بنگلہ دیش اور نیپال کے انتخابات: ایک جیسی بغاوت، مگر انجام مختلف...سوربھ سین

بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوانوں کی قیادت میں تحریکوں نے حکومتیں تو گرا دیں مگر انتخابات میں دونوں کے نتائج مختلف نکلے۔ نیپال میں نئی جماعت کو کامیابی ملی، جبکہ بنگلہ دیش میں نوجوان قیادت ناکام رہی

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

سوربھ سین

بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوانوں اور طلبہ کی قیادت میں اٹھنے والی احتجاجی تحریکوں نے بالترتیب اگست 2024 اور ستمبر 2025 میں قائم حکومتوں کو ایک ہی طرح سے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ دونوں ممالک میں ان تحریکوں کی قیادت بڑی حد تک غیر منظم مگر پُرجوش نوجوانوں کے ہاتھ میں تھی۔ تاہم اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں ان تحریکوں سے جنم لینے والی سیاسی قوتوں کا انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف رہا۔

بنگلہ دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے انتخابات میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کو محض چھ نشستیں مل سکیں اور اس کا ووٹ شیئر تقریباً تین فیصد رہا۔ اس کے برعکس نیپال میں جولائی 2022 میں قائم ہونے والی راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس جماعت نے دو تہائی نشستیں جیت کر گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار ملک کو ایک جماعت کی مضبوط حکومت دی۔

ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش میں ووٹروں کو نوجوان قیادت کے تجربے کی کمی اور ممکنہ سیاسی عدم استحکام کا خدشہ تھا۔ اس کے برعکس نیپال میں رائے دہندگان نے آر ایس پی کو ایک منظم، نظم و ضبط رکھنے والی اور اصلاحات کی حامی جماعت کے طور پر دیکھا۔

نیپال کے نتائج عام شہریوں اور سیاسی مبصرین دونوں کے لیے حیران کن ثابت ہوئے۔ آر ایس پی کی اس غیر معمولی کامیابی میں 35 سالہ بالیندر ’بالین‘ شاہ کا اہم کردار رہا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ انجینئر رہے ہیں اور ریپ موسیقی سے بھی وابستہ رہے۔ بعد میں وہ سیاست میں آئے اور پہلے کھٹمنڈو کے میئر منتخب ہوئے۔

اب وہ نیپال کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ میدانوں کے علاقے مدھیش سے آنے والے پہلے وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپال کے کئی سابق وزرائے اعظم کی طرح شاہ کا بھی ہندوستان سے تعلیمی تعلق ہے، کیونکہ انہوں نے بنگلورو میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔


انہوں نے چار مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے اور سی پی این–یو ایم ایل کے صدر کے پی شرما اولی کو ان کے اپنے انتخابی حلقے جھاپا–5 میں تقریباً 50 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اگر ان دونوں انتخابات کے پس منظر جا جائزہ لیں تو ابتدائی طور پر حالات اور محرکات بہت حد تک ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں ممالک میں نوجوان نسل، جسے عام طور پر جین-زی کہا جاتا ہے، کرپشن، بدانتظامی، معاشی جمود اور اقربا پروری کے خلاف سڑکوں پر آ گئی تھی۔

نیپال میں احتجاج کی چنگاری حکومت کے اس فیصلے سے بھڑکی جس میں سوشل میڈیا پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کی بات کی گئی تھی۔ دوسری طرف بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے خلاف احتجاج نے طلبہ کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔

دونوں ممالک میں ہونے والے انتخابات بڑی حد تک آزاد اور منصفانہ قرار دیے گئے۔ تاہم نیپال میں نوجوانوں کی اس بغاوت نے جس سیاسی زلزلے کو جنم دیا وہ کئی نسلوں میں پہلی بار دیکھا گیا۔ بنگلہ دیش میں بھی اسی طرز کی تحریک اٹھی، مگر اس کے سیاسی نتائج مختلف رہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف جین-زی کی بغاوت ہی فیصلہ کن عنصر تھی، یا اس کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی کارفرما تھے۔

کئی دہائیوں تک نیپال کی سیاست تین بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی رہی: نیپالی کانگریس، سی پی این–یو ایم ایل اور ماؤسٹ سینٹر۔ مگر اس انتخاب میں یہ تینوں جماعتیں بری طرح شکست سے دوچار ہوئیں۔ روایتی سیاست کے بڑے ناموں، جن میں شیر بہادر دیوبا اور گگن تھاپا جیسے رہنما شامل ہیں، کو یا تو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا یا وہ بہت کمزور ہو کر رہ گئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جین-زی نے ان روایتی جماعتوں کے خلاف جمع ہونے والے عوامی غصے کو باہر نکالنے میں وہی کردار ادا کیا جو کسی پریشر ککر میں سیفٹی والو ادا کرتا ہے۔

نیپال میں سیاسی بے چینی کی تاریخ طویل ہے۔ مئی 1980 میں جمہوری اصلاحات کے مطالبے پر بڑے پیمانے پر طلبہ احتجاج ہوئے۔ اس کے بعد اس وقت کے بادشاہ بیرندر نے ایک قومی ریفرنڈم کرایا جس میں عوام کو یہ انتخاب دیا گیا کہ وہ بغیر جماعتوں کے پنچایت نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا کثیر الجماعتی جمہوریت چاہتے ہیں۔


اس ریفرنڈم میں پنچایت نظام کے حق میں تقریباً 54.99 فیصد ووٹ آئے، لیکن اس کے باوجود اختلافی آوازیں ختم نہیں ہوئیں۔ اس کے بعد نیپال نے کئی سیاسی ہنگامے دیکھے، جن میں 1996 سے 2006 تک جاری رہنے والی ماؤسٹ بغاوت، 2001 کا شاہی محل قتل عام اور فروری 2005 میں بادشاہ گیانندر کا اقتدار پر قبضہ شامل ہیں۔

ستمبر 2025 کی جین-زی بغاوت کو بھی اسی طویل سیاسی بے چینی کا ایک نیا باب سمجھا جاتا ہے۔ ایک نیپالی بلاگر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ دہائیوں کی سیاسی ہلچل نے نیپال کے عوام میں احتجاج کرنے کا غیر معمولی اعتماد پیدا کر دیا ہے۔ 8 ستمبر کو جین-زی کی طرف سے بلائے گئے احتجاج میں ہزاروں عمر رسیدہ مظاہرین بھی شامل ہو گئے، جن میں بادشاہت کے حامی اور سابق ماؤسٹ کارکن شامل تھے۔ ان میں سے بعض نے جلاؤ گھیراؤ اور تشدد میں بھی حصہ لیا۔

انہوں نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے پر اکسایا، سرکاری اہلکاروں اور وزرا پر حملے کیے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد وہی واقعات پیش آئے جو اکثر ایسے حالات میں دیکھنے کو ملتے ہیں—پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، فائرنگ اور ہلاکتیں، چاہے وہ کٹھمنڈو ہوں یا ڈھاکا۔ نیپال میں احتجاج کی ایک بڑی وجہ اس وقت کی اولی حکومت کا وہ اقدام بھی تھا جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو وزارتِ مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں رجسٹر ہونا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

ٹک ٹاک اور وائبر کے علاوہ بیشتر پلیٹ فارموں نے رجسٹریشن سے انکار کر دیا۔ جب میٹا (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ)، الفابیٹ (یوٹیوب) اور ایکس نے سات دن کی مہلت کو نظرانداز کیا تو حکومت نے انہیں بلاک کرنا شروع کر دیا۔ جیسا کہ ایک اخبار نے لکھا، ڈیجیٹل دنیا سے گہرے طور پر جڑی نیپال کی جین-زی کے لیے یہ فیصلہ آخری دھچکا ثابت ہوا۔ نیپال میں موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ آر ایس پی نے اپنے انتخابی مہم کا بڑا حصہ آن لائن پلیٹ فارموں پر چلایا۔ پارٹی نے اپنے پیغام اور اپنے انتخابی نشان نیلی گھنٹی کو پھیلانے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع کا بھرپور استعمال کیا۔


انٹرنیٹ کے استعمال میں مہارت رکھنے والی آر ایس پی نے الگورتھمز، بوٹس، مونیٹائزڈ ویب سائٹس اور کانٹینٹ کریئیٹرز سے جس انداز میں فائدہ اٹھایا، اس کے مقابلے میں روایتی سیاسی جماعتیں بہت پیچھے رہ گئیں۔ دوسری طرف بنگلہ دیش میں این سی پی نے سیاسی میدان میں اترنے سے پہلے ہی کچھ تجربہ حاصل کر لیا تھا۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے سیاسی حالات میں کئی مماثلتیں تھیں، لیکن نوجوانوں کے ساتھ سیاسی تعلق بنانے کے طریقے مختلف رہے۔

این سی پی کے رہنما یاسر عرفات کے مطابق جب پارٹی قائم کی گئی تو ابتدا میں اسے ایک دباؤ ڈالنے والے گروپ کے طور پر دیکھا گیا تھا، جس کا مقصد حکومت کو اہم مسائل پر جوابدہ بنانا تھا۔ بعد میں طویل اندرونی مشاورت کے بعد اسے باقاعدہ سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ عرفات نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا کہ عبوری حکومت میں شامل ہونا یا جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کرنا ان کی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہوگا۔

ان کے مطابق اگرچہ نوجوان ووٹروں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے، مگر بنگلہ دیش میں جین-زی کی حمایت کا اصل فائدہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این سی پی کے برعکس نیپال کی آر ایس پی کو سیاست اور حکمرانی کا نسبتاً زیادہ تجربہ حاصل تھا۔ نوجوانوں میں مقبول ہونے سے پہلے ہی یہ جماعت پرچنڈا کی قیادت والی حکومت میں اتحادی کے طور پر شامل رہ چکی تھی اور مارچ سے جولائی 2024 کے دوران چار وزارتیں بھی سنبھال چکی تھی۔

اگرچہ جین-زی کی اس نئی لہر نے نیپال کے روایتی اقتدار کو زبردست چیلنج دیا ہے، مگر بعض مبصرین اسے ایک عارضی سیاسی لہر بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب آر ایس پی کو عملی حکمرانی کے مشکل مراحل کا سامنا ہوگا تو حالات بدل سکتے ہیں۔ وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ نیپال میں تبدیلی کی علامت بننے والے بالین شاہ اور آر ایس پی کے رہنما روی لامیچھانے کے درمیان تعلق نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ سیاسی مفاہمت پر مبنی ہے۔


بنگلہ دیش اور نیپال کے حالیہ تجربات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ نوجوانوں کی قیادت میں اٹھنے والی تحریکوں کے ذریعے حکومت گرانا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر اقتدار میں آ کر اسے برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔

اگر سیاسی مجبوریوں نے پالیسی سازی کی جگہ لے لی تو ایسی تحریکیں آسانی سے اسی نظام کے اندر جذب ہو سکتی ہیں جس کے خلاف وہ کھڑی ہوئی تھیں۔ اگر ایسا ہوا تو نیپال میں بھی ایک بار پھر وہی پرانی سیاسی صورتحال لوٹ سکتی ہے—اور آر ایس پی کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے جو بنگلہ دیش میں این سی پی کا ہوا۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد مصنف اور سیاسی، انسانی حقوق اور خارجہ امور کے تبصرہ نگار ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔