غزہ میں اسرائیلی قبضہ مضبوط کرنے کی حکمت عملی...اشوک سوین

غزہ میں جنگ کم تو ہوئی مگر قبضہ، ناکہ بندی اور بھوک میں کوئی کمی نہیں۔ امن منصوبہ اسرائیلی فوجی تسلط کو مزید مضبوط کرتا ہے، جبکہ فلسطینی اب بھی انسانی بحران، محدود امداد اور مسلسل پابندیوں کا شکار ہیں

<div class="paragraphs"><p>غزہ کی تباہی کا منظر / فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

اشوک سوین

دنیا کی نظریں بظاہر غزہ سے ہٹ چکی ہیں مگر فلسطینیوں کے لیے زمینی حالات آج بھی شدید تباہ کن ہیں۔ اسرائیلی حملوں کی شدت کچھ کم ضرور ہوئی ہے لیکن یہ کمی کسی حقیقی سکون یا امن کی علامت نہیں۔ عالمی سفارتی حلقوں میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو نئی شروعات کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد انتقالی مرحلہ فلسطینیوں کے لیے محض قبضے، ناکہ بندی اور تشدد کے نسبتاً خاموش مگر بے رحم دور کا دوسرا نام ہے۔

10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی نافذ ہوئی تو بڑے حملوں میں کمی آئی، جس سے لوگوں نے وقتی راحت محسوس کی لیکن 24 نومبر کو اقوام متحدہ کے ماہرین کے گروہ نے بتایا کہ جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی فوج نے کم از کم 393 مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ان کارروائیوں میں 339 فلسطینی شہید ہوئے جن میں 70 سے زائد بچے شامل تھے۔ ماہرین نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیلی اقدامات جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اس کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے۔ یو این او سی ایچ اے کے مطابق چھ میں سے صرف دو کراسنگ کھلے ہیں اور امدادی ٹرک روزانہ مقررہ ہدف 600 کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد میں داخل ہو رہے ہیں۔

صرف غزہ ہی نہیں، مغربی کنارہ بھی بدترین صورتحال سے گزر رہا ہے، جس کا کسی امن منصوبے میں ٹھوس ذکر تک نہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں آمد و رفت کی سخت پابندیاں، تشدد، فوجی چھاپے اور جبری بے دخلیاں بڑھتی چلی گئی ہیں۔ ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں سے محروم کیے گئے، جبکہ امدادی کارکنوں نے سینکڑوں واقعات رپورٹ کیے جن میں اسرائیلی فوج نے انہیں روکا، گرفتار کیا یا پوچھ گچھ کی۔ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی یونین کے مشترکہ تخمینے میں بتایا گیا کہ 2024 میں غزہ کی معیشت 83 فیصد سکڑ گئی، جبکہ مغربی کنارے میں بھی 16 فیصد کمی اور بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوا۔

اس تباہ کن پس منظر کے باوجود سفارتی دنیا میں پیش رفت کی تصویر بڑی خوبصورت دکھائی جاتی ہے۔ 17 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 کے ذریعے امریکہ کے تیار کردہ غزہ امن منصوبے کی منظوری دی، جس میں ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ (آئی ایس ایف)، ایک ’ٹرانزیشنل بورڈ آف پیس‘ اور اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار واپسی کا ذکر ہے۔ منصوبہ فلسطینیوں کے ’حقِ خودارادیت‘ کے لیے ایک مبہم راستے کی بات بھی کرتا ہے مگر یہ راستہ فلسطینی اتھارٹی کی تنظیمِ نو، سیاسی تبدیلیوں اور غیر واضح شرائط پر منحصر ہے۔ نہ اس کی کوئی مدت مقرر ہے، نہ اس کی کوئی فریم ورک نگرانی موجود ہے۔


اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پورا منصوبہ ایک ایسی ’عبوری‘ ترتیب قائم کرتا ہے جس کا بوجھ مکمل طور پر فلسطینیوں پر ڈالا گیا ہے جبکہ اسرائیل کو اپنے تمام مظالم سے بچ نکلنے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ جنگ بندی کی موجودگی بھی اسرائیل کو حملے روکنے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ انہیں مزید دباؤ کے ساتھ جاری رکھنے کی آزادی دیتی ہے۔

غزہ میں سب سے بڑا بحران امداد کی کمی ہے۔ جنگ سے پہلے ہر ماہ 8000 کے قریب تجارتی اور امدادی ٹرک غزہ پہنچتے تھے مگر اب اس کا بہت کم حصہ ہی اندر جا پاتا ہے۔ زرعی زمین تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق 2025 کے وسط تک غزہ کی صرف 1.5 فیصد زرعی زمین ایسی رہ گئی تھی جسے کوئی نقصان نہ پہنچا ہو۔ ایک اور ادارے نے بتایا کہ غزہ کے کئی علاقوں میں باقاعدہ قحط کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ناکہ بندی نے اس بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

اسپتالوں میں ایندھن، ادویات اور بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ دو برس میں 8000 سے زیادہ مریضوں کو، جن میں 5100 بچے شامل ہیں، غزہ سے نکالا گیا مگر اندازاً 16500 مریض اب بھی نکالے جانے کے منتظر ہیں۔ تقریباً 900 افراد انتظار ہی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایسی اموات ہیں جو براہِ راست بمباری سے نہیں بلکہ ناکہ بندی اور صحت سہولیات کی عدم دستیابی جیسے دیگر جنگی اثرات سے ہوئیں۔

مغربی کنارے میں صورتِ حال مختلف ضرور ہے لیکن کم تباہ کن نہیں۔ سڑکوں کی بندش، مستقل چیک پوائنٹس، نئے بیریرز اور پرمٹ سسٹم نے پورے معاشرتی ڈھانچے کو توڑ دیا ہے۔ امدادی تنظیموں کے مطابق 93 فیصد ادارے اعتراف کرتے ہیں کہ سڑکوں کی بندش اور چیک پوائنٹس کی تاخیر نے انسانی امداد کو شدید متاثر کیا ہے۔ روزگار ختم ہو رہے ہیں، آبادی کا انخلا جاری ہے اور خاندان اپنے وسائل کھو رہے ہیں۔


اس سب کے باوجود ’امن منصوبہ‘ ان حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی واپسی کا ذکر تو ہے مگر گزشتہ دو برس کی وسیع تباہی اور انسانی نقصان کا کوئی حساب، کوئی جوابدہی موجود نہیں۔ مغربی کنارے پر ہونے والے جبر، آبادکاروں کی غیر قانونی توسیع اور نسلی امتیاز کے نظام کا بھی کوئی ذکر نہیں۔

اقوام متحدہ کے اپنے انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی امن کاری اصل میں قبضے کو مضبوط کرتی ہے، ختم نہیں۔ ان کے مطابق جب تک اسرائیلی قبضے اور نسلی امتیاز کے نظام کو ختم نہیں کیا جاتا، مستقل امن ممکن نہیں۔

سوال یہ ہے کہ حقیقی امن کے لیے کیا ضروری ہے؟ سب سے پہلے، جنگ بندی کا مطلب ہر قسم کے فوجی حملوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ناکہ بندی مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔ ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ کا مقصد اسرائیلی تسلط کو مزید محفوظ کرنا نہیں بلکہ فلسطینیوں کے حقوق کی ضمانت بننا چاہیے۔ امدادی راستے کھولنے، مریضوں اور زخمیوں کے فوری انخلا، خوراک، ادویات اور ایندھن کی آزادانہ فراہمی کی ضمانت ضروری ہے۔ سب سے اہم شرط یہ ہے کہ قبضے کے پورے نظام کو توڑا جائے، کیونکہ جب تک جبر کی بنیاد موجود رہے گی، امن کا کوئی بھی منصوبہ محض دھوکہ ہی رہے گا۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔