انکت کی یاد میں افطار: یشپال سکسینہ کا جذبہ انسانیت قابل تحسین

افطار پارٹی میں مہمانوں کا استقبال کرتے یشپال سکسینہ

انکت کے قتل کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی پوری کوشش کی گئی لیکن پورا ہندوستان اس وقت حیران رہ گیا، جب انہوں نے اس قتل کے لئے پورے مسلم طبقہ کو ذمہ دار ماننے سے انکار کر دیا۔

انکت سکسینہ کے والد نے گزشتہ ہفتے روزہ افطار کا اہتمام کیا۔ جب ایک ہندو افطار کا اہتمام کرتا ہے تو اسے ’سوڈو سیکولر‘ (نام نہاد سیکولر) کہہ دیا جاتا ہے۔ لیکن انکت سکسینہ کے والد کے لئے ایسا نازیبا لفظ استعمال کرنے کی حماقت شاید اس لفظ کو چلن میں لانے والے لال کرشن اڈوانی بھی نہ کر پائیں۔

انکت سکسینہ کے والد یشپال سکسینہ ایک عام انسان ہیں لیکن انہوں نے گزشتہ مہینوں میں جو بھی کیا وہ غیر معمولی ہے۔ ان کے بیٹے کو اس مسلم لڑکی کے خاندان والوں نے گلا کاٹ کر قتل کر دیا جس سے وہ محبت کرتا تھا۔ دن دہاڑے ایک نوجوان کا اس طرح کئے گئے قتل نے سب کو دہلا کر رکھ دیا۔ لیکن ہندوستانی معاشرہ اس طرح کے قتل دیکھنے کا خوب عادی ہے۔ ہندو کا مسلمان سے، مسلمان کا ہندو سے یا دلت کا نام نہاد اعلیٰ ذاتوں سے محبت کا تعلق ہونا ناممکن ہے اور تمام طبقات کے لئے بے عزتی کی بات ہے۔ آپ کی لڑکی اس طبقہ میں نہیں جانی چاہئے جسے آپ کمتر یا پھر اپنا دشمن سمجھتے ہیں، ہاں اگر اس طبقہ کی لڑکی آپ کے طبقہ میں آ جائے تو پھر یہ آپ کی جیت تصور کی جائے گی۔ اس لئے جو لوگ مسلمانوں پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے نوجوانوں کو تیار کر کے ہندو لڑکیوں کو بہلانے پھسلانے کی سازش کرتے ہیں، وہی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی لڑکی لے آؤ۔

ذات یا مذہب کے نام پر ہندوستان میں روزانہ کئی انکت قتل کر دئیے جاتے ہیں۔ اس قتل کو سماج کی قبولیت بھی حاصل ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں ’لو جہاد‘ کا حوا کھڑا کر کے مسلمان نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس لئے جب انکت کا قتل ہوا تو اچانک بی جے پی اور اس کی معاون جماعتوں کو محسوس ہوا یہ اچھا موقع ہے۔

انکت کے والد اور والدہ کو گھیرنے اور اس قتل کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ لیکن دہلی اور ہندوستان ان کے رد عمل کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ انہوں نے اس قتل کے لئے پورے مسلم طبقہ کو ذمہ دار ماننے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ انکت کے نام پر نکالے گئے جلوس میں بھی جانے سے منع کر دیا۔

یشپال نے بڑی سادگی سے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے کے لئے انصاف چاہئے لیکن آخر وہ اس کا حساب سارے مسلمانوں سے کیوں لیں! یہ قتل مسلمانوں کی طرف سے تو نہیں کیا گیا تھا! یہ ایک خاندان کی احمقانہ سمجھ کا خوفناک انجام تھا، اس کے لئے تمام مسلمانوں کو جوابدہ کیوں بنایا جائے!

جو یشپال سکسینہ نے کہا وہی ٹھیک ہے اور سمجھداری کی بات بھی ہے۔ لیکن یہ سمجھ آج ہندوستان میں نایاب ہو چلی ہے۔ تبھی تو یشپال ایک عجوبہ نظر آنے لگے۔ پھر بھی انہوں نے اپنی انسانیت کی ضد نہیں چھوڑی۔ ان کا موقف کوئی سنک یا فطور نہیں تھا اور یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مہینے گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔

یشپال سکسینہ جس طرح کے انسان ہیں مہاتما گاندھی اور نہرو کی خواہش تھی کہ سبھی ویسے ہی ہوں۔ جو کسی موضوع پر ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔ ایسا دماغ ہی بھیڑ کا حصہ ہونے سے خود کو بچا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی بھیڑ بننے سے روک سکتا ہے۔

یشپال سکسینہ کی اس انسانیت کو ان کے بیٹے کے دوستوں کا سہارا ملا۔ ان میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ یہ سہارا بہت ضروری تھا اس کے علاوہ ان کے پڑوسیوں اور ہرش مندر اور ان کی ٹیم نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ یہ ایک نئی برادری ہے، جوکہ ایک سمجھدار برادری ہے۔ یورپ میں ہٹلر کے عروج اور یہودیوں کے قتل عام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ اس وجہ سے ممکن ہو سکا کہ جرمن سماج نے انسانیت کی سمجھ کو معطل کر دیا تھا۔

یشپال نے جو کیا وہ اچھے اچھے اعلی تعلیم یافتہ بھی نہیں کر پاتے۔ وہ اس لالچ سے خود کو بچا نہیں پاتے جیسے کاسگنج میں مارے گئے نوجوان چندن گپتا کے والد سشیل گپتا خود کو نہیں بچا سکے؟ انہوں نے اپنے بیٹے کو شہید، قوم پرست قرار دینے کی مانگ کی اور اس کی موت کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ سب کچھ یشپال بھی کر سکتے تھے، یہی آج کا چلن بھی ہے لیکن انہوں نے بہاؤ کے برعکس تیرنے کا خطرہ اٹھایا۔

یشپال سکسینہ نے رمضان کے موقع پر اپنے مسلمان پڑوسیوں کے لئے افطار کا اہتمام کیا۔ اپنے بیٹے کے نہ رہنے کی تکلیف کو انہوں نے نفرت کا ایندھ نہیں بننے دیا۔ لیکن جیسا ہم نے کہا، اس کے لئے ایک وسیع برادری بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ چیلنج یشپال سکسینہ کے ساتھ اور لوگوں نے بھی قبول کیا اور اس جانب ہندوستان کی توجہ بھی گئی ہے۔

جذبہ انسانیت اکثر خبر نہیں بنتی لیکن یشپال سکسینہ اس وقت بڑی خبر ہے۔ ان کی بات کرنا اور بھی ضروری ہے کیونکہ اس وقت قتل عام کے لئے دماغ تیار کرنے کے کارخانے (آرایس ایس) میں سابق قومی سربراہ پرنب مکھرجی کے دورے کو سخاوت کا بڑا ثبوت مانا جا رہا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول