اسلام: بدلتے زمانے میں ایک ابدی حقیقت...ایف اے مجیب
بدلتی دنیا میں علم، ٹیکنالوجی اور طرزِ زندگی تو بدل رہے ہیں، مگر انسان کی بنیادی ضرورتیں وہی ہیں۔ اسلام سچائی، عدل، اخلاق، ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کے ذریعے ایک متوازن تصورِ حیات پیش کرتا ہے

انسان نے زمانے کے ساتھ بہت کچھ بدل ڈالا ہے۔ اس نے پتھر کے زمانے سے نکل کر صنعتی دور تک کا سفر کیا، مشینیں بنائیں، آسمانوں کو چھوا، سمندروں کی تہوں میں اترا اور آج مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے کام انجام دے رہا ہے جن کا تصور چند دہائیاں پہلے بھی حیرت انگیز محسوس ہوتا تھا۔ دنیا سمٹ کر ایک عالمی بستی بن چکی ہے، معلومات کی رفتار حیران کن ہے اور زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود انسان کے کچھ بنیادی سوال آج بھی وہیں کھڑے ہیں: انسان کون ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ خیر و شر کا معیار کیا ہو؟ آزادی کی حدود کہاں تک ہیں؟ دولت، طاقت اور علم کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی معنویت نمایاں ہوتی ہے۔
اسلام ان ہمیشہ قائم رہنے والی حقیقتوں کا نام ہے جنہیں خالقِ کائنات نے انسان کی رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء کے ذریعے بیان فرمایا اور جنہیں اپنی کامل ترین صورت میں آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل کے ذریعے انسانیت تک پہنچایا۔ یہ ایسی سچائیاں ہیں جنہیں ماہ و سال کی گردش پرانا نہیں کر سکتی، کیونکہ ان کا تعلق کسی مخصوص زمانے، خطے یا انسانی ذہن کی محدود سوچ سے نہیں بلکہ انسان کی فطرت اور زندگی کی بنیادی حقیقتوں سے ہے۔ زمانہ بدلتا ہے، رہن سہن کے طریقے بدلتے ہیں، علوم ترقی کرتے ہیں، مگر صداقت، عدل، امانت، رحم، ذمہ داری اور انسانی وقار کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ انسان ہزاروں سال پہلے بھی ان اقدار کا محتاج تھا اور آج بھی ہے۔
اسی لیے اسلام کو صرف عبادات اور مذہبی رسوم کا مجموعہ سمجھنا اس کی وسعت کو محدود کرنا ہے۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جس میں روحانی زندگی کے ساتھ مادی زندگی، فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی تعمیر اور حقوق کے ساتھ فرائض بھی شامل ہیں۔ وہ انسان کو نہ صرف جسم سمجھتا ہے اور نہ صرف روح؛ انسان جسم و روح، عقل و جذبے اور ضرورت و مقصد کا مجموعہ ہے۔ اسے خوراک، رہائش، تعلیم اور معاشی آسودگی کی ضرورت ہے تو محبت، اخلاق، اطمینان اور مقصدِ زندگی کی بھی۔ اسلام ان دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرتا ہے اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ انہیں بلند اخلاقی مقاصد کے تابع رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
یہ توازن آج کے دور میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جدید دنیا نے انسان کو بے شمار وسائل اور بے مثال طاقت دی ہے، مگر ہر نئی طاقت اپنے ساتھ ایک اخلاقی سوال بھی لاتی ہے۔ انسان ایٹمی قوت سے توانائی بھی پیدا کرسکتا ہے اور تباہی بھی، مصنوعی ذہانت سے زندگی آسان بھی بنا سکتا ہے اور اسے نقصان پہنچانے کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔ علم یہ بتا سکتا ہے کہ انسان کیا کرسکتا ہے، مگر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اسلام اسی مقام پر علم کو اخلاق، آزادی کو ذمہ داری اور طاقت کو جواب دہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس کے نزدیک دولت ضرورت ہے مگر مقصدِ زندگی نہیں، علم قوت ہے مگر تکبر کا ذریعہ نہیں اور آزادی حق ہے مگر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کامن سنس: خدا تک پہنچنے کا راستہ...ایف اے مجیب
اسلام دنیا سے کنارہ کشی کا درس نہیں دیتا بلکہ دنیا کو بہتر بنانے کی ذمہ داری دیتا ہے۔ وہ فرد کی اصلاح کو معاشرے کی اصلاح سے جوڑتا ہے اور خاندان، پڑوسی، کمزور اور محتاج کے حقوق کو اخلاقی زندگی کا حصہ بناتا ہے۔ اس کے نزدیک ترقی صرف دولت، طاقت اور آسائش میں اضافے کا نام نہیں بلکہ بہتر انسان اور بہتر معاشرے کی تشکیل بھی ترقی ہے۔ یہی تصور جدید دنیا کے لیے اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب وسائل کی فراوانی کے باوجود تنہائی، بے اطمینانی، معاشرتی نابرابری اور اخلاقی انتشار جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
اسلام کا ظہور ساتویں صدی میں عرب کے ماحول میں ہوا، لیکن اس کا پیغام کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں۔ اس کی بنیادی تعلیمات انسان کی ان ضرورتوں سے متعلق ہیں جو ہر دور میں باقی رہتی ہیں۔ تہذیب کے ذرائع بدل سکتے ہیں، لیکن سچائی، انصاف، انسانی وقار، ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کی ضرورت نہیں بدلتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کو صرف ماضی کی ایک مذہبی روایت سمجھنا اس کے پیغام کی وسعت کو نظر انداز کرنا ہے۔ وہ ہر دور کے انسان کو اس کی نئی صورتِ حال میں انہی بنیادی حقیقتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو انسانی زندگی کو معنی اور سمت عطا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سمٹتی دنیا اور اسلام کی بڑھتی معنویت...ایف اے مجیب
سورج ہر صبح نئی روشنی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، حالانکہ سورج وہی ہوتا ہے۔ اس کی تازگی اس کے بدلنے میں نہیں بلکہ ہر نئی صبح کے لیے اس کی روشنی کی ضرورت میں ہے۔ اسلام کی معنویت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کی بنیادی حقیقتیں نئی نہیں، مگر بدلتے زمانے میں ان کی ضرورت ہمیشہ نئی ہوجاتی ہے۔ دنیا بدلتی رہے گی، علم ترقی کرتا رہے گا اور تہذیبیں نئی منزلیں طے کرتی رہیں گی، لیکن انسان کو ہمیشہ سچائی، عدل، اخلاق، محبت، ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کی ضرورت رہے گی۔ اسلام انہی دائمی ضرورتوں کو ایک جامع تصورِ حیات میں سمو کر انسان کو یہ راستہ دکھاتا ہے کہ وہ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے مگر دنیا کا غلام نہ بنے، علم حاصل کرے مگر اخلاق نہ کھوئے اور طاقت حاصل کرے مگر انسانیت کو فراموش نہ کرے۔ اسی لیے اسلام بدلتے زمانے میں بھی ایک ابدی حقیقت ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
