جامع مسجد علی گڑھ سے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے والے مولانا عبد الجلیل... یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیشکش

مولانا عبدالجلیل جو ایک جرأت مند، دلیر، نہایت متقی اور فرشتہ صفت ولی تھے۔ جنہوں نے مع پانچ ہزار غازیوں 24 اگست 1857 کو چاہ حجام، مان سنگھ باغ موضع مڈراک کی دوبدو لڑائی میں حصہ لے کر شہادت پائی تھی۔

تصویر شاہد صدیقی علیگ
تصویر شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

مادر ہند کی آزادی کے لیے سرگرمی سے حصہ لینے اور جان نثار کرنے والوں کی ایک لامتناہی فہرست ہے، جن میں بہت سے میدان جنگ میں شہید ہوئے اور بہتوں نے پھانسی کے پھندے چومے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ تاریخ نے ان گمنام ہیروز کے ساتھ انصاف نہیں کیا، چنانچہ ان کے کارنامہ تو کجا لوگ نام تک سے واقف نہیں ہیں، ایسے ہی ایک غیر معروف عظیم مرد مجاہد مولانا عبدالجلیل بھی ہیں جو ایک جرأت مند، دلیر، نہایت متقی اور فرشتہ صفت ولی تھے۔ جنہوں نے مع پانچ ہزار غازیوں 24 اگست 1857 کو چاہ حجام، مان سنگھ باغ موضع مڈراک کی دوبدو لڑائی میں حصہ لے کر شہادت پائی تھی۔

جامع مسجد علی گڑھ سے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے والے مولانا عبد الجلیل... یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیشکش

مولانا عبدالجلیل کے والد ریاض الدین ساکن چھتاری ایک بڑے عالم تھے، لہٰذا پہلے عبد الجلیل نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور بعد ازاں دہلی جا کر شاہ رفیع الدین اور شاہ محمد اسحاق سے تعلیم پائی پھر علی گڑھ واپس آ کر جامع مسجد میں امامت اور درس و تدرس کا سلسلہ شروع کر دیا۔


میرٹھ کے ہنگامہ کی خبر دو روز بعد علی گڑھ پہنچی جسے سن کر انقلابیوں کی بانچھیں کھل گئیں، حالات اتنی تیزی سے بدلے کہ فرنگیوں نے فرار ہونے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ 20 مئی کو شہر انگریزوں سے خالی ہو گیا البتہ 4 جون تک انگریز افسر اور مجاہدین کے درمیان شہ مات کا کھیل جاری رہا۔ مولانا عبدالجلیل نے 30 جون کو جامع مسجد میں جہاد کا فتویٰ دیا تو ہر کس و ناکس انگریزوں کی غلامی کا طوق اتارنے کو مضطرب ہو اٹھا۔

مڈراک کی نیل فیکری میں پناہ گزین کلکٹر واٹسن کو اطلاع ملی کہ اہلیان علی گڑھ جہاد کے لیے کمربستہ ہیں، جو رات کے وقت شہر کے دروازوں پر اسلام کا سبز جھنڈا لہراتے ہوئے شہادت دینے کا حلف اٹھاتے ہیں۔ واٹسن کی التجا پر آگرہ سے کپتان برٹن کی کمان میں ایک دستہ روانہ کیا گیا، چنانچہ یکم جولائی کو مڈراک میں انگریزوں اور ایک ہزار غازیوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ جس میں تقربیاً چودہ غازی شہید ہوئے اور کچھ انگریز بھی مارے گئے، اس لڑائی کی خبر جیسے ہی ساسنی میں گوالیار کولیری کو ملی تو اس نے بھی بغاوت کر دی، جسے دیکھ کر انگریز آگرہ چلے گئے۔


اس طرح علی گڑھ پر انقلابیوں کی یکلخت حکمرانی قائم ہو گئی جو 2 جولائی تا 24 اگست قائم رہی۔ انگریزوں کے جانے کے بعد نظم و ضبط کے لیے 4 جولائی 1857 کو مسلمان اور ہندو معززین نے کوتوالی میں میٹنگ کی، جس میں مشاورت کے بعد ایک مجلس قائم کی گئی تاہم اس کی کارگردی سے مولوی نسیم اللہ مطمئن نہیں ہوئے۔ وہ صوبہ دار دوآبہ نواب ولی داد خاں مالاگڑھ کے پاس پہنچے تو انہوں نے 28 جولائی کو غوث محمد خاں کو اپنا نائب بنا کر بھیجا، جنہوں نے نظامت سنبھالنے کے بعد نظم و ضبط قائم کرنے کی پوری کوشش کی، نیز مختلف افسران کی تعیناتی کی۔

مولاناعبدالجلیل نے31 جولائی کو کمپنی کے خلاف نبرد آزما ہونے کو ایک دینی فریضہ بتایا۔ 3 اگست کو غوث محمد خاں نے 800 اشخاص کی بھرتی کی اور لگان کا کام بخوبی شروع ہو گیا لیکن ہاتھرس میں برطانوی عملداری ابھی تک قائم تھی لہٰذا غوث محمد خاں نے اس پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا، مگر مخبروں نے اپنے گورے آقاؤں کو فوراً اطلاع پہنچا دی تو 20 اگست کو مانٹوگمری کے ماتحت آگرہ سے ایک دستہ بھیجا گیا، جس کی بروقت خبر انقلابی انتظامیہ کو بھی مل گئی چنانچہ 22 اگست کو غوث محمد خاں نے شہر میں ڈھنڈورا پٹوایا کہ ہندو اور مسلمان جہاد کے لیے تیار ہو جائیں۔


نتیجاً 23 اگست کو جوشیلے کفن بردوش مجاہدین کا جم غفیر سڑکوں پر نکل آیا۔ غوث محمد خاں اور مولانا عبدالجلیل کی سربراہی میں 500 فوجیوں، 200 گھوڑ سواروں اور 150 بندوق برداروں پر مشتمل انقلابی کارواں نے ہاتھرس کا رخ کیا، جن کا 24 اگست کو بمقام چاہ حجام، مان سنگھ باغ، مڈراک آگرہ روڑ پر انگریزی اور وطن فروش ہندوستانیوں کی مشترکہ افواج سے سخت مقابلہ ہوا، غازیان ہند نے ایسی بے جگری سے سامنا کیا کہ انگریزوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ متعدد انگریز مقتول اور زخمی ہوئے لیکن انگریزی فوج اور انقلابیوں کے توازن میں زمین آسمان کا فرق تھا، لہٰذا مولانا عبدالجلیل نے بے شمار سرفروشوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کی۔

غوث محمد خاں، مولوی نسیم اللہ اور منا لعل خزانچی محاذ سے پیچھے ہٹ گئے، غوث محمد خاں مالا گڑھ چلے گئے، مولوی نسیم اللہ روپوش ہو گئے۔علی گڑھ ایک بار پھر انگریزی نظام کے ہاتھوں میں آ گیا۔ مولانا عبدالجلیل، مولوی مظفر علی اور 73 شہدا کو جامع مسجد کے شمالی حصے میں مدفون کر دیا گیا، جو گنج شہیداں کہلاتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔