کیا ٹرمپ کی دھمکی عالمی امن کے لیے خطرہ ہے؟... سہیل انجم

سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ غزہ میں اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے وہاں امریکہ اس کی نہ صرف پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ اس کی فوجی امداد بھی کر رہا ہے۔ اس نے وہاں مداخلت کیوں نہیں کی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر: مصنوعی ذہانت</p></div>
i
user

سہیل انجم

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا پر فوجی حملہ اور وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری سے پیدا شدہ حالات پر دنیا میں تشویش پائی جا رہی تھی کہ اسی درمیان ٹرمپ نے کسی بھی ملک پر حملے کی دھمکی دے دی ہے۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ انھیں عالمی قوانین کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق وہ جس جارحانہ عالمی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں اس سے صرف ان کی اخلاقیات ہی انھیں روک سکتی ہیں۔ ’نیو یارک ٹائمز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ عالمی قوانین کے اسی صورت میں پابند ہوں گے کہ ان کی تشریح کیسے کی جاتی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر نائیجیریا میں عیسائیوں کا مزید قتل ہوتا ہے تو وہ اس ملک پر پھر حملہ کریں گے۔ یاد رہے کہ مبینہ جہادی عناصر کی جانب سے عیسائیوں پر حملے کے بعد امریکی فوجوں نے ان کو نشانہ بنایا تھا۔ حالانکہ نائیجیریا کی حکومت نے ٹرمپ کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہاں کی حکومت عیسائیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان پر کہ انھیں اپنے عالمی اہداف کی حصولیابی میں کوئی قانون آڑے نہیں آسکتا، کئی ملکوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ یوروپی ملکوں میں بھی تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کمزور رہیں گے تو انھیں کوئی بھی طاقت نشانہ بنا سکتی ہے۔ اسی طرح ایران میں بھی خدشات جنم لے رہے ہیں۔ وہاں حکومت مخالف مظاہروں میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ اسی درمیان امریکی سینٹ نے ایک قرارداد بحث کے لیے منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ سینٹ کی اجازت کے بغیر کسی بھی ملک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ٹرمپ نے اس کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے سینٹ کی اجازت کے بغیر ہی وینزویلا پر حملے کا حکم دیا تھا۔


یاد رہے کہ تین جنوری کو امریکی افواج نے رات کے سناٹے میں وینزویلا کی راجدھانی کراکس پر حملہ کیا اور وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔ انھیں ایک امریکی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مادورو نے کہا کہ وہ ایک شریف انسان ہیں، اپنے ملک کے منتخب صدر ہیں اور انھیں اس طرح گرفتار کرنا اور قانون کے سامنے پیش کرنا غلط اور غیر قانونی ہے۔ انھیں جس وقت عدالت میں پیش کیا گیا ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ لنگڑا کر چل رہے تھے۔ جس سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ممکن ہے ان پر کچھ تشدد کیا گیا ہو۔ جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والوں نے ٹرمپ کے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے غیر قانونی اور بلا جواز قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام عاید کیا ہے مادورو نے جس کی سختی سے تردید کی ہے۔

حالانکہ ٹرمپ نے مادورو پر متعدد الزامات لگائے ہیں لیکن سمجھا جاتا ہے کہ وہ وینزویلا اور روس کی قربت کو پسند نہیں کرتے اور وہاں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وائٹ ہاوس کے مطابق یہ اقدام کئی برسوں کی ناکام سفارتی کوششوں اور معاشی پابندیوں کے بعد عمل میں آیا ہے جس کا مقصد مادورو حکومت پر دباو ڈالنا تھا۔ واشنگٹن مادورو پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگاتا ہے۔ وینزویلا کے ہیوگو شاویز جو 1998 کے انتخابات میں وینزویلا کے صدر منتخب ہوئے تھے مارچ 2013 میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے چل بسے تھے۔ ان کے جانشین کے طور پر مادورو کو منتخب کیا گیا تھا۔


وینزویلا ایک ایسا ملک ہے جو معدنیات سے مالا مال ہے جس میں پٹرولیم، قدرتی گیس، آئرن، سونا، باکسائٹ اور دیگر معدنیات جن میں ہیرے کے ذخائر شامل ہیں۔ اس کے باوجود اس کی معیشت کمزور ہے۔ مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ ملک کی مجموعی پیداواری شرح نمو صرف تین فیصد ہے۔ روزگار کی شرح محض چھ فیصدہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی حملے کا مقصد وینز ویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں 305 ارب بیرل سے زیادہ تیل ہے۔ اس کے پاس اتنا تیل ہے کہ سعودی عرب اور ایران کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے بغیر کسی موجودہ سربراہ مملکت کو حراست میں لینا غیر قانونی مانا جاتا ہے۔ اس حملے کو وینزویلا میں امریکی مداخلت تصور کیا جا رہا ہے۔ ویسے اگر امریکہ کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ امریکہ دیگر ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کرتا رہا ہے۔ اس نے نیو یارک کے ٹوین ٹاور پر حملے کے بعد افغان جہادیوں کے خلاف جنگ شروع کر دی تھی۔اس جنگ میں افغانستان پوری طرح تباہ ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسے وہاں سے نکلنا پڑا اور اب افغانستان میں انہی لوگوں کی حکومت ہے جن کو وہ ختم کرنا چاہتا تھا۔


اس نے عوامی تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر 2003 میں عراق پر حملہ کیا اور اسے بھی مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا۔ وہاں کے صدر صدام حسین کو گرفتار کر لیا اور 2006 میں عین عید الاضحیٰ کو انھیں پھانسی پر لٹکا دیا۔ وہاں عوامی تباہی کے ہتھیار تھے ہی نہیں اسی لیے ملے بھی نہیں۔ بعد میں اس نے یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا کہ وہاں ہتھیاروں کی مو جودگی کی رپورٹ غلط تھی۔ جب غلط تھی تو اسے اپنی اس حرکت کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ لیکن اس نے اس کارروائی پر کوئی افسوس تک نہیں جتایا۔ اسی طرح اس نے 2011 میں عوامی بیداری کے نام پر لیبیا میں کارروائی کی جس کے نتیجے میں وہاں کے حکمراں کرنل قذافی ہلاک ہوئے۔ اس نے عرب بہاریہ کے نام سے خلیجی ملکوں میں بھی حکومتوں کے خلاف بغاو تیں کروائیں۔

اب ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پس پردہ اس کا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی احتجاج اور وہ بھی حکومت کے خلاف بڑے احتجاج کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا انتظام بھی امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ الزام ثابت نہیں ہوا ہے اور ایسی کارروائیوں کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا۔ لیکن بہرحال آثار و قرائن اور لوگوں کے بیانات ان خدشات کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔ اگر چہ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو ہٹانا نہیں چاہتے۔ انھوں نے رضا شاہ پہلوی کے بیٹے اور شہزادے شاہ پہلوی سے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ شاہ پہلوی بھی اس احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 1978 میں شیعہ رہنما آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب سے قبل وہاں پہلوی خاندان کی حکومت تھی۔ ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے آگے نہیں جھکے گا۔


باقی جن ملکوں کو ٹرمپ نے دھمکی دی ہے ان میں گرین لینڈ، میکسیکو، نائیجریا اور کولمبیا وغیرہ شامل ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے ان کے تازہ بیان کو جارحیت سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ان کی دھمکی ان کی یکطرفہ پالیسی کی مظہر ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک عرصے سے احتجاج ہو رہا ہے۔ اسی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ پلٹا گیا۔ اس وقت مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں بہت سے لوگ مارے گئے تھے۔ اب جو حالیہ مظاہرے چل رہے ہیں ان میں بھی لوگوں کی ہلاکت ہو رہی ہے تو پھر امریکہ وہاں کیوں نہیں مداخلت کر رہا ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ غزہ میں اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے وہاں وہ اس کی نہ صرف پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ اس کی فوجی امداد بھی کر رہا ہے۔ وہاں اس نے کیوں نہیں مداخلت کی۔ صرف ایران میں ہی کیوں مداخلت کرے گا۔

مبصرین کے مطابق ایسے اور بھی بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب امریکہ کو دینا چاہیے۔ بہرحال وینزویلا کے منتخب صدر کو اس طرح حملہ کر کے گرفتار کرنا بلکہ بعض لوگوں کے مطابق اغوا کرنا اور انھیں قانون کے سامنے پیش کرنا جمہوری اقدار و اخلاقیات اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔