تقریباً منقطع ہو گئے تھے اور اعتماد اپنی کم ترین سطح پر جا پہنچا تھا۔ اب دوبارہ براہ راست پروازیں شروع ہونے والی ہیں، کچھ سرحدی تجارتی راستے کھلنے لگے ہیں اور چین نے نایاب معدنیات اور کھاد کی برآمد کی اجازت دے دی ہے۔ ادھر روس نے بھی تیل اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور صدر ولادیمیر پوتن کے سال کے آخر تک نئی دہلی آنے کی توقع ہے۔ بظاہر مودی کا ایس سی او اجلاس میں جانا اسی ’پُرانی توازن کاری‘ پالیسی کا حصہ ہے، جسے نئی دہلی ’تزویراتی خود مختاری‘ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایس سی او کا فورم نئی دہلی کے اختیارات بڑھانے کے بجائے اس کی حدود واضح کرتا ہے۔ یہ کبھی بھی ہندوستان کے لیے غیر جانب دار پلیٹ فارم نہیں رہا۔ 2017 میں ہندوستان و پاکستان کی شمولیت کے بعد اس تنظیم میں تضادات مزید ابھر آئے۔ مثال کے طور پر ہندوستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے والی قرارداد میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ اسی سال ہندوستان نے اس بیان پر بھی دستخط نہیں کیے جس میں بلوچستان کا ذکر تھا لیکن پہلگام حملے کا تذکرہ نہیں تھا جس میں 26 ہندوستانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ چین نے بارہا پاکستان کی آواز کو تقویت دینے کے لیے ایس سی او کا استعمال کیا ہے اور ہندوستانی خدشات کو نظرانداز کیا ہے۔
مودی کا اجلاس میں شی جن پنگ اور شہباز شریف کے ساتھ بیٹھنا اگرچہ علامتی طور پر اہم لگتا ہے لیکن حقیقت میں ہندوستان کے لیے کوئی بڑا فائدہ نکلنے والا نہیں۔ چین نہ تو کشمیر پر اپنی پالیسی بدلے گا، نہ پاکستان کے لیے حمایت کم کرے گا اور نہ ہی 2020 میں قبضہ کیے گئے علاقوں سے پیچھے ہٹے گا۔ برہما پُتر پر اس کی بڑی آبی بجلی منصوبہ بندی ہندوستان کی مخالفت کے باوجود جاری ہے۔
روس بھی ہندوستان کو صرف تیل اور ہتھیار بیچنے کی باتوں سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔ ماسکو ایس سی او میں ہندوستان کو خوش کرنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کو داؤ پر نہیں لگائے گا۔ اس کی نظر میں ہندوستان مغربی پابندیوں سے بچنے اور اپنے عالمی موقف کو جائز ٹھہرانے کا ایک ذریعہ ہے، اولین ترجیح نہیں۔ روسی میڈیا ادارے آر ٹی اور اسپوتنک عالمی جنوب میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، ہندوستان میں بھی بیورو قائم ہو رہے ہیں۔ مودی اسے مغربی بیانیے کے توڑ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ روس کے اپنے تزویراتی مقاصد کا حصہ ہے۔
مودی کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ امریکہ میں ان کی تیانجن میں موجودگی کو کس طرح دیکھا جائے گا۔ انہیں شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کے پہلو میں بیٹھا دیکھ کر ٹرمپ مزید برہم ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن اسے اس اشارے کے طور پر لے سکتے ہیں کہ ہندوستان چین کے خیمے میں جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں، جہاں ٹرمپ سے وفاداری اولین شرط ہے، اس طرح کے علامتی اقدامات کے بھی سنگین نقصانات ہو سکتے ہیں۔
مودی شاید یہ سوچتے ہوں کہ وہ دونوں طرف توازن قائم رکھ سکتے ہیں، لیکن ٹرمپ نے بارہا دکھایا ہے کہ وہ ابہام برداشت نہیں کرتے۔ چین بھی ہندوستان کو کوئی خاص رعایت نہیں دے گا۔ بیجنگ ہندوستانی اقدامات کو مایوسی پر مبنی اور موقع پرستانہ سمجھتا ہے۔ چینی تجزیہ کار ہندوستان کو انڈو-پیسفک میں حریف اور جنوبی ایشیا میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ کے ساتھ ہندوستانی قربت، ویتنام و فلپائن کے ساتھ اس کا دفاعی تعاون اور تائیوان کے ساتھ رابطے دشمنی کے ثبوت ہیں۔ اس وقت اگر کوئی صورتحال سامنے ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ ’سرد امن‘ کی ہے، بالفاظ دیگر، نہ کوئی بڑا تصادم اور نہ ہی پائیدار صلح۔
المیہ یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب مودی ہندوستان کی ’تاریخی جھجک‘ سے نکل کر دنیا میں جرات مندانہ کردار ادا کرنے پر فخر کرتے تھے۔ آج ہندوستان ایسی حالت میں ہے کہ روسی ہتھیاروں پر انحصار کے باعث ماسکو کو چھوڑ نہیں سکتا، چین کے بارے میں اتنی بے یقینی ہے کہ اس پر اعتماد نہیں کر سکتا اور امریکی بازاروں اور اقتدار کے مراکز کے سامنے اتنا بے نقاب ہے کہ واشنگٹن کو ناراض بھی نہیں کر سکتا۔ مودی کا داؤ یہ ہے کہ تیانجن جا کر وہ تینوں رشتوں کو بچا سکیں گے، لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ کسی کو بھی مطمئن نہیں کر پائیں گے اور جس پر اب تک انحصار کرتے آئے تھے، اس سے مزید دور ہو جائیں گے۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کے پروفیسر ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔