ایران کا انقلاب اور اس کے اغوا کا خطرہ...اشوک سوین

ایران میں جاری عوامی بغاوت کو بادشاہت کی بحالی اور بیرونی مداخلت کی سمت موڑنے کی کوشش خطرناک ہے۔ حقیقی تبدیلی صرف ایرانی عوام کے اندرونی، جمہوری اور خودمختار عمل سے ہی ممکن ہے

<div class="paragraphs"><p>اے آئی</p></div>
i
user

اشوک سوین

ایران ایک بار پھر ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اگرچہ یہ کیفیت اب اس کے لیے بالکل اجنبی نہیں رہی۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں، رکے ہوئے اجرتی واجبات اور شدید معاشی بدحالی کے خلاف دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والے احتجاجات اب 2022 کے بعد ملک میں رونما ہونے والی سب سے وسیع اور سیاسی طور پر واضح عوامی بغاوت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ گھروں میں خالی پڑے فریج اور ختم ہوتی روزی روٹی پر پیدا ہونے والی ناراضگی اب ایک ایسی تحریک میں ڈھل چکی ہے جو کھلے عام اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یہ احتجاجات صوبائی حدود، نسلی شناختوں اور سماجی طبقات کی دیواریں توڑتے ہوئے نہ صرف تہران سے بہت آگے نکل چکے ہیں بلکہ ایرانی تارکینِ وطن کے مراکز، لیون سے لے کر لاس اینجلس تک، سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں۔ نعروں میں اب نہ تو کوئی احتیاط باقی رہی ہے اور نہ ہی علامتی زبان کا سہارا۔ اب یہ نعرے براہِ راست، جارحانہ، تلخ اور انقلابی لہجے کے حامل ہیں۔

اس بار خود نظامِ حکومت بھی گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔ مغربی پابندیاں مزید سخت ہو چکی ہیں، تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود ہے، افراطِ زر نے عام خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ملکی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ جون 2025 میں فوجی اور تزویراتی اہداف پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں نے عدم تحفظ کے اس احساس کو اور بڑھا دیا ہے جسے قیادت چھپانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

علاقائی طاقت کے طور پر ایران کی شبیہ بھی شدید دباؤ میں ہے۔ شام، لبنان اور فلسطین میں ایران کے اتحادی اور ان کے نیٹ ورک یا تو کمزور پڑ چکے ہیں یا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف تہران کے اثر و رسوخ کی حدود بے نقاب ہو رہی ہیں بلکہ ملکی وسائل بھی تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے ایرانیوں کے لیے علاقائی بالادستی کے بدلے عزت اور خوش حالی کا وعدہ کب کا دم توڑ چکا ہے۔


حکومت کا ردِعمل، جیسا کہ اندازہ تھا، نہایت سخت اور جابرانہ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور براہِ راست فائرنگ کے ذریعے ایک بار پھر خوف پھیلا کر خاموشی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کے مطابق 500 سے زائد مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن پر لاکھوں وفاداروں کے ہجوم دکھائے جا رہے ہیں جو رٹے رٹائے نعرے لگا رہے ہیں، جبکہ سپریم لیڈر مظاہرین کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔

لیکن اس ظاہری طاقت کے پیچھے ایک ایسا نظام موجود ہے جو حقیقتاً شدید دباؤ میں ہے۔ سکیورٹی ادارے حد سے زیادہ بوجھ تلے ہیں، پرانے حامیوں کے درمیان بھی نظام کی اخلاقی حیثیت کمزور پڑ رہی ہے اور خوف اب پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایرانی عوام ایک ایسے نظام کے خواہاں ہیں جو ان کی مرضی کی نمائندگی کرے، ان کے حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں ایک بہتر مستقبل دے۔ مذہبی غلبے پر قائم اور زبردستی نافذ کردہ یہ آمریت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس نے سیاسی زندگی کو کچل دیا، خواتین اور اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیل دیا، قومی دولت برباد کی اور ملک کو بیرونی تنازعات میں الجھا دیا۔ ایسے میں اگر لاکھوں لوگ اس نظام کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ اس غصے کا ایک حصہ جس سمت موڑا جا رہا ہے، وہ نہایت خطرناک ہے۔ آزادی اور وقار کے نعروں کے ساتھ ساتھ ایک نئی اور پریشان کن آواز بھی ابھر رہی ہے: ’بادشاہت کی واپسی‘۔ مظاہرین کا ایک حلقہ اور بیرونِ ملک سرگرم کارکن پہلوی خاندان کی بحالی اور معزول شاہ کے جلا وطن بیٹے رضا پہلوی کو ایران کا حکمران بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


انٹرویوز اور عوامی بیانات میں انہوں نے نہ صرف احتجاج تیز کرنے کی اپیل کی ہے بلکہ کھلے عام امریکہ، اور خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران میں فوجی مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ موجودہ نظام کو بزورِ طاقت گرایا جا سکے۔

یہ رجحان ہر اس شخص کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے جو واقعی ایران کے مستقبل کا خواہاں ہے۔ اسلامی جمہوریہ کی ساکھ چاہے جتنی بھی کمزور ہو چکی ہو، شاہی دور کی یادیں بھی کوئی دل فریب داستان نہیں رکھتیں۔ 1979 سے پہلے کی بادشاہت کوئی سنہرا عہد نہیں تھی بلکہ ایک آمرانہ نظام تھا جو خفیہ پولیس، سیاسی جبر، تشدد اور عوامی شمولیت کی نفی پر قائم تھا۔

درحقیقت، 1979 کا انقلاب بھی دہائیوں پر محیط آمریت، عدم مساوات اور بیرونی حمایت یافتہ حکمرانی کے خلاف عوامی ردِعمل تھا۔ آج بادشاہت کو حل کے طور پر پیش کرنا اس بنیادی حقیقت کو بھلا دینا ہے کہ ایرانی عوام نے نصف صدی پہلے بغاوت کیوں کی تھی۔

یہ تصور بھی غلط ہے کہ جلا وطنی میں بیٹھ کر سیاسی جواز وراثت میں مل جاتا ہے۔ رضا پہلوی نے وہ حالات نہیں جھیلے جن میں آج کے ایرانی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے نہ پابندیاں بھگتیں، نہ ریاستی جبر اور نہ ہی روزمرہ کی توہین آمیز کیفیت کا سامنا کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایرانی عوام نے انہیں کبھی کسی جمہوری عمل کے ذریعے منتخب نہیں کیا۔

غیر ملکی فوجی مداخلت کا مطالبہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ایران کی جدید تاریخ اس کی قیمت واضح طور پر دکھاتی ہے، چاہے وہ 1953 میں سی آئی اے کی سازش ہو جس کے ذریعے وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹایا گیا، یا سرد جنگ کے دوران ہونے والی مداخلتیں۔ بیرونی طاقتوں نے بار بار جمہوری امکانات کو کمزور اور آمرانہ قوتوں کو مضبوط کیا ہے۔ آج کسی بھی بیرونی مداخلت کا نتیجہ آزادی نہیں بلکہ انتشار، شہری مصائب اور ٹوٹ پھوٹ ہوگا۔


بادشاہت کی بحالی کی اپیل میں ایک اخلاقی تضاد بھی پوشیدہ ہے۔ ایک غیر جواب دہ مذہبی نظام کی مخالفت کر کے اسے ایک غیر جواب دہ، بیرونی حمایت یافتہ موروثی حکمران سے بدل دینا نجات نہیں۔ ایرانی عوام سڑکوں پر جانیں اس لیے خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ وہ وقار، خودمختاری اور اپنی زندگی پر اختیار چاہتے ہیں، نہ کہ ایک بار پھر رعایا بننا۔

یہ بدقسمتی ہوگی اگر یہ بغاوت بھی 1979 کی طرح ان قوتوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہو جائے جو اس کی اصل خواہشات کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ آج خطرہ یہ ہے کہ قیادت اور تنظیم کے فقدان میں غیر نمائندہ اور بیرونی آوازیں مستقبل کا نقشہ پہلے ہی کھینچ دیں۔

ایرانی مظاہرین کے سامنے اصل چیلنج صرف موجودہ نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور مسلط کردہ نظام کو روکنا بھی ہے۔ اس کے لیے اندرونی جبر اور بیرونی مداخلت، دونوں کی مزاحمت ضروری ہے۔ یعنی تبدیلی کی قیادت ایران کے اندر، ایرانی عوام کے ہاتھوں، جامع اور حقیقی جمہوری عمل کے ذریعے ہونی چاہیے — پگڑی اور تاج کے جھوٹے انتخاب کو مسترد کرتے ہوئے۔

مغرب کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ انسانی حقوق کی حمایت، مظالم کی دستاویز سازی اور ایرانی سول سوسائٹی کو آواز دینا جائز ہے، لیکن نظام کی تبدیلی کی سازشیں، جلا وطن دعوے داروں کی سرپرستی یا فوجی دھمکیاں نہیں۔ ایسے اقدامات انہی قوتوں کو کمزور کریں گے جن کی حمایت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

ایران اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ آگے کا راستہ نہ آسان ہوگا اور نہ سیدھا۔ ایک قسم کے غلبے کو دوسری قسم کے غلبے سے بدلنے والا کوئی بھی ’انقلاب‘ کامیابی نہیں، بلکہ ایک اور دھوکہ ہوگا۔

(مضمون نگار اشوک سوین، اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔