سمٹتی دنیا اور اسلام کی بڑھتی معنویت...ایف اے مجیب

اصل سوال یہ نہیں کہ انسان ایک دوسرے سے کیسے جڑے، بلکہ یہ ہے کہ اتنے قریب آنے کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ کس اصول پر زندگی گزارے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی معنویت نئے زاویہ کے ساتھ سامنے آتی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

دنیا کبھی اتنی تیز نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جو کام کبھی مہینوں میں مکمل ہوتے تھے، اب منٹوں بلکہ سیکنڈوں میں ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھا انسان چند لمحوں میں ہمارے سامنے آ جاتا ہے، آوازیں سرحدوں کو عبور کر جاتی ہیں، خیالات ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتے ہیں اور مصنوعی ذہانت نے وقت اور محنت کے روایتی پیمانے ہی بدل دیے ہیں۔ ہوائی سفر، انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور جدید مواصلاتی ذرائع نے فاصلے اس قدر سمیٹ دیے ہیں کہ دنیا واقعی ایک عالمی گاؤں بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر اس تیزی کے درمیان ایک دلچسپ تضاد بھی ہمارے سامنے ہے: انسان ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے ہیں، لیکن انسانیت اب بھی ایک دوسرے سے دور ہے۔ آج کسی ملک میں چھڑنے والی جنگ ہزاروں میل دور بیٹھے انسان کے موبائل کی اسکرین پر براہِ راست دیکھی جا سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایک وبا چند دنوں میں براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، کسی ایک ملک کی معاشی بے یقینی دوسرے ملک کے بازاروں کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ پگھلتے گلیشیئر اور بدلتا موسم یہ بتا رہے ہیں کہ زمین کا کوئی مسئلہ اب صرف کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا۔ انسان کی تقدیر پہلے سے کہیں زیادہ مشترک ہو چکی ہے۔

ایسی دنیا میں اصل سوال یہ نہیں کہ انسان ایک دوسرے سے کیسے جڑے، بلکہ یہ ہے کہ اتنے قریب آ جانے کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ کس اصول پر زندگی گزارے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی معنویت ایک نئے زاویے سے سامنے آتی ہے۔ اسلام کی بنیادی دعوت ہی عالمگیریت پر قائم ہے۔ قرآن کسی ایک نسل، قوم، زبان یا خطے کو اپنا مخاطب نہیں بناتا بلکہ "یَا أَیُّہَا النَّاسُ" کہہ کر پوری انسانیت سے خطاب کرتا ہے۔ مختلف قوموں اور قبیلوں کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے قرآن ان کا مقصد "لِتَعَارَفُوا" یعنی ایک دوسرے کو پہچاننا قرار دیتا ہے۔ گویا انسانی اختلاف فطری ہے، لیکن اس اختلاف کو نفرت، تحقیر یا باہمی دشمنی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں یہ تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان اب محض اپنے شہر یا ملک کا شہری نہیں رہا؛ وہ ایک ایسے عالمی معاشرے کا حصہ بن چکا ہے جہاں اس کے فیصلے دوسروں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

سفر، تجارت، تعلیم، ملازمت، میڈیا اور ڈیجیٹل مواصلات نے انسان کو ایک دوسرے کا پڑوسی بنا دیا ہے۔ مگر پڑوسی بن جانے سے ذمہ داری کا احساس خود بخود پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایک اخلاقی بنیاد درکار ہے۔ اسلام اسی بنیاد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی قدر اس کے رنگ، نسل، زبان، دولت یا وطن سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ عرب و عجم، مشرق و مغرب، امیر و غریب—سب اپنی ثقافتی اور معاشرتی شناختوں کے ساتھ رہ سکتے ہیں، مگر بنیادی انسانی حرمت سب کے لیے یکساں ہے۔ یہی تصور ایک ایسے عالمی معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے جہاں تنوع تقسیم کا نہیں، تعارف اور باہمی احترام کا ذریعہ بنے۔


ٹیکنالوجی نے رابطے کے امکانات کو تقریباً لامحدود کر دیا ہے، لیکن اس نے ایک نیا مسئلہ بھی پیدا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر محبت، علم اور دوستی جس رفتار سے پھیلتی ہے، نفرت، تعصب، جھوٹ اور اشتعال بھی اسی رفتار سے پھیل سکتے ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں، اس ذہن اور کردار کا ہے جو اسے استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے مستقبل کی دنیا کو صرف زیادہ طاقتور ٹیکنالوجی نہیں بلکہ زیادہ مضبوط اخلاقی شعور کی ضرورت ہوگی۔ مصنوعی ذہانت انسان کی صلاحیتوں کو غیر معمولی وسعت دے سکتی ہے، مگر یہ اخلاق نہیں سکھا سکتی کہ اس طاقت کو خیر کے لیے استعمال کرنا ہے یا شر کے لیے۔ علم اور طاقت کی رفتار جتنی بڑھے گی، اخلاق اور ذمہ داری کی ضرورت بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ اسلام اسی توازن پر زور دیتا ہے۔ وہ انسان کو صرف اس کے حقوق نہیں بتاتا بلکہ اس کی ذمہ داریاں بھی یاد دلاتا ہے۔ جدید دنیا حقوق کی زبان بخوبی جانتی ہے، مگر ذمہ داری کی زبان کہیں کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ہر شخص اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن دوسرے کے حق کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے ہمیشہ تیار نہیں ہوتا۔ اسلام حق کے ساتھ فرض، آزادی کے ساتھ ذمہ داری، طاقت کے ساتھ عدل اور دولت کے ساتھ اجتماعی بھلائی کو جوڑتا ہے۔ یہی توازن ایک ایسے عالمی معاشرے کے لیے ضروری ہے جہاں ایک فرد کا عمل بسا اوقات ہزاروں یا لاکھوں انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

عالمی معیشت اس کی واضح مثال ہے۔ دنیا کی منڈیاں ایک دوسرے سے جڑ چکی ہیں، لیکن دولت اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسلام دولت کمانے اور رکھنے کی اجازت دیتا ہے، مگر اسے سماجی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔ زکوٰۃ، صدقات، یتیموں اور محتاجوں کے حقوق، ناپ تول میں انصاف اور معاشی استحصال سے اجتناب اس تصور کو واضح کرتے ہیں کہ معیشت محض منافع کا کھیل نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک اخلاقی شعبہ بھی ہے۔

جنگ اور ماحولیات کے مسائل بھی اسی مشترک ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آج ایک ملک کی جنگ کے اثرات ہزاروں میل دور معیشت اور انسانی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی یہ ثابت کر رہی ہے کہ زمین اور اس کے وسائل کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں۔ دنیا جتنی باہم مربوط ہوگی، انسان کو اپنے مفاد سے آگے بڑھ کر اجتماعی بھلائی کے بارے میں سوچنا اتنا ہی ضروری ہوگا۔ اسلام کی عالمگیریت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اتحاد کو یکسانیت نہیں بناتا۔ مختلف زبانیں، تہذیبیں، لباس اور ثقافتی روایات اپنی جگہ قائم رہ سکتی ہیں۔ اسلام انسانوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اپنی تمام ثقافتی شناختیں مٹا کر ایک جیسے ہو جائیں؛ وہ اس سے زیادہ بنیادی بات کرتا ہے کہ اختلاف کے باوجود انسانی وقار، عدل اور باہمی احترام قائم رہنا چاہیے۔ یہی اصول حقیقی عالمی معاشرے کو تشکیل دے سکتا ہے۔

ہم نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے اب بھی باقی ہیں۔ ہم نے آوازیں ایک دوسرے تک پہنچا دی ہیں، مگر ایک دوسرے کا درد سمجھنے کا شعور ابھی مطلوب ہے۔ ہم نے دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے، مگر اسے ایک ایسی انسانی برادری بنانا ابھی باقی ہے جس میں قربت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہو۔ اسی لیے اسلام کی معنویت کو صرف ماضی کے ایک مذہبی تصور کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اسے مستقبل کی دنیا کے تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں سرحدیں تیزی سے کم اہم ہو رہی ہیں، انسان کو ایسے اصول درکار ہیں جو سرحدوں سے بلند ہوں؛ جو انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھیں، ترقی کو اخلاق سے، آزادی کو ذمہ داری سے، طاقت کو عدل سے اور دولت کو اجتماعی بھلائی سے جوڑیں۔


دنیا مزید سمٹے گی، ٹیکنالوجی مزید تیز ہوگی اور انسان ایک دوسرے پر مزید منحصر ہوتا جائے گا۔ مگر اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ انسان ایک دوسرے تک کتنی تیزی سے پہنچ سکتا ہے؛ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ اتنی قربت کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کتنے انصاف، احترام اور رحمت سے رہ سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیں قریب لا سکتی ہے، گلوبلائزیشن ہمیں ایک دوسرے پر منحصر بنا سکتی ہے، مگر انسانیت کو حقیقی معنوں میں قریب لانے کے لیے اخلاقی شعور ضروری ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کا عالمگیر پیغام—ایک خدا، ایک انسانی خاندان اور ایک مشترک اخلاقی ذمہ داری—سمٹتی ہوئی اس دنیا میں محض ایک مذہبی تصور نہیں رہتا بلکہ ایک بڑھتی ہوئی عالمی ضرورت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔