یوپی: سرپرستوں کے اکاؤنٹس میں’ایک کلک میں پیسے‘ سننے میں اچھا لگتا ہے، لیکن...

لکھنؤ میں محکمہ تعلیم سے جڑے ایک ریٹائرڈ افسر نے کہا کہ اسکولی سامان کے لیے پیسے کی براہ راست تقسیم سننے میں چاہے جتنا اچھا لگے، لیکن اس کے سماجی نفسیات پر دھیان دیا جانا چاہیے تھا۔

اسکول، علامتی تصویر آئی ااے این ایس
اسکول، علامتی تصویر آئی ااے این ایس
user

دیواکر

تقریباً چھ مہینے تاخیر سے ہی سہی، یو پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی نیند کھلی اور وہ پریشد و غیر سرکاری امداد یافتہ پرائمری اور اعلیٰ پرائمری اسکولوں میں پڑھنے والے ہر بچے کے سرپرستوں کے بینک اکاؤنٹس میں اسکول یونیفارم، سویٹر، جوتا-موزہ اور اسکول بیگ کے لیے 1100 روپے بھیج رہی ہے۔ یہ چیزیں جولائی میں ہی بچوں کو مہیا کرانا لازمی تھا۔ اس بار کورونا کا قہر تھا اس لیے حکومت نے تب سے یہ منصوبہ روک رکھا تھا۔ اب اسکول کھل گئے ہیں، یا کھل رہے ہیں، تو انھیں تقسیم کرنے کا فیصلہ حکومت نے لیا ہے۔ پہلے مرکزی سطح پر خریداری ہوتی تھی اور تعداد کے مطابق اسکولوں کو انھیں تقسیم کرنے کے لیے دے دیا جاتا تھا۔ اس بار حکومت اس کے لیے سرپرستوں کے اکاؤنٹس میں پیسے دے رہی ہے۔ تھوک خریداری اور خوردہ خرید کی شرحوں میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی حکومت نے شرحیں تقریباً وہی رھی ہیں جو تھوک خرید میں ہوتی رہی ہیں۔ مثلاً 600 روپے میں اسکول ڈریس کے دو سیٹ، 200 روپے میں سویٹر، 135 روپے میں جوتے، 21 روپے میں موزے کے دو سیٹ اور بچے پیسے سے اسکول بیگ۔ اسکول کے سامان کتنے مہنگے ملتے ہیں اور دکاندار گارجین کا کس طرح استحصال کرتے ہیں، یہ کسی بھی ریاست میں کسی بھی گارجین سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے ایسے دکانداروں کے رحم و کرم پر ہی انھیں چھوڑ دیا ہے۔ آنگن باڑیوں میں پڑھنے والے بچوں کے سرپرست انھیں کیسے خریدیں گے، یہ سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد بڑی ہے جو آنگن باڑیوں اور پرائمری اسکولوں میں اپنے بچوں کو صرف اس وجہ سے بھیجتے ہیں تاکہ انھیں مڈ ڈے میل مل سکے۔ وہ اسے الیکشن کے وقت ایک اور تحفہ مان لیں، تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے 60 فیصد سے زیادہ اسکولوں میں اب تک کتابیں نہیں پہنچی ہیں۔ سرکاری انگریزی اسکولوں میں تو یہ تعداد تقریباً صفر ہی ہے۔ کچھ مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔ اس سیشن کے چار مہینے بچے ہیں۔ اس لیے سب کچھ اوپر والے پر ہے۔

حکومت نے اسکولی سامان کی تقسیم اس بار اس بنیاد پر روک لی کہ اس میں بدعنوانی کی شکایتیں بہت آتی رہی ہیں۔ اس میں سچائی بھی ہے۔ لیکن بدعنوانی پر قدغن لگانے کا یہ عمل تھوڑا عجیب ہے۔ بلیا میں ایک آنگن باڑی ٹیچر نے کہا کہ ’’جو بچے ہمارے یہاں آتے ہیں، وہ بغیر ڈریس نہیں آتے کیونکہ ہم انھیں اسے مہیا کراتے رہے ہیں۔ اب اگر ان کے سرپرست ڈریس نہیں خریدیں گے تو بچے عام کپڑے پہن کر آئیں گے اور ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔ یہ کھاتے-پیتے کماتے گھروں کے بچے نہیں ہیں کہ ہم انھیں ڈریس، بیگ، موزے، جوتے نہ ہونے پر واپس گھر بھیج دیں۔ ہم نے کسی بھی چیز کے لیے ذرا بھی زور ڈالا تو وہ آنا بند کر دیں گے۔ ہماری فکر یہ بھی ہے کہ پھر وہ نقص تغذیہ کے شکار ہو جائیں گے۔‘‘


غازی پور کے ایک اسکول ٹیچر نے کہا کہ ان سامان کی خریداری مرکزی سطح پر ہوتی رہی ہے، لیکن ان کی تقسیم ہم لوگ کرتے ہیں۔ عام لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ٹیچر-اسٹوڈنٹ رابطہ کا بھی ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔ یہ طریقہ ختم، تو سمجھیے کہ چھوٹے بچے بھی اسکول اور اساتذہ کے تئیں کیا سوچ رکھیں گے؟ لیڈر بدعنوان-بدعنوان چیخیں گے اور بچہ سمجھے گا کہ ہم لوگ ہی بدعنوان تھے، اور ہمارے والدین اگر یہ سامان نہیں دے رہے ہیں تو غلط کیا کر رہے ہیں؟

لکھنؤ میں محکمہ تعلیم سے جڑے ایک ریٹائرڈ افسر نے کہا کہ اسکولی سامان کے لیے پیسے کی براہ راست تقسیم سننے میں چاہے جتنا اچھا لگے، لیکن اس کے سماجی نفسیات پر دھیان دیا جانا چاہیے تھا۔ ہر بات میں ایک کلک میں سبھی کے اکاؤنٹس میں پیسے ٹھیک نہیں ہوتے، دیکھنا یہ چاہیے کہ اس کا کیا استعمال کسے کرنا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔