روزگار کے بازار میں جان پھونکنا آسان نہیں... ڈاکٹر اجیت راناڈے
ہندوستان کا روزگار بحران محض ایک سماجی جنون کی جگہ دوسرا جنون لانے سے حل نہیں ہوگا۔ اس کا حل تب نکلے گا جب کوئی نوجوان سول انجینئر، نرس، ویلڈر، سرکاری ملازم وغیرہ بنے۔

چیف اقتصادی مشیر وی. اننت ناگیشورن نے نہایت صاف گوئی سے وہ بات کہہ دی ہے جسے بے شمار والدین، طلبا اور پالیسی ساز سننا نہیں چاہتے... کہ سافٹ ویئر ڈگری اور ایم بی اے سے وابستہ پرانی کشش اب ختم ہو رہی ہے۔ عالمگیریت کے دور کا فارمولا سیدھا اور سادہ تھا۔ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرو، کوڈنگ سیکھو، اگر ممکن ہو تو ایم بی اے کرو، اور سیدھے وائٹ کالر ترقی کی راہ پر چل پڑو۔ لیکن اب یہ فارمولا قابل اعتماد نہیں رہا۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) معمول کے ذہنی کاموں کی معاشیات کو بدل رہی ہے۔ اے آئی ٹولز کی مدد سے اب ایک تجربہ کار ملازم اکیلا وہ کام کر سکتا ہے جس کے لیے پہلے درجنوں نئے ملازمین کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس کا پہلا اثر شاید بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کٹوتی کی صورت میں نظر نہ آئے، بلکہ ابتدائی مواقع کے خاموشی سے ختم ہونے کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے حال ہی میں بھرتیوں میں کی گئی کمی اس کا براہ راست ثبوت ہے۔
لیکن ان کی اس تنبیہ کو انجینئرنگ یا مینجمنٹ کی تعلیم کے خاتمہ کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔ ہندوستان کو انجینئروں کی ضرورت کم نہیں ہوئی، البتہ اب مختلف قسم کے انجینئر درکار ہیں۔ مثال کے طور پر سول انجینئرنگ ہندوستان کے مستقبل کے مرکز میں برقرار رہے گی۔ ایک ایسا ملک جو اب بھی سڑکیں، پل، بندرگاہیں، ریلوے، آبی نظام، رہائشی منصوبے، لاجسٹکس پارک اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہر تعمیر کر رہا ہو، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ انجینئرنگ ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ اچھے انجینئروں کی طلب مزید بڑھے گی۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ انجینئرنگ کس نوعیت کی ہو؟ کل کا سول انجینئر صرف کنکریٹ اور سروے کے پرانے فارمولے نہیں سیکھ سکتا۔ اسے موسمیاتی خطرات، آبی بحران، شہری سیلاب، ماحول دوست تعمیراتی مواد، جی آئی ایس میپنگ، پروجیکٹ فائنانس، خریداری اور لائف سائیکل مینٹیننس کو سمجھنا ہوگا۔ میکانیکل اور الیکٹریکل انجینئروں کو روبوٹکس، پریسیژن مینوفیکچرنگ، اسٹوریج، گرڈ اور قابل تجدید توانائی کے انضمام کو سمجھنا ہوگا۔ کمپیوٹر انجینئروں کو معمول کی کوڈنگ سے آگے بڑھ کر سسٹم تھنکنگ، ڈاٹا آرکیٹکچر، سائبر سیکورٹی اور اے آئی کے اطلاق کی طرف جانا ہوگا۔
یہی بات ایم بی اے پر بھی نافذ ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تجزیاتی اور انتظامی مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت کم نہیں ہوئی۔ لیکن اسے ایسے مقامات پر لوگوں کی ضرورت ہے جہاں وہ آج شاید ہی کبھی نظر آتے ہوں۔ ہر ضلع کو ایسے افراد درکار ہیں جو ڈاٹا کا تجزیہ کر سکیں، سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی تیار کر سکیں، منصوبوں کا جائزہ لے سکیں، نتائج کی نگرانی کر سکیں، خریداری کے نظام کو بہتر بنا سکیں، عوامی اثاثوں کا انتظام کر سکیں اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ اگر ہندوستان نچلی سطح کی منصوبہ بندی کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو ضلع صرف ایک انتظامی اکائی بن کر نہیں رہ سکتا۔ اسے منصوبہ بندی، ڈاٹا اور عمل درآمد کی ایک متحرک اکائی بننا ہوگا۔
کیوں نہ ضلعی منصوبہ بندی کے دفاتر کو معاشیات، مینجمنٹ، عوامی مالیات، شماریات، جی آئی ایس، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور سماجی شعبے کی خدمات کی فراہمی میں تربیت یافتہ نوجوان پیشہ ور افراد کے ذریعے مضبوط بنایا جائے؟ کارپوریٹ ملازمتوں کے پیچھے دوڑنے والے عام ایم بی اے تیار کرنے کے بجائے، ہم ضلعی ترقیاتی تجزیہ کار، بلدیاتی مالیاتی معاون، خریداری کے ماہر، صحت نظام کے منتظم، تعلیمی ڈاٹا افسر اور موسمیاتی موافقت کے افسر تیار کر سکتے ہیں۔ ایسی ٹیمیں مقامی طرز حکمرانی کو بدل سکتی ہیں اور بامعنی روزگار پیدا کر سکتی ہیں۔
یہی وہ مقامات ہیں جہاں نصاب میں اصلاحات اور روزگار کے نئے ڈھانچے کو ساتھ ساتھ چلنا ہوگا۔ کالجوں سے صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا نصاب اپڈیٹ کریں۔ محنت کی منڈی کو بھی ایسے کردار پیدا کرنے ہوں گے جو نئی مہارتوں کو انعام دیں۔ اگر کالج موسمیاتی موافق تعمیرات سکھاتے ہیں لیکن محکمہ تعمیرات عامہ پرانے معیار پر ہی بھرتیاں کرتا ہے تو کچھ نہیں بدلے گا۔ اگر ایم بی اے کے طلبا ڈاٹا اینالیٹکس سیکھتے ہیں، لیکن ضلعی انتظامیہ میں نتائج کی نگرانی یا جی آئی ایس میپنگ کے لیے کوئی عہدہ ہی موجود نہیں ہے تو وہ مہارت بے کار چلی جائے گی۔ روزگار میں اصلاحات کے بغیر تعلیمی اصلاحات صرف ایک اور ’سرٹیفکیٹ فیکٹری‘ بن کر رہ جاتی ہیں۔
چیف اقتصادی مشیر کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ہندوستان کو ہنرمند پیشوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ویلڈنگ، پلمبنگ، بڑھئی کا کام، برقی کام، نگہداشت، نرسنگ، ہوٹل انڈسٹری اور پکوان سے متعلق کاموں میں انسانی موجودگی، فیصلہ سازی، مہارت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی جگہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) آسانی سے نہیں لے سکتی۔ لیکن یہاں بھی ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آپ صرف نصیحت کر کے سماجی رویہ نہیں بدل سکتے۔ ایک متوسط طبقے کا والدین، جس نے اپنے بچے کو انجینئر یا ایم بی اے بنانے کے لیے 2 دہائیاں صرف کی ہوں، وہ اچانک ویلڈنگ کو اتنا ہی پرکشش متبادل تسلیم نہیں کرے گا۔ ہندوستان میں ڈگری صرف قابلیت نہیں، یہ سماجی وقار، شادی کی ’بازاری قیمت‘، ذات پات کی نقل و حرکت، ہجرت کے امکانات اور جسمانی مشقت کی غیر یقینی صورتحال کے خلاف ایک بیمہ بھی ہے۔
اسی لیے جرمنی، سوئٹزرلینڈ، جاپان یا جنوبی کوریا کے ساتھ موازنہ نہایت احتیاط سے کیا جانا چاہیے۔ وہاں ہنرمند پیشوں کو احترام اس لیے حاصل ہے کیونکہ وہاں کے اداروں نے انہیں باوقار بنایا ہے۔ ہندوستان کے پاس ایسا کوئی ماحولیاتی نظام موجود نہیں ہے۔ ہمارے پاس انفرادی طور پر بہترین کاریگر تو ہیں، لیکن پلمبروں، الیکٹریشینوں، ویلڈروں، بڑھئی یا میکینک کے لیے کوئی مضبوط پیشہ ورانہ انجمنیں نہیں ہیں۔ ہمارے پاس آئی ٹی آئی اور ہنر سے متعلق منصوبے تو ہیں، لیکن سماجی وقار کمزور ہے۔ ہمارے پاس سرٹیفکیٹ تو ہیں، لیکن آجروں کا اعتماد نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کی افرادی قوت اب بھی بڑی حد تک غیر رسمی یا غیر رجسٹرڈ ہے۔ ایسی منڈی میں کوئی بھی پیشہ ورانہ مہارت خود بخود عزت یا آمدنی کے تحفظ میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اس کا سیدھا مطلب عارضی مزدوری، منمانی اجرت، تحریری معاہدے کا نہ ہونا، بیمہ کا نہ ہونا، پنشن کا نہ ہونا اور غیر محفوظ کام کے حالات ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس جرمن قانون کے تحت کمپنیوں کے بورڈز میں مزدوروں کی لازمی نمائندگی کا نظام موجود ہے۔
نوئیڈا اور گروگرام-مانیسر بیلٹ میں صنعتی مزدوروں کی جانب سے حال ہی میں کیا گیا احتجاج اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ آٹوموٹیو، گارمنٹس اور متعلقہ مینوفیکچرنگ کے کئی مزدوروں نے مبینہ طور پر تقریباً 20,000 روپے یا اس سے زیادہ کی بنیادی ماہانہ تنخواہ کے لیے احتجاج کیا۔ یہ کوئی سافٹ ویئر انجینئر نہیں تھے جو سالانہ جائزے کے نظام کی شکایت کر رہے تھے۔ یہ کارخانوں کے مزدور تھے جو کہہ رہے تھے کہ ان کی تنخواہ زندہ رہنے کے معیار سے بھی کم ہے۔ آئی ٹی شعبہ نسبتاً رسمی اور عالمی سطح پر مربوط محنت کی منڈی کے طور پر ابھرا، جبکہ صنعتی اور ہنرمند مزدور غیر رسمی نظام اور کنٹریکٹ مزدوری کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی اجتماعی آواز بہت کمزور ہے۔
اصل اور گہرا مسئلہ ہندوستان میں گریجویٹ بے روزگاری کا بحران ہے۔ لاکھوں نوجوان گریجویٹس کام کرنے، کمانے یا تجربہ حاصل کرنے کے بجائے مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازمت لاٹری کے ٹکٹ کی طرح بن گئی ہے، جبکہ کوچنگ کلاسیں انتظار گاہ بن چکی ہیں۔ یہ کوئی غیر منطقی رویہ نہیں ہے۔ یہ ایسی محنت کی منڈی کے حوالے سے نوجوانوں کا نہایت عملی رد عمل ہے جہاں پرائیویٹ شعبے کی ابتدائی ملازمتیں بہت کم تنخواہ دیتی ہیں اور غیر محفوظ ہیں، جبکہ سرکاری ملازمتیں معقول تنخواہ، وقار، تحفظ اور سماجی سیکورٹی فراہم کرتی ہیں۔ یہی منطق جامعات پر بھی نافذ ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ، آن لائن کورسز، بوٹ کیمپس، وبا اور اب اے آئی ٹیوٹرز کی وجہ سے جامعات غیر متعلق ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم میں بڑے پیمانے پر توسیع ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا جامعات اے آئی کو سیکھنے میں ایک شراکت دار کے طور پر استعمال کریں گی یا صرف اسے نقل کرنے کے ایک آلے کے طور پر دیکھیں گی۔
چیف اقتصادی مشیر کی تنبیہ بالکل بروقت آئی ہے۔ لیکن پالیسی کا پیغام ڈگری کو دفنانے کا نہیں بلکہ اسے نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کا ہونا چاہیے۔ پیشہ ورانہ مہارتوں کو رسمی حیثیت دینے اور سماجی وقار دلانے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں روزگار کا بحران صرف ایک سماجی جنون کی جگہ دوسرا جنون لا کر حل نہیں ہوگا۔ یہ اس وقت حل ہوگا جب ایک نوجوان سول انجینئر، کوڈر، نرس، شیف، ویلڈر، ضلعی منصوبہ ساز، ٹیکنیشین، استاد، صنعت کار یا عوامی خدمت گزار بن سکے، اور ہر راستے میں عزت، آمدنی، تحفظ اور آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہوں۔
(مضمون نگار اجیت راناڈے معروف ماہر معاشیات ہیں۔ بشکریہ: بلین پریس)
