بنگلہ دیش کے انتخابی آڈٹ میں ہندوستان کے لیے پیغام...سوربھ سین

بنگلہ دیش کے انتخابی آڈٹ میں بڑی حد تک شفافیت کی تصدیق ہوئی مگر خدشات باقی ہیں۔ یہ تجربہ ہندوستان کو انتخابی عمل میں مزید مضبوط آڈٹ اور خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی سمت میں سوچنے کا اشارہ دیتا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

سوربھ سین

ڈیڑھ سال کی سیاسی ہلچل اور غیر یقینی صورتحال کے بعد بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ آیا یہ انتخابات واقعی آزادانہ اور منصفانہ تھے یا نہیں؟ اس سوال کا ایک اہم جواب سویڈن میں قائم میڈیا ادارے نیتر نیوز کے آڈٹ سے سامنے آیا، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت کی بڑی حد تک توثیق کی ہے۔

آڈٹ کے مطابق، بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کا موازنہ نیتر نیوز کے ذریعے جمع کیے گئے آزاد ڈیٹا سے کیا گیا۔ اس عمل میں ایک ہزار فارموں کا نمونہ منتخب کیا گیا، جن میں سے 43 فارم تکنیکی خامیوں کی وجہ سے مسترد کر دیے گئے۔ باقی 957 فارموں میں سے صرف چار میں معمولی نوعیت کی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کم از کم نتائج کی گنتی اور ریکارڈنگ کے مرحلے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے شواہد نہیں ملے۔

نیتر نیوز نے اس آڈٹ کے لیے ایک منظم حکمت عملی اپنائی۔ انتخابات سے کئی ماہ قبل ملک بھر میں سیکڑوں نمائندے تعینات کیے گئے۔ ووٹنگ کے دن اور اس کے فوراً بعد انہوں نے پولنگ اسٹیشنوں سے ’فارم-16‘ کی تصاویر جمع کیں، جن میں ہر بوتھ پر ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر 43 ہزار سے زائد پولنگ مراکز میں ہونے والے انتخابات میں سے ہزاروں فارموں کا ریکارڈ اکٹھا کیا گیا، اور بعد میں ان کا سرکاری نتائج سے تقابل کیا گیا۔

تاہم، اس آڈٹ کے باوجود کچھ حلقوں کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما غلام پرور نے خاص طور پر اپنے مضبوط حلقہ سمجھے جانے والے کھلنا-5 میں شکست کے بعد انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نتائج کو اس انداز میں تبدیل کیا گیا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ آڈٹ اس پہلو کو نہیں پرکھتا کہ آیا ووٹروں کو دباؤ یا خوف کے ذریعے متاثر کیا گیا تھا یا نہیں؟


یہ اعتراض اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ انتخابی شفافیت صرف نتائج کی درستگی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ووٹنگ کے پورے عمل کی آزادی اور غیر جانبداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی رائے دہندگان کو متاثر کیا جائے تو نتائج بظاہر درست ہونے کے باوجود حقیقی نمائندگی پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان کے لیے سیکھنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پاس وسائل، تجربہ اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے کہ وہ انتخابی عمل کو مزید شفاف اور قابل اعتماد بنانے کے لیے جدید آڈٹ نظام متعارف کرا سکے۔ اگر بنگلہ دیش جیسے ملک میں ایک غیر سرکاری ادارہ اس سطح کا آڈٹ کر سکتا ہے تو ہندوستان میں یہ کام سرکاری سطح پر زیادہ منظم انداز میں کیا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور اہم پہلو خواتین کی سیاسی شرکت کا ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنی قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص کر رکھی ہیں، جو براہ راست عوامی ووٹ سے منتخب نہیں ہوتیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو ان کی کارکردگی کے تناسب سے دی جاتی ہیں۔ ان نشستوں پر نامزد خواتین ارکان کو وہی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو عام ارکان کو حاصل ہوتے ہیں، اگرچہ وہ کسی مخصوص حلقے کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

اس کے برعکس ہندوستان میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے حال ہی میں خواتین ریزرویشن بل کو لوک سبھا سے منظور کیا گیا، جس کا مقصد پارلیمنٹ میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم اس بل کے نفاذ اور عملی شکل اختیار کرنے میں ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔


ایک ممکنہ تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ لوک سبھا کی مجموعی نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور اضافی نشستوں کو خواتین کے لیے مختص کیا جائے۔ اس طریقے سے موجودہ حلقہ بندیوں میں بڑی تبدیلی کیے بغیر خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح راجیہ سبھا میں بھی نامزد نشستوں کے ذریعے خواتین کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کے تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتخابی شفافیت اور نمائندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر بھی سوچنا ضروری ہے۔ اگرچہ آڈٹ نے نتائج کی سطح پر اعتماد کو تقویت دی ہے، مگر انتخابی عمل کے دیگر پہلوؤں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت برقرار ہے۔

آخرکار، کسی بھی جمہوریت کی مضبوطی کا دار و مدار صرف انتخابات کے انعقاد پر نہیں بلکہ ان پر عوام کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو بہترین نظام بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ یہی پیغام بنگلہ دیش کے انتخابی آڈٹ سے ابھر کر سامنے آتا ہے—اور یہی ہندوستان کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم ایک آزاد صحافی اور تجزیہ نگار ہیں)