دہلی پولس کے آئی پی ایس افسر بھی ڈھونگی آشو بھائی گرو جی کے مرید

کتنی حیرانی کی بات ہے کہ دوسروں کا مستقبل بتانے کا دعویٰ کرنے والا آشو عرف آصف خان اپنا مستقبل نہیں جانتا، ورنہ اس کے دفتر سے 50 لاکھ روپیہ چوری کرنے میں ملازم کبھی کامیاب نہ ہوتے۔

جنوبی دہلی میں حوض خاص تھانہ پولس نے آشو بھائی گرو جی اور اس کے بیٹے کے خلاف ایک خاتون اور اس کی نابالغ بیٹی نے عصمت دری کا معاملہ درج کیا ہے۔ ڈھونگی آشو بھائی گرو جی کے ذریعہ اپنی پہچان چھپانے، دولت جمع کرنے اور اس کے جیوتشی یعنی نجومی ہونے کے دعوے کی حقیقت 6 سال قبل ہی میں نے ظاہر کر دی تھی۔ لیکن اندھی تقلید کرنے والوں کی وجہ سے ڈھونگی آشو دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا رہا۔

عالمی شہرت یافتہ نجومی اور ہاتھ کی لکیریں پڑھنے میں ماہر ہونے کا دعویٰ کرنے والا آشو اپنی اصلی پہچان چھپا کر نجومی کا کاروبار چلا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسروں کا مستقبل بتانے کا دعویٰ کرنے والا یہ شخص اپنا مستقبل نہیں جانتا ورنہ اس کا ملازم 50 لاکھ روپیہ چوری نہ کر پاتا۔ 1990 کی دہائی تک وزیر پور کے جے جے کالونی میں رہنے والا یہ شخص اب کروڑوں کا مالک ہے۔ سرائے روہیلا تھانہ کے پدم نگر علاقے میں ایک دن اچانک حیرت انگیز طریقے سے اس نے اپنا دھندا بند کر دیا۔ اس کے پہلے اس نے تری نگر میں بھی نجومی کا دھندا شروع کیا تھا۔

روہنی میں نجومی کا کاروبار شروع کرتے ہی آشو پیسوں میں کھیلنے لگا۔ کوہاٹ انکلیو میں کوٹھی میں رہنے لگا۔ اس کے پاس مہنگی غیر ملکی کاریں ہیں۔ بڑے بڑے کلائنٹ سے آشو دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں ملتا ہے۔ اس کو نزدیک سے جاننے والے بتاتے ہیں کہ آشو ’لی میریڈین‘ ہوٹل میں ہی زیادہ تر بڑے بھکتوں سے ملاقات کرتا ہے۔ اس کے بھکتوں/کلائنٹ میں لیڈروں کے علاوہ آئی اے ایس افسر اور دہلی پولس کے بھی کئی آئی پی ایس افسر اور فلم انڈسٹری کے لوگ بھی ہیں۔ کچھ وقت پہلے آشو کسی ہیروئن کی پریشانی دور کرنے کے لیے ممبئی گیا تھا۔ اس کاروبار سے کمائی گئی بے پناہ دولت سے آشو نے کافی ملکیت بنائی ہے۔ اس رقم کو رئیل اسٹیٹ سمیت دوسرے کاروباروں میں بھی لگایا گیاہے۔ آشو کے جاننے والوں کے مطابق 98-1997 تک جے جے کالونی میں رہنے والا آشو اب روزانہ صبح صبح ہی لاکھوں روپے کما لیتا ہے۔ روہنی میں ہاتھ دیکھنے کے پانچ ہزار روپے لیتا ہے۔ حوض خاص میں اس سے زیادہ فیس ہے۔ اس کے علاوہ بھکت کی حیثیت کے مطابق خصوصی پوجا کے لیے تو لاکھوں کی موٹی رقم لی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آشو کی اصلیت اور اس کی کمائی کے بارے میں وزیر پور اور قرب و جوار کے علاقوں میں خوب تذکرہ ہے۔ لیکن انکم ٹیکس محکمہ اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کو شاید کچھ نظر نہیں آتا۔

دہلی کے پولس کمشنر امولیہ پٹنایک کا ایک ساتھی بھی آشو کے بھکتوں میں شامل ہے۔ اب سبکدوش ہو چکے رنگین مزاج اس پولس افسر کو بھی پوجا کے نام پر کئی سال پہلے آشو گنگا جی میں کھڑا کر چکا ہے۔ دہلی پولس اور تہاڑ جیل میں بھی تعینات رہ چکے ایک دیگر سبکدوش آئی پی ایس افسر کو ننگا کر کے جھاڑولگانے اور دوسرے آئی پی ایس کو پوجا کے نام پر گنگا میں کھڑا کرنے کے قصے آشو بڑی شان سے سناتا ہے۔ آشو کا عزیز ترین بھی ایک سبکدوش پولس والا ہی ہے جو اس کا رازدار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی سیکورٹی کا انتظام بھی دیکھتا ہے۔

متعدد چینلوں پر روزانہ یہ آشو بھائی گرو جی بن کر لوگوں کے سبھی طرح کے مسائل کا حل نکالنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے پروگرام میں دکھایا جاتا تھا کہ ایک ٹرک ڈرائیور آشو بھائی کے دیے گئے ’رتن‘ کی وجہ سے ٹرک کا مالک بن کر مالا مال ہو گیا۔ اسی طرح کل تک سائیکل کا پنکچر لگانے والے ایک شخص کی غریبی آشو بھائی کے قدموں میں آنے سے دور ہو گئی۔ اس طرح کے کئی طریقے دکھائے جاتے ہیں۔ فون اِن لائیو پروگرام میں آشو مضحکہ خیز باتیں کرتا ہے۔ بھوت پریت سے بچانے اور برے دور سے نکلنے کے طریقے بتانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ آشو بھائی گرو جی کے نام سے چینل پر دکھائی دینے والے اس شخص کا اصل نام آصف خان ہے۔ اپنے اصل نام اور پہچان کو ظاہر نہ کرنا اس کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

جہاں تک آشو سے پولس محکمہ کے گہرے تعلقات کا سوال ہے، اس کا اندازہ 50 لاکھ کی چوری معاملے سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ 6 فروری 2011 کی صبح جب آشو روہنی کے دفتر پہنچا تو وہاں پر تالا لگا ہوا پایا۔ دفتر کے کیئر ٹیکر لکشمن اورہنس راج جوشی بھی وہاں موجود نہیں تھے۔ کچھ دیر انتظار کے بعد آشو تالا توڑ کر اندر گیا اور لوگوں کی پریشانی دور کرنے کے اپنے جھوٹے کاروبار میں لگ گیا۔ اس سے فرصت ملنے کے بعد آشو نے دیکھا کہ الماری میں رکھے 50 لاکھ چوری ہو گئے ہیں۔ آشو عرف آصف خان کی شکایت پر روہنی شمالی تھانہ پولس نے چوری کا معاملہ درج کیا۔ 7 مارچ کو اس نے لکشمن اور ہنس راج کو 42 لاکھ روپے کے ساتھ گرفتار بھی کیا۔ اس رقم سے متعلق پولس نے بتایا کہ آشو نے کوئی پراپرٹی فروخت کی تھی۔ آشو کے کئی پولس افسروں سے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس رقم کے بارے میں انکم ٹیکس محکمہ کو اطلاع دینا پولس نے ضروری نہیں سمجھا۔

سب سے زیادہ مقبول