امیرالمومنین حضرت علیؑ کی سیرت و شہادت

نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کا روضہ

ضربت شہادت سے دوچار ہونے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے منھ سے جو تاریخی جملے نکلے تھے وہ یہ تھے کہ ’’رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا‘‘۔

21 رمضان یوم شہادت شیر خدا، امیر المومنین حضرت علیؑ ابن ابیطالب ہے۔ حضرت علیؑ کی ولادت ہجرت نبوی سے 23 سال قبل یعنی 30 عام الفیل مطابق 600 عیسوی 13 رجب یوم جمعہ خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ آپ کے والد حضرت ابوطالب بن عبدالمطلب اور والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ والدہ نے آپؑ کا نام حیدر و اسد اور والد نے اپنے جد اعلیٰ  قصی کے نام پر زید رکھا جبکہ سرورکائناتؐ نے علی رکھا۔ دامادِ رسولؐ، فاتح خبیر، حامل ذوالفقار، امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کے فضائل ومناقب محاسن ومحامد بے شمارہیں اورکیوں نہ ہوں جبکہ فضائل وکمالات برکات وحسنات کا مخزن ومعدن آپ ہی کا گھرانہ ہے۔

21 رمضان تاریخ اسلام میں انسانیت کے اس عظیم انسان کا روز شہادت ہے، جس کو اس کی حق پسندی وعدالت کے سبب 40ہجری میں محراب مسجد کو فہ میں دوران نماز فجراپنے وقت کی دہشت گرد اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں زہرآلود تلوار سے شہیدکردیاجاتا ہے۔ مسجد کوفہ میں شہادت سے ہم آغوش ہونے والے اس انسان کامل کو زمانہ علی مرتضیٰؑ شیر خدا کے نام سے جانتا ہے۔راہ خدا میں شہادت جیسی نعمت عاشقانہ خدا کی معراج ہوا کرتی ہے، یہی سبب ہے کہ ضربت شہادت سے دوچار ہونے کے بعد ہمیشہ شہادت کی آرزو رکھنے والے دین اسلام کے اس عظیم مجاہد کے منھ سے جو تاریخی جملے نکلے تھے وہ یہی تھے کہ’’ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا‘‘۔

تاریخ اسلام میں امیر المومنین حضرت علی ؑ کواپنی دیگر فضیلتوں کے ساتھ یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آپ کی ولادت خانۂ کعبہ میں اور شہادت بھی خدا کے گھر مسجد کوفہ میں نصیب ہوئی۔ تاریخ اسلام میں ایسی فضیلت کسی فرد بشر کو حاصل نہ ہوسکی۔ علی ؑابن ابی طالب کی مثالی شخصیت جنھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی دعوت پر کمسنوں میں سب سے پہلے لبیک کہا تھا اوررسول خدا کے اس مشن میں ہمیشہ آپ کی نصرت کی کسی بھی طرح محتاج تعارف نہیں۔ حضرت علیؑ کی مثالی زندگی نصرت حق وعدالت کاایسا نمونہ ہے جس کے تصور کے بغیر تاریخ اسلام کا ہر باب نامکمل ہوکر رہ جاتا ہے۔ بات شب ہجرت میں دشمنوں کی تلواروں کے سائے میں بستر رسول خدا ؐ پر سوکر حیات پیغمبرؐ کو تحفظ دیا ہو یا اسلامی معرکوں میں جنگ بدر ، جنگ احد ، جنگ خندق، جنگ خیبر، جنگ حنین، یا جنگ صفین کا ذکر ہو ،تاریخ اسلام کے ان دفاعی معرکوں میں فتح وکامیابی کا تصور علی مرتضیٰؑ کی شجاعت کے بغیر ناممکن نظر آتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ فتح خندق میں کامیابی کے بعد پیغمبرخدا حضرت محمدؐ نے کہا تھا۔’’جنگ خندق میں علی کی ایک ضربت جن وانس کی عباد ت پر افضل ہے‘‘۔

دین اسلام کی آبیاری اور حق وعدالت کے نفاذ کی راہ میں امیر المومنینؑ نے اپنی حکمت و دانش، عدالت پسندی،نصرت حق انسانی اقدار ومساوات، مدبرانہ شجاعت، تسلیم صبر ورضا کے ساتھ غیر معمولی ایثار وفدا کاری کے جو عملی نمونے پیش کئے اس سے زمانہ کے حق پسندافراد متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔یہی سبب ہے کہ ہرزمانے کے حق بین مورخین نے تاریخ انسانیت کے اس یکتائے زمانہ علیؑ کو اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔ یہاں تک کہ غیرمسلم مورخین بھی اس انسان کامل کی عظمتوں کے معترف نظرآتے ہیں۔ دنیائے عیسائیت کا مشہور زمانہ مورخ جارج جرواق حضرت علی ؑ کی عظیم المرتبت شخصیت آپ کے بے کراں علم، آپ کی عدالت آپ کی منکسرالمزاجی آپ کی انسان دوستی اور آپ کے مساوات کے جذبہ سے والہانہ طورپر متاثر نظر آتا ہے ۔اس نے اپنی مشہور زمانۂ تصنیف ’’ندائے عدالت انسانی‘‘ میں اپنے دل کی گہرائیوں کے تاثرات اپنے خوبصورت انداز میں پیش کئے ہیں۔

حضرت علیؑ کے نزدیک ملک وبادشاہی جو حق کو قائم کرنے اورباطل کو زائل کرنے کے لئے نہ ہوتو وہ دنیاکی پست ترین چیزوں سے بھی زیادہ پست تھی۔ یہی سبب ہے حضرت علی ؑ کے نزدیک اس حکومت کی قیمت جو عدل وانصاف قائم کرنے میں ناکام ہو ان کی پھٹی ہوئی جوتیوں سے بھی کمتر تھی، جس میں سماج کے ستم زدہ اور مظلوموں کو انصاف نہ مل سکے۔ پیغمبر اسلامؐ کی مشہور حدیث ہے ’’علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے‘‘۔ یقینا جہاں علی ہیں وہاں حق ہے عدالت ہے اور حقوق انسانی کا تحفظ ہے، یہی سبب ہے کہ علی ؑ کی عدالت آج بھی زمانہ کو حیرانی میں مبتلا کردیتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں بھی جہاں سب کچھ جائز ہوتا ہے دامن عدالت کو ہاتھوں سے جانے نہیں دیتے۔ جنگ خندق میں جب اپنے حریف جو عرب کا مشہور ترین پہلوان تھا کو زیر کرلیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پر وار کرکے اس کا کام تمام کردیں اسی لمحہ وہ آپ ؑکے دہن مبارک پر تھوک دیتا ہے۔ انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق ہونا تویہی چاہئے تھا کہ علی ؑ غصہ میں آگ بگولہ ہوکر اس پرشدید وار کرتے لیکن علی نے ایسا نہیں کیا بلکہ تلوار پھینک کر ٹہلنے لگتے ہیں ، دشمن بھی حیران تھا کہ علی ؑ نے ایسا کیوں کیا۔ دشمن کے سوال کرنے پر کہ اے علی آپ نے اتنا اچھا موقع ہاتھ سے کیوں جانے دیا تو آپ نے دشمن کویہ جواب دیا۔ ’’اے عمروجان لے میری تلوار صرف اور صرف خدا کی خوشنودی کے لئے چلتی ہے ناکہ اپنے نفس کے لئے میں نہیں چاہتا کہ تجھے قتل کرنے میں میرا نفس بھی شامل ہوجائے‘‘۔

امیر المومنین حضر ت علیؑ حقیقی اسلامی آئیڈیالوجی کے ایسے حکمراں ہیں جوبیت المال کا مصرف عدالت اسلامی کے اصولوں پر اس طرح قائم کرتے ہیں کہ مساوات اور عدالت کا دامن مجروح ہونے نہیں دیتے، خواہ اس راہ میں ان کے اپنے حقیقی بھائی ہی کیوں نہ مطالبہ کریں۔ حضرت علی ؑکے بھائی عقیل بھوکے اور پژمردہ بچوں کے ہمراہ جب امیرالمومنین حضرت علی ؑ کی خدمت میں حاضرہوئے اوربیت المال سے اپنے لئے زیادہ حصہ کے طلب گار ہوئے تو ہونا تویہ چاہئے تھا کہ بھائی کے بھوکے بچوں کو دیکھ کر بھائی کی محبت اصولوں پر غالب آجاتی مگر یہاں ایسا نہیں ہوا، آپ نے صاف طورپراپنے بھائی کو منفی جواب دیا۔انھوں نے اپنے منفی جواب کے فلسفہ کو اپنے بھائی کے سامنے پیش کرنے کے لئے لوہے کی ایک سلاخ کو آگ میں تپا کر ان کے جسم کے قریب لے گئے وہ چیخ اٹھے ، تب آپ نے کہا اے عقیل! تم دنیاکی آگ سے ڈرتے ہو اورمیں جہنم کی آگ سے ، نہ ڈروں؟‘‘ ۔آج کے اس دور میں یہ بات کتنی عجیب ہے کہ اسلامی سربراہ مملکت کے پاس کوئی ذاتی ملکیت نہ تھی کہ وہ اپنے بھائی کا وعدہ پورا کرے جبکہ آج سربراہان مملکت کی عیش پرستی، بین الاقوامی بنکوں میں اکاؤنٹ ایک عام روش ہے کیایہ طریقۂ کار امانت اوردیانتداری کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے۔!

سب سے زیادہ مقبول