کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری... ظفر آغا

افسوس کہ ایک جدید ہندوستان کا جو ماڈل نہرو چھوڑ گئے تھے، وہ خطرے میں ہے۔ الیکشن کمیشن، عدلیہ، پارلیمنٹ سے لے کر پنچایتی راج تک چلنے والے اداروں پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

ظفر آغا

جشن آزادی سے بڑھ کر بھلا کون سا جشن ہو سکتا ہے۔ اگر جشن آزادی 75ویں ہو تو پھر تو خوشی جتنی بھی ہو کم ہی سمجھیے۔ تب ہی تو سارا ملک ان دنوں اس جشن میں ڈوبا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری نسل جس نے غلامی نہیں دیکھی، اس کو آزادی کی سہی قدر سمجھ پانا مشکل ہے۔ مگر ہم سنہ 1950 کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کو یہ اندازہ ضرور ہے کہ آزادی کے بعد کا بھی سفر کوئی آسان سفر نہیں تھا۔ کیونکہ انگریز نہ صرف ملک لوٹ کر جا چکا تھا بلکہ سنہ 1947 میں اس نے ملک کی باگ ڈور جب ہم ہندوستانیوں کو سونپی تو ملک کو چلانے کے لیے وہ کچھ چھوڑ نہیں گیا تھا۔ پھر اس پر سے ہندوستان کا بٹوارا ہو چکا تھا۔ ملک میں فرقہ پرستی کی آگ سلگ رہی تھی۔ جواہر لال نہرو کو بہ حیثیت پہلے وزیر اعظم اس ملک کی جو باگ ڈور ملی اس کو پکڑ کر ہندوستان چلا پانا آسان نہیں تھا۔ سب سے پہلے تو نہرو کو نفرت کی آگ بجھانی تھی۔ گاندھی جی آزادی کے بعد ہی اس نفرت کا شکار ہو چکے تھے۔ پھر سردار پٹیل اور مولانا آزاد جیسے جنگ آزادی کے بلند قامت قائد بھی گزر چکے تھے۔ اب جواہر لال نہرو پر یک و تنہا ملک کو صرف چلانے کی ذمہ داری ہی نہیں تھی بلکہ ملک کے لیے ایک ایسا راستہ تلاش کرنے کی بھی ذمہ داری تھی جس پر چل کر ملک خود مختار، مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

آج سنگھ پریوار نہرو کے خلاف کتنی ہی نفرت کا سیلاب پھیلائے لیکن اس بات سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آج اس اکیسویں صدی میں ہندوستان اگر ساری دنیا میں سربلند ہے تو یہ جواہر لال نہرو کا ہی کمال ہے۔ کیونکہ جواہر لال نہرو نے نہ صرف اپنی زندگی میں ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا بلکہ اپنی وزارت عظمیٰ کے فقط17 برسوں میں ملک کے لیے وہ تمام سامان یعنی ادارے بھی قائم کر دیے جن کی مدد سے ملک خود ان کے بعد بھی ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکے۔ یہ ان کی بصیرت کا کمال تھا کہ آج ہندوستان دنیا کے مٹھی بھر ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے۔ لیکن جواہر لال نہرو نے یہ کمال کیا کیونکر!


سنہ 1947 میں جب نو آبادیاتی نظام ختم ہونا شروع ہوا تو آزادی یافتہ ممالک کے لیے یہ ایک چیلنج تھا کہ وہ کس راستے پر چلیں۔ اس وقت دنیا کے سامنے ترقی کے دو راستے تھے۔ ایک طرف مغربی یورپ اور امریکہ کا خالص سرمایہ دارانہ نظام تھا اور دوسری طرف سوویت یونین کی قیادت میں خالص کمیونزم کا راستہ تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام میں غریب اور عام آدمی کے لیے کچھ نہیں تھا، تو خالص سوشلسٹ نظام میں عام انسان حکومت کے خلاف اپنی آواز نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس نظام میں individual rights اور human rights کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یہ جواہر لال نہرو کی ہی بصیرت تھی کہ انھوں نے ان دونوں نظام کی خوبیاں یکجا کر ایک middle road تلاش کی جس میں ہر ہندوستان کو ووٹ دینے کا حق تھا، بولنے کی آزادی تھی، اس کے لیے human rights بھی تھے اور ساتھ ہی سرمایہ داری کے لیے بھی آزادی تھی۔ لیکن غریب کی غربت دور کرنے کے لیے نہرو نے ایک welfare state کا تصور دیا تاکہ غریب بھی غربت سے باہر نکل سکے۔ ان ہی بنیادوں پر آئین قائم ہوا اور آئین کی نگرانی میں سنہ 1952 سے چناؤ شروع ہوئے اور ملک میں جمہوری نظام کے ساتھ آزاد ہندوستان کا کاروان آزادی آگے چل پڑا۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جواہر لال کو ملک کی آزادی کو ہندوستان کی صدیوں پرانی قدروں سے جوڑنے کا بھی خیال تھا۔ ہندوستان ہزاروں سال سے ایک لبرل اور وسیع دامن ملک تھا۔ یہاں دنیا کے ہر مذہب، ہر رنگ و نسل کے لوگ آئے او ریہاں بستے چلے گئے۔ تب ہی جواہر لال نہرو کی نگرانی میں اس ملک نے آزادی کے وقت سے ہی گنگا جمنی تہذیب اور Unity in Diversity کا نظریہ اپنایا۔ بٹوارے کے بعد بھی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور ہر identity والے گروہ کو آئینی طور پر برابر کے شہری اور برابر کے حقوق مہیا کیے گئے۔ جواہر لال سمجھتے تھے کہ اگر ہندوستان کی diversity یعنی رنگا رنگ تہذیب کو جلا نہیں ملی تو ملک نفرت کی آگ میں جھلس جائے گا اور ہندوستان ترقی نہیں کر سکے گا۔ چنانچہ ملک میں ایک سیکولر نظام کی بنیاد پڑی اور اس نے ہر قوم، ہر نسل، ہر زبان والے ہندوستانی کو برابر کے مواقع فراہم کیے۔


تیسری اہم بات جو جواہر لال نے ملک کی ترقی کے لیے ضروری سمجھی، وہ یہ تھی کہ آزاد ہندوستان کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی پر منحصر ایک انڈسٹریل ڈھانچے کی ضرورت ہے جو انھوں نے قائم کیا۔ اگر سنہ 1950 کی دہائی میں وہ ڈھانچہ نہ بن پاتا تو آج ہم اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے، آج ہندوستان جہاں ہے۔ جواہر لال نہرو کے بعد نہرو-گاندھی خاندان نے نہرو کی اس بصیرت کو نہ صرف قائم و دائم رکھا بلکہ ملک کی اس وراثت کو آگے بڑھایا۔ تب ہی تو اندرا گاندھی کی قیادت میں Self-Reliance کی پالیسی رہی ہو، یا پھر راجیو گاندھی کی قیادت میں کمپیوٹر انقلاب رہا ہو، سب اسی نہرو بصیرت کے جدید راستے پر چل کر ملک کی ترقی کی نئی راہیں تھیں۔ سونیا گاندھی کی قیادت میں یو پی اے حکومت نے ملک میں منریگا جیسی اسکیموں کے تحت گیارہ کروڑ ہندوستانیوں کو غریبی ریکھا سے نکال کر جواہر لال نہرو کے Welfare State ماڈل کو ایک نئی جلا دی۔

مگر افسوس 75ویں جشن آزادی کے موقع پر ایک جدید ہندوستان کا جو ماڈل نہرو چھوڑ گئے تھے، وہ خطرے میں ہے۔ الیکشن کمیشن، عدلیہ، پارلیمنٹ سے لے کر پنچایتی راج تک چلنے والے اداروں پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ کہنے کو ہم اب بھی مفت راشن بانٹ کر Welfare State چلا رہے ہیں، لیکن ’ریوڑی بانٹنے‘ کے نام پر وہ بھی خطرے میں ہے۔ ملک کی اقلیت، بالخصوص مسلمان کو دوسرے درجے کا شہری ہونے کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ کبھی اس کی مسجد، تو کبھی اس کی نماز تک پر آنچ آ چکی ہے۔ ماب لنچنگ جیسے واقعات نے اس کے اندر ایک خوف پیدا کر دیا ہے۔ اس کی آزادی اور حقوق خطرے میں ہے۔ اس طرح ملک کا رنگا رنگ گنگا-جمنی تہذیب کا ماڈل بھی خطرے میں ہے۔


خیر اس جشن کے موقع پر ان تمام خطرات کو بھلا کر آئیے ہم سب ملک کی آزادی کی 75ویں سالگرہ پورے جوش و خروش کے ساتھ منائیں۔ کاروانِ ہندوستان کو پہلے بھی روکنے کی کوشش ہوئی اور آزادی کے بعد بھی طرح طرح سے اس کو مٹانے کی کوشش ہوتی رہی۔ لیکن بقول اقبال– کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری...۔

اسی امید کے ساتھ ’قومی آواز‘ کے قارئین کو آزادی کی 75ویں سالگرہ کی دلی مبارکباد اور دعا ہے کہ کاروانِ ہند ترقی کی راہوں پر گامزن رہے اور دنیا کے لیے ایک مثال بن جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */