کربلا: حق و باطل کے درمیان حد فاصل

امام حسین علیہ السلام کی عظیم ہستی اور لازوال تحریک کے بارے میں انسان جتنا بھی سوچتا ہے، غور و فکر اور تحقیق و مطالعہ کا میدان اتنا ہی وسیع و عریض نظر آتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

دنیا میں رائج دیگر کیلنڈروں میں نئے سال کا آغاز اک نئی زندگی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں لوگ اپنے اپنے نئے سال کے آغاز کو اک جشن کی صورت میں مناتے ہیں بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ جتنی دھوم دھام سے نئے سال کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، شاید اتنے زور و شور اور دھوم دھام سے مذہبی تہوار بھی نہیں منائے جاتے۔ لیکن اسی دنیا کی سوا ارب سے زائد آبادی پر مشتمل عالم اسلام کے سال نو کا آغاز اپنی تقویم کے رائج ہونے کے61ویں سال سے غم و اندوہ اور اضطراب و بے چینی کی کیفیات کے ساتھ منایا جاتا رہا ہے اور تا وقت قیامت اس میں خوشی اور انبساط کی کیفیت کو تلاش کرنا ایک سعی لاحاصل ہی رہے گی۔ جہاں دوسری اقوام اپنے نئے سال کا جشن مناتی ہیں، وہیں ایک قوم اپنے نئے سال کا آغاز رونے سے کرتی ہے۔

آخری نبی رسولِ اکرم کے اس دنیا سے رحلت کر جانے کے محض 50 سال کے اندر آپ کے خون پسینے سے سینچے گئے دین خدا کے نوزائیدہ گلشن پر وحشیانہ حملے ہوئے اور تدریجاً دین اسلام پر ایسا برا وقت آن پڑا کہ اس کی ڈوبتی نبضوں کو سنبھالا دینے کے لئے آپ کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کو حتمی اور آخری اقدام کے طور پر اپنا، اپنے اہل و عیال اور اپنے رفقاء کا خون عطیہ کرنا پڑا۔ محرم سنہ 61 ھ میں کربلا کی زمین میں خانوادہ رسول کا جذب ہونے والا پاکیزہ لہو دراصل شفق پر سرخی بن کر چھا گیا اور اس معطر لہو کی مہک دو عالم میں پھیل گئی۔ صدیاں بیت گئیں لیکن حسین کا غم بدستور تازہ ہے اور عاشقان اہل بیت آج بھی عقیدت و احترام سے عزاداری کا انعقاد کرتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

حقیقت یہ ہے کہ حسینؑ کسی ایک مسلک و فرقے کا نہیں، حسینؑ انسان اور انسانیت کی بقا کا نام ہے۔ یہ بات 10 محرم 61ھ کو واضح ہوگئی تھی کہ جہاں جھوٹ، فریب، فتنہ، فساد اور لوٹ مار ہوگی وہاں یزید ہوگا اور جہاں حق ہی حق ہو، وہ حسینؑ کی سلطنت ہوتی ہے۔ خانوادہ رسول پر پڑنے والے مصائب کی یاد منانا اور اپنے اپنے انداز میں اس کا اظہار کرنا ہر شخص کا ذاتی فعل، اس کی معرفت کے معیار کا عکاس اور اس کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہے۔ انسان کا تعلق چاہے کسی بھی مسلک اور فرقے سے ہو یا وہ کوئی بھی نقطہ نظر رکھتا ہو، کربلا وہ واحد نقطہ اشتراک ہے جہاں تمام مسلمان صدیوں سے متفق ہیں لیکن طاغوتی سازشوں نے عقائد پر حملہ کر کے مسلمانوں سے ان کی وحدت چھیننے کی کوشش کی ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانیں اور اپنے اتحاد کے ذریعے اس کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ اندازِ عزاداری جو بھی ہو، یہ اتنا اہم نہیں، اہم تو تعلق اور روحانی وابستگی ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی عظیم ہستی اور لازوال تحریک کے بارے میں انسان جتنا بھی سوچتا ہے، غور و فکر اور تحقیق و مطالعہ کا میدان اتنا ہی وسیع و عریض نظر آتا ہے۔ اس عظیم و تعجب خیز واقعے کے بارے میں اب بھی بہت سی باتیں ہیں کہ جن پر ہمیں غور و فکر اور اس پر بات کرنی چاہئے۔ اگر باریک بینی سے اس واقعے پر نظر ڈالیں تو شاید یہ کہا جا سکے کہ انسان امام حسین کی چند مہینوں پر محیط تحریک سے ہزاروں درس حاصل کرسکتا ہے کہ جس کی شروعات مدینے سے مکہ کی سمت سفر سے ہوئی اور اختتام کربلا میں جام شہادت نوش کرنے پر ہوا۔ اگر ہم امام حسین کے کاموں کو باریک بینی سے دیکھیں تو اس سے سینکڑوں باب اور سینکڑوں عنوان نکل سکتے ہیں، جن میں سے ہر باب اور ہر عنوان ایک قوم، ایک تاریخ اور ایک ملک کے لئے، نظام چلانے اور خدا کی قربت کے حصول کا باعث بن سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حسین مقدس ہستیوں کے درمیان سورج کی طرح چمک رہے ہیں۔ امام حسینؑ کی تحریک میں ایک اہم و اصلی سوال یہ ہے کہ امام حسین نے قیام کیوں کیا؟ معاملہ کیا ہے؟ کچھ لوگ یہ کہنا پسند کرتے ہیں کہ امام عالی مقام، یزید کی فاسد و بدعنوان حکومت کو گرا کر خود ایک حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، یہ امام حسین کے قیام کا ہدف تھا۔ یہ بات آدھی صحیح ہے۔ اگر اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے حکومت کی تشکیل کے لئے قیام کیا تو جو حکومت کی تشکیل کی غرض سے آگے بڑھتا ہے، وہ وہیں تک جاتا ہے، جہاں وہ یہ سمجھتا ہے کہ کام ہو جانے والا ہے۔ جیسے ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کام کی انجام دہی کا امکان نہیں ہے تو وہ اس سے پھر جاتا ہے۔ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ نہیں، حکومت کیا ہے، امام کو علم تھا کہ وہ حکومت کی تشکیل میں کامیاب نہیں ہوں گے، بلکہ وہ تو قتل اور شہید ہونے کے لئے آئے تھے! یہ بات کہ امام نے شہید ہونے کے لئے قیام کیا، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے سوچا کہ اب رک کر کچھ نہیں کیا جا سکتا تو چلو شہید ہو کر ہی کچھ کر دیا جائے! یہ بات بھی ہماری اسلامی کتب و روایات میں نہیں ہے کہ جاؤ خود کو موت کے منہ میں ڈال دو۔ ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ مقدس شریعت میں ہم جس قسم کی شہادت سے آشنا ہیں اور جس کی نشاندہی قرآن مجید اور روایتوں میں کی گئی ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ انسان کسی واجب یا اہم مقصد کے لئے نکلے اور اس راہ میں موت کے لئے بھی تیار رہے۔ یہ وہی صحیح اسلامی شہادت ہے لیکن یہ صورت کہ آدمی نکل پڑے تاکہ مارا جائے اور شاعرانہ لفظوں میں اس کا خون رنگ لائے اور اس کے چھینٹے قاتل کے دامن پر پڑیں تویہ ایسی باتیں نہیں ہیں، جن کا تعلق اس عظیم واقعہ سے ہے۔ اس میں بھی کچھ حقائق ہیں لیکن امام حسین کا مقصد یہ نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

مختصریہ کہ نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام حسین نے تشکیل حکومت کے لئے قیام کیا تھا اور ان کا مقصد حکومت کی تشکیل تھا اور نہ ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام نے شہید ہونے کے لئے قیام کیا تھا بلکہ بات کچھ اور ہے۔ جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مقصد حکومت تھایا شہادت تو ان لوگوں نے مقصد اور نتیجہ کو خلط ملط کر دیا ہے، مقصدیہ سب نہیں تھا۔ امام حسین کا مقصد کچھ اور تھا لیکن اس تک رسائی کے لئے ایک ایسے کام کی ضرورت تھی، جس کا شہادت یا حکومت میں سے کوئی ایک نتیجہ سامنے آتا۔ البتہ آپ دونوں کے لئے تیار تھے۔ان میں سے کوئی بھی مقصد نہیں تھا بلکہ دو نتائج تھے، مقصد کچھ اور تھا۔ اگر ہم اسے بیان کرنا چاہیں تو ہمیں اس طرح سے کہنا چاہئے کہ آپ کا مقصد تھا دینی واجبات میں سے ایک عظیم واجب پر عمل کرنا۔ اسی مقصد کو آپ نے اپنی وصیت میں بیان کیا ہے کہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں ۔ ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا اور باطل سے روکا نہیں جا رہا۔

اس واجب پر عمل درآمد کا اس وقت فطری طور پر ان دو میں سے کوئی ایک نتیجہ ہوتا یا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ امام حسین اقتدار و حکومت تک پہنچ جاتے، امام حسین اس کے لئے تیار تھے۔ اگر آپ کو اقتدار حاصل بھی ہو جاتا تو آپ اسے مضبوطی سے تھام لیتے اور اپنے نانا پیغمبر اسلام اور والد امیر المومنین علی کی طرح معاشرے کی رہنمائی کرتے۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اس واجب پر عمل درآمد سے حکومت حاصل نہ ہوتی بلکہ شہادت ملتی، اس کے لئے بھی امام حسین تیار تھے۔ امام حسین نے عملی لحاظ سے ایک بہت بڑا سبق دیا ہے اور درحقیقت اسلام کو اپنے اور دیگر تمام زمانوں میں محفوظ کر دیا۔ اب جہاں بھی اس قسم کی بدعنوانی ہوگی، امام حسین وہاں زندہ ہیں اور اپنی روش اور عمل سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ اسی لئے امام حسین اور کربلا کی یاد کو زندہ رکھا جانا چاہئے، کیونکہ کربلا کی یاد ہمارے سامنے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے درس کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔

پوری تاریخ میں اسلامی ممالک میں اس قسم کے حالات کئی بار پیش آئے۔ آج بھی عالم اسلام میں ایسے بہت سے علاقے ہیں، جہاں ایسے حالات ہیں کہ جن میں مسلمانوں کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے پر عمل کرنا چاہئے، اگر وہ یہ کام کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنا فرض پورا کر دیا اور اسلام کو وسعت دی اور اس کی بقا کویقینی بنا دیا۔ جو قوم فکری اور نظریاتی قید میں ہو، جس قوم کے رہنماء بدعنوان ہوں، جس قوم پر دین کے دشمن حکومت کر رہے ہوں اور اس کے مستقبل اور فیصلوں کے ذمہ دار ہوں، تو اسے امام حسین کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہئے، کیونکہ نواسہ رسول، جگرگوشہ بتول نے بتا دیا ہے کہ ان حالات میں کیا فریضہ ادا کرنا چاہئے۔