اسلام: حقیقت بھی، انسانیت کی ضرورت بھی...ایف اے مجیب
اسلام انسان کو اس کے خالق، فطرت اور ذمہ داری سے جوڑتے ہوئے زندگی میں توحید، اخلاق، عدل اور توازن کی تعلیم دیتا ہے، تاکہ ترقی انسانیت کی بھلائی اور بامقصد زندگی کا ذریعہ بنے

انسان نے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بے شمار راستے تلاش کیے ہیں۔ سائنس نے کائنات کے راز کھولے، ٹیکنالوجی نے فاصلے مٹا دیے، طب نے بیماریوں کے علاج دریافت کیے اور جدید تہذیب نے انسان کو بے مثال سہولتیں فراہم کیں۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: انسان اس ترقی کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے اور خود اپنی زندگی کو کس اصول کے تحت گزارے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام محض ایک مذہبی شناخت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل اور متوازن حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اسلام کی صداقت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ یہ انسان کی بنائی ہوئی فکر نہیں بلکہ اسی خالق کی طرف سے دی گئی رہنمائی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے عقل و شعور عطا کیا اور اس دنیا میں ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے کی صلاحیت دی۔ اسی لیے اسلام کو صرف ساتویں صدی میں ظاہر ہونے والے مذہب کے طور پر دیکھنا اس کے وسیع تصور کو محدود کر دینا ہے۔ اسلام اس ایک خدا کی بندگی اور اس کی ہدایت کا نام ہے جو ابتدا ہی سے انسانیت کی رہنمائی کے لیے انبیاء کے ذریعے مختلف قوموں اور علاقوں تک پہنچتی رہی اور حضرت محمد ﷺ پر اپنی آخری اور مکمل صورت میں انسانیت کے لیے محفوظ رہنمائی بن گئی۔
اسلام کی حقیقت کا پہلا مرکز توحید ہے۔ ایک خدا، ایک انسانیت اور ایک بنیادی اخلاقی ذمہ داری۔ یہ تصور انسان کو انسان کے سامنے جھکنے سے آزاد کرتا ہے۔ نسل، زبان، دولت، اقتدار، خاندان اور جغرافیہ انسانوں کے درمیان شناخت کا ذریعہ تو ہو سکتے ہیں، برتری کا مستقل معیار نہیں۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ سب کا خالق ایک ہے تو دوسروں کے ساتھ اس کا تعلق محض مفاد کا نہیں رہتا؛ اس میں ذمہ داری، انصاف، رحم اور احترام پیدا ہوتا ہے۔
آج کی دنیا کی بہت سی مشکلات دراصل وسائل کی کمی سے زیادہ انسانی ترجیحات کے بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔ دولت موجود ہے مگر تقسیم میں ناانصافی ہے، معلومات بے شمار ہیں مگر حکمت کم ہے، رابطے آسان ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، آزادی وسیع ہوئی ہے مگر ذمہ داری کا احساس اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔ انسان نے اپنی خواہشات کو ترقی کا معیار بنا لیا تو ترقی بھی بعض اوقات تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلام اسی مقام پر آزادی کو اخلاق کے ساتھ، اختیار کو جواب دہی کے ساتھ اور ترقی کو انسانی خیر کے ساتھ جوڑتا ہے۔
اسلام انسان کو دنیا سے فرار کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دنیا کو درست طریقے سے آباد کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے۔ عبادت اور معاملات، فرد اور معاشرہ، روح اور جسم، حقوق اور فرائض، دنیا اور آخرت—ان سب کے درمیان توازن اس کے تصورِ حیات کا بنیادی وصف ہے۔ یہی توازن انسان کو انتہاؤں سے بچاتا ہے۔ نہ مادیت کو زندگی کا آخری مقصد بناتا ہے اور نہ روحانیت کے نام پر دنیاوی ذمہ داریوں سے فرار کی اجازت دیتا ہے۔
اسلام کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ آج انسان پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ ایک خطے کا فیصلہ دوسرے خطے کو متاثر کرتا ہے، ایک ملک کی جنگ پوری دنیا کی معیشت اور امن کو متاثر کر سکتی ہے، ایک ٹیکنالوجی چند لمحوں میں کروڑوں انسانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ ایسے دور میں انسانیت کو کسی ایسی فکر کی ضرورت ہے جو انسان کو تقسیم کرنے کے بجائے اس کی مشترک حقیقت کو سامنے لائے۔ اسلام انسان کو اس کی قومی، نسلی اور لسانی شناختوں سے انکار نہیں کراتا بلکہ ان کے اوپر انسانی وحدت کا شعور پیدا کرتا ہے۔
لیکن اسلام کی صداقت صرف اس دعوے میں نہیں کہ وہ انسان کو خدا سے جوڑتا ہے؛ اس کا ایک بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ انسان کو انسان سے کیسے جوڑتا ہے۔ والدین کے حقوق، اولاد کی تربیت، پڑوسی کا خیال، کمزور کی مدد، یتیم و محتاج کی کفالت، تجارت میں دیانت، معاملات میں انصاف، وعدے کی پابندی اور ظلم سے اجتناب—یہ سب اس تصور کا حصہ ہیں کہ اچھا انسان صرف عبادت گزار نہیں بلکہ دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بھی ہو۔
اسی لیے اسلام کو سمجھنے کا درست زاویہ یہ نہیں کہ اسے صرف ماضی کے کسی دور کی مذہبی روایت سمجھ لیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بنیادی اصول آج کے انسان کے مسائل سے متعلق ہیں؟ توحید آج بھی انسان کو طاقت اور دولت کی غلامی سے نکال سکتی ہے، اخلاق آج بھی ٹیکنالوجی کو انسانیت کے تابع رکھ سکتے ہیں، عدل آج بھی معاشرتی ناانصافی کا مقابلہ کر سکتا ہے، خاندان آج بھی تنہائی اور انتشار کا علاج بن سکتا ہے اور جواب دہی کا تصور انسان کو بے لگام خواہشات سے روک سکتا ہے۔
انسان کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ زیادہ پیدا کرے، زیادہ کمائے، زیادہ تیز سفر کرے یا زیادہ معلومات حاصل کرے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانے، اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھے، اپنے اختیار کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے اور ایسی زندگی گزارے جس میں اس کی ذات بھی سنورے اور دوسروں کے لیے بھی خیر پیدا ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام ایک دعویٰ نہیں بلکہ انسان کے سامنے ایک مکمل تصورِ زندگی پیش کرتا ہے۔ اسلام حقیقت ہے، کیونکہ وہ انسان کو اس کے خالق، اس کی فطرت اور اس کی ذمہ داری سے جوڑتا ہے؛ اسلام انسانیت کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ ترقی کو اخلاق، آزادی کو ذمہ داری اور طاقت کو انصاف کے تابع کرتا ہے۔ اس حقیقت کو دل و عقل سے قبول کر کے اس کے مطابق زندگی کو ڈھال لینا ہی وہ راستہ ہے جس میں انسان اپنی دنیا کو بھی بامقصد بنا سکتا ہے اور اپنی آخرت کی کامیابی کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
