طنز و مزاح: 70 سال تو کیا، آزادی کے سو سال بعد بھی ایسا ’ڈریس بدلو-بھیس بدلو‘ نہیں ملنے والا

مودی جی کے اعداد و شمار کی طرح قابل یقین ایک ڈیٹا کے مطابق پی ایم نے 1740 دن میں 17489 ڈریس بدلیں۔ آزادی کے بعد ایک بھی ایسا وزیر اعظم بتا دیں! 70 تو کیا 100 سال بعد بھی ایسا پی ایم نہیں ملے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وشنو ناگر

ہم بھی کتنے ضدی ہیں، اعتراف ہی نہیں کرتے کہ مودی جی کی بہت کامیابیاں ہیں، مودی جی کے سر سہرہ باندھنے میں ہم کنجوس ہیں، یہ شکایت میرے کچھ دوستوں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج تک میں نے ان کی تعریف میں ایک لفظ نہیں لکھا! میں نے سوچا کہ چلو، آج لگے ہاتھ انہیں خوش کر دوں، حالانکہ دوست ہیں، اس لئے خوش ہوں گے نہیں۔ پھر بھی...

تو دوستو! مودی جی کے ان قریب-قریب پانچ سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اور ابھی کچھ اور بھی تیزی سے ہوگا وہ بے مثال ہے۔ ابھی حال ہی میں عظیم سی بی آئی کے سابق عبوری ڈائریکٹر ناگیشور راؤ کی جیسی درگت سپریم کورٹ میں ہوئی، جس طرح انہیں عدالتی حکم عدولی کی وجہ سے عدالت کی آخری بینچ پر دن بھر بیٹھنا پڑا، یہ سچ مُچ پچھلے 70 ساسل میں کبھی نہیں ہوا۔ مودی جی کے علاوہ یہ کمال کوئی اور کر ہی نہیں سکتا تھا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر کے دفتر پر سی بی آئی سے آدھی رات میں چھاپہ ڈلوائے، اسے ہٹائے اور عدالت پھر اسے دوبارہ تقرر کر دے تو 24 گھنٹوں میں ہی اسے ہٹوا کر دم لے!۔

اور دوستو! رافیل کی قیمت میں جو روز بروز انکشافات ہو رہے ہیں، جسے حزب اختلاف کی جماعتیں بدعنوانی کا نام دے رہی ہیں، جس کے لئے چور چور کے نعرے لگ رہے ہیں، اسے بھی آپ کی اجازت سے ان کی کامیابیوں کے زخیرے میں شامل کر لیتا ہوں! مودی جی عادتاً سخی ہیں! وہ اپنی کامیابیوں کی تعریف کرنے سے کبھی کسی کو نہیں روکتے۔ اکھلیش یادو کو الہ آباد جانے سے خواہ ہوائی جہاز کی سیڑھی چڑھنے سے روک دیں، لیکن اپنی تعریف کرنے سے کسی کو نہیں روکتے۔ یہ قابل تعریف اور قابل غور بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے کو ایک اشیا سمجھ کر خود ہی اپنی تعریف کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اس طرح سننا پتنجلی کی مختلف مصنوعات کو دیکھنے-سننے جیسا تکلیف دہ ہے۔

اور دوستو، جب قسم توڑ کر مودی جی کی تعریف کرنے پر اتر ہی آیا ہوں تو پیار کیا تو ڈرنا کیا کی طرز پر اس مرتبہ صرف ان کی تعریف ہی کروں گا۔ جسے پڑھنا ہو پڑھے، ورنہ بھاڑ میں جائے! ویسے بھاڑ میں جانا ناممکن ہو گیا ہے۔ بھاڑ اب مشکل سے بھی نہیں ملتے۔ اس سے آسان تو پاکستان جانا ہے۔ بی جے پی کا کوئی بھی رہنما آپ کو اس کا فضائی ٹکٹ بغیر مانگے دے گا اور آپ کا احسان بھی مانے گا۔

ویسے دوستو، مودی عظیم کے علاوہ یہ کامیابی اور کس کے کھاتے میں درج ہو سکتی ہے کہ وعدہ انہوں نے ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا کیا اور ایک سال میں ایک کروڑ لوگوں کو بے روزگار کر کے دکھا دیا! کیا اتنی بڑی بے روزگاری مہم کوئی اور وزیر اعظم چلا کر دکھا سکتا تھا؟ کبھی نہیں۔ ایسا جگر والا آج تک کوئی دوسرا وزیر اعظم پیدا نہیں ہوا۔

آج تو ان کی کامیابیاں ہی کامیابیاں نظر آ رہی ہیں۔ ان سے پہلے منموہن سنگھ وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ اتنے آرام پسند تھے کہ انہوں نے دس سال میں اتنے کم دورے کیے کہ اس سے تقریباً دوگنی رقم تو مودی جی نے 5 سال میں نمٹا کر دکھا دی، پہلی بار! ایک ڈیٹا منظر عام پر آیا ہے، جو مودی جی کے پیدا کیے اعداد و شمار جتنا ہی قابل اعتماد ہوگا، کہ وزیر اعظم نے 1740 دن میں 17489 ڈریسیں بدلی ہیں۔ ایک بھی ایسا وزیر اعظم آزاد ہندوستان کی تاریخ میں بتا دیجیے! ستر سال تو چھوڑیئے، آزادی کے سو سال بعد بھی ایسا ڈریس بدلو-بھیس بدلو وزیر اعظم نہیں ملنے والا!

یہ بھی دوستو، مودی جی کی کامیابی ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر 2017-18 میں تقریباً 1150 کروڑ روپے بجٹ سے زیادہ خرچ کر دیئے۔ مترو، یہ بھی مودی جی کی کامیابی ہے کہ انہوں نے گنگا میں نہاؤ اور بدعنوانی کا دریا پار کر جاؤ اور اپوزیشن کی گنگا میں نہانے جاؤ تو سی بی آئی کی دلدل میں پھنس کر رہ جاؤ۔ مودی جی کا اتحاد پاکیزہ، نظریاتی اور دوسروں کا ناپاک اور موقع پرست ہوتا ہے۔ ان کا گٹھ بندھن، مہا گٹھ بندھن اور اپوزیشن کا گٹھ بندھن مہا ملاوٹ! کتنے نرالے، کتنے اچھے مقولہ کو ایجاد کیا ہے، مترو ہمارے مودی جی نے!

مترو! آپ تھک تو نہیں گئے مودی جی کی تعریف سنتے سنتے! نہیں نا! تو پھر سنتے جائیے، خوش ہوتے جائیے۔ اس ملک میں آج تک ایسا کوئی وزیر نہیں ہوا جس نے جھیل کو خیر مقدم کرتے دیکھا ہو اور اسے قبول کیا ہو! مودی جی نے یہ بھی کر دکھایا۔ سری نگر میں ان کے دورے کے ایسے حفاظتی انظامات تھے کہ آدمی تو کیا کوئی چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی، تو ڈل چھیل کو ہی اپنا پرستار بتاتے ہوئے مودی جی نے اس کے سامنے ہاتھ ہلا دیا- یہ بھی ستر سال میں پہلی بار ہوا!

تو دوستو! مودی جی کے تو میں تاریخی اعتبار سے تعریفوں کے پل باندھ سکتا ہوں، مگر کیا ہے کہ مودی جی کی ہی طرح ان کے پرستار بھی اپنی تعریفیں زیادہ سننا چاہتے ہیں۔ مودی جی سے انہیں ایسے ہی اعلیٰ ہندوستانی اقدار حاصل ہوئے ہیں! اس لئے دوستو، تھوڑا لکھا ہے، بہت سمجھنا اور کوئی بھڑکائے تو بھڑکنا مت، کہ میں نے جو لکھا ہے وہ مودی جی کی تعریف نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ان کی ہی نہیں، آپ کی بھی تعریف ہے۔ اس کا کریڈٹ مودی جی کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی تعریف کرنا ملک کو سکھایا اور خود پر تنقید کرنے والوں، کالے جھنڈے دکھانے والوں کو لاٹھی ڈنڈا دکھایا! 70 سال میں جمہوریت کو ایک نئی شناخت دینے کے لئے ملک، مودی جی کا اور آپ سب کا بھی قرض دار ہے اور یہ قرض اتر نہیں پائے گا۔

لیک ایک بات کہوں دوستو، برا مت ماننا۔ 2002 کی ان کی کامیابی کے آگے یہ تمام کامیابیاں پھیکی ہی ہیں۔

Published: 17 Feb 2019, 9:09 PM