گاندھی جی کی نظر میں ’مذہب اور سیاست‘... یوم وفات پر خصوصی پیشکش

گاندھی جی کہا تھا کہ ’’میں جن مذہبی آدمی سے ملاہوں، ان میں زیادہ تر سیاستداں تھے اور میں سیاستداں کے بھیس میں بھی دل سے مذہبی آدمی ہوں‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ)

بابائے قوم موہن داس کرم چندگاندھی نہ صرف اس عہد کے بلکہ ہندوستان کی دیومالائی شخصیتوں کوقابل اعتناء نہ سمجھا جائے تو سیاسی طور پر وہ سب سے عظیم اور عہد ساز شخصیت کے مالک تھے،انھوں نے پوری زندگی درویشانہ اندازمیں گزاری ،وہ اپنی سیرت اورشخصیت کے اعتبارسے اوّل اورآخر درویش اورصرف درویش تھے،نہ کسی بڑے عہدے کوقبول کیا اورنہ کبھی اس کی خواہش دل میں آئی، وہ ایک مذہبی آدمی تھے،اور دور جدید میں مذہب اورسیاست کے اشتراکیت کے سب سے بڑے علم بردار سمجھے جاتے تھے، انھوں نے ایک بار کہا تھا:

’’میں جن مذہبی آدمی سے ملاہوں، ان میں زیادہ تر سیاستداں تھے اور میں سیاستداں کے بھیس میں بھی دل سے مذہبی آدمی ہوں‘‘۔

گاندھی جی کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مذہب پر گہرے اعتماد کی وجہ سے ہی سیاست میں گئے تھے، ایک بار انھوں نے برطانوی وزیر ہند وج وڈین کو اپنی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھاکہ میں ایک مذہبی آدمی ہوں مگرآپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ میں بھٹک کر سیاست میں آگیا ہوں، وہ کہا کرتے تھے کہ جہاں کہیں بھی لامذہبیت کا وجود ہو، ایک مذہبی آدمی کو اس کا مقابلہ کرناہوتاہے، موجودہ زمانہ میں سیاست لامذہبیت کا سب سے بڑا اڈہ بن گئی ہے، اس لیے لامذہبیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مجھے سیاست میں داخل ہوناچاہیے۔

آج کے سیاستداں کہتے ہیں کہ سیاست کولامذہب ہی رہنا چاہیے اور ان کو دوالگ الگ خانوں میں رکھ کر ہی دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے اورعالمی وحدت کوفروغ حاصل ہوسکتاہے، ان کی نظر میں سارے جھگڑے، سارے فساد اورساری بے چینی مذہب کی دین ہے، اورکھل کر تونہیں مگر دبے زبان وہ کمیونسٹوں کی طرح اسے افیم قرار دیتے ہیں، جس کے استعمال کے بعد انسان میں جنونی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، میں چونکہ اس کی وکالت کے لیے نہیں کھڑا ہوا ہوں، اس لیے اس بحث کو نظرانداز کرکے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مذہب اور سیاست ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں،اوریہ ایک دوسرے سے جدا ہونے کے بعد بقول علامہ اقبال: چنگیزی ،اور موسی بے عصا رہ جائیں گے، جس کا نتیجہ سوائے وحشت وبربریت اورظلم وستم کے کچھ نہیں ہوسکتا۔

سیاست میں توازن اسی وقت ہوسکتاہے جب مذہب اس کوصحیح راستے پر قائم رکھنے کے لیے رہنما قوت کی حیثیت سے اس کے ساتھ موجودہو،یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ گاندھی جی سیاست میں جس مذہب کی اہمیت کوتسلیم کرتے تھے،وہ تاریخی اورروایتی ہندو مذہب نہیں تھا، جس کی تمام تر بنیاد دیومالائی واقعات وروایات پر ہے، بلکہ وہ سیاست میں ایسے مذہب کی بات کرتے تھے جس کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہو اور جوانسان کے دل اورانسانی سماج کی تمام برائیوں کو دور کرنے کے لیے روح اور روحانی طاقت پر مکمل بھروسہ کرنا سکھائے۔

حضرت عمرؓ ان کے نزدیک مثالی حکمراں اس لیے تھے کہ ان کی سیاست کی جڑآفاقی مذہب کی زمین میں پیوست تھی اور خلافت تحریک میں انھوں نے مسلم قائدین کا ساتھ صرف اس لیے دیاتھا کہ ترکی میں کمال پاشا کے اصلاحات کے پودے لامذہبیت سے سیراب ہورہے تھے، مذہب کے اسی خاص تصور نے انھیں ساری مخلوق سے محبت کرنا سکھایاتھا، چھوٹے بڑے کی تفریق مٹادی تھی،اورذات پات، خاندان اوربرادری کے بتوں کو توڑنے کا حوصلہ عطا فرمایا تھا۔

گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ تمام دنیا سے دوستی میرا منتہائے مقصود ہے، میں انتہائی محبت کے ساتھ برائی کی زبردست مخالفت کرسکتا ہوں، وہ اپنے تمام نظریات میں مذہب کو اولیت دیتے تھے اور گوتم بدھ، حضرت عیسیٰ اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال وارشادات کوسیاسی رہنما سمجھتے تھے، انھیں اس بات پر کامل یقین تھا کہ دنیامیں امن وامان قائم کرنے، طبقاتی کشمکش اور صف آرائی کوختم کرنے کے لیے سیاست میں مذہب کا وجود ضروری ہے اور بغیر اس کے امن وآشتی کے نعرے فریب ہیں، جسے سیاسی بازیگر اپنی کرسی کے حصول اور اقتدار کی بقا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

آج جب کہ تشدد، خونریزی ،قتل وغارت گری اور دہشت پسندی کا دور دورہ ہے تو اس پر کنٹرول کرنے کا واحد حل اسلام کی سیاسی تعلیمات ہیں ، جومذہب سے شیروشکر ہوکر سیاست کرنا سکھاتی ہے اور جس کی اہمیت کو گاندھی جیسے ہندوستان کے سیاسی ہیرو نے بھی تسلیم کیاہے۔