فکر و خیالات

نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام کو ہندوستانی مسلمانوں کا سلام

اس وقت نیوزی لینڈ کی کل آبادی میں مسلمان 1.18 فی صد ہیں جو سب کے سب تارک وطن اور مہاجر ہیں جو وہاں تعلیم، تجارت، نوکری اور دیگر خدمات کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

نیوزی لینڈ کے بارے میں عام لوگوں کی جانکاری بہت محدود ہے۔ ہم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کرکٹ کھیلنے والا ملک ہے جس کی ٹیم اکثر ہندوستان کرکٹ کھیلنے آتی ہے۔ ہندوستان سے نیوزی لینڈ کے تجارتی اور ثقافتی رشتے بہت محدود ہیں۔ عرف عام میں اس کو کیوی بھی کہتے ہیں۔

نیوزی لینڈ بحر اوقیانوس جس کو بحرِ کاہل یا عرفِ عام میں پیسفک اوشن اور ہندی میں پرشانت مہاساگر کہا جاتا ہے اس کے جنوب مغرب میں واقع ایک خود مختار جزیرہ نما ملک ہے جو دو بڑے خطہ ارض میں منقسم ہے، ایک کو نارتھ آئی لینڈ کہتے ہیں اور دوسرے کو ساؤتھ آئی لینڈ۔ یہ دنیا کا ایک دور دراز خطہ ارض ہے جو آسٹریلیا سے دو ہزار کیلومیٹر دور ہے اور بحر کاہل کے دیگر جزائر سے ایک ہزار کیلو میٹر دور پر ہے۔ ہندوستان سے نیوزی لینڈ کی دوری 11963 کیلو میٹر ہے۔

تیرہویں صدی میں سب سے پہلے پولی نیسین اس خطہ میں آباد ہوئے اور انھوں نے ماوری تہذیب کی بنیاد ڈالی۔ 1642 میں ڈچ مہم جو ابیل ٹسمان نے نیوزی لینڈ کا پتہ لگایا اس کے بعد سے ہی یورپی دنیا سے اس کا رابطہ شروع ہوا۔ 1840 میں ماوری سربراہ اور انگلینڈ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے بعد وہ برٹش حکومت کا حصہ بنا۔ اس طرح یہ برٹش امپائر کی کولونی بن گیا۔ 1907 میں اسے ڈومنین اسٹیٹس ملا اور 1947 میں اسے مکمل قانونی آزادی حاصل ہوگئی اور وہ ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ نیوزی لینڈ گرچہ ایک آزاد ملک ہے اور اس کی خود مختار حکومت ہے پھر بھی ملکہ برطانیہ آج بھی اس کی ملکہ مانی جاتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کا کل رقبہ ایک لاکھ تین ہزار چار سو تراسی اسکوائر کیلومیٹر ہے اور اس کی کل آبادی لگ بھگ پچاس لاکھ کے قریب ہے جس میں 74 فی صد یوروپین، 14.9 فی صد قدیم ماوری قبائل 11.8 فی صد ایشین، 7.4 فی صد پیسفک لوگ 1.2 فی صد افریقن اور 1.7 فی صد دیگر لوگ ہیں۔ 2013 کی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46,149 مسلمان ہیں۔ نیوزی لینڈ میں زیادہ تر مسلمان مڈل ایسٹ، ترکی، لبنان، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، ہندوستانی نسل کے فی جی مسلمان اور صومالی مسلمان ہیں۔ حال کے دنوں میں ملیشیا اور سنگاپور سے بہت سے طلباء تعلیم کی غرض سے گئے ہیں۔ اسلام نیوزی لینڈ میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور یوروپین اور مقامی ماوری آبادی اس کو قبول کر رہی ہے۔ 2013 کی مردم شماری کے مطابق1083 ماوری لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ 1536 پیسیفک جزائر اور 4353 یوروپین کمیونٹی کے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور یہ زندگی کے ہر میدان میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

اس وقت نیوزی لینڈ کی کل آبادی میں مسلمان 1.18 فی صد ہیں جو سب کے سب تارک وطن اور مہاجر ہیں جو وہاں تعلیم، تجارت، نوکری اور دیگر خدمات کے لیے گئے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ملکوں سے یا تو نکالے گئے ہیں یا وہاں کے مظالم سے بچنے کے لیے ہجرت کر گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں تمام مذاہب اور سکٹ کے ماننے والے لوگ موجود ہیں لیکن 41.92 فی صد آبادی وہ ہے جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی۔ نیوزی لینڈ ایک ترقی یافتہ خوشحال ملک ہے، جس کا کل جی ڈی پی 206 بلین ڈالر ہے اور فی کس آمدنی 41616 ڈالر ہے۔ یہ ایک جمہوری فلاحی ریاست ہے۔ اس کا نظام تعلیم بہت اچھا ہے۔ مرد و خواتین کی اوسط عمر 80 سال ہے۔ یہاں دو سو سے زائد نسلوں کے لوگ رہتے ہیں اور 160 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

نیوزی لینڈ میں پارلیمانی جمہوریت ہے جہاں کم سے کم پانچ پارٹیاں لیبر پارٹی (1916) نیشنل پارٹی (1936) ان زیڈ پارٹی(1993) گرین پارٹی(1990) اور اے سی ٹی پارٹی(1994) ہیں۔ ان میں لیبر پارٹی سب سے پرانی ہے اور نیوزی لینڈ کی آزادی میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ اس وقت وہاں لیبر پارٹی کی حکومت ہے اور جیسنڈا ارڈن اس کی لیڈر اور ملک کی موجودہ وزیر اعظم ہیں۔

نیوزی لینڈ تاریخی لحاظ سے ایک بہت ہی پُرامن ملک رہا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر دنیا بھر کے پناہ گزینوں اور رفیوجیوں کو پورے شہری حقوق کے ساتھ بسنے کی اجازت دی ہے۔ ایک طرح سے یہ دنیا بھر کے مظلومین کے لیے ایک خوش آمدید کہنے والا ملک ہے۔

جب گزشتہ جمعہ 19مارچ کو ایک آسٹریلیائی نژاد سفید فام نسل پرست دہشت گرد نے کرائس چرچ میں مسجد نور اور ایک اور مسجد میں عین جمعہ کی نماز کے وقت خود کار مشین گن سے پچاس لوگوں کو شہید اور بیالیس لوگوں کو زخمی کردیا تو پورا ملک درد و غم میں ڈوب گیا۔ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکہ، آسٹریلیا اور پورے یورپ میں جو ہوا فضا بنائی جا رہی ہے یہ واقعہ اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ مگر نیوزی لینڈ کی موجودہ سرکار نے اس کو قومی آفت مانتے ہوئے جس انسانیت نوازی کا ثبوت دیا ہے وہ بے مثال ہے۔ وزیر اعظم جیسنڈا ارڈن نے فوراً جائے واردات پر پہنچ کر جس طرح مہلوکین اور مجروحین کو ضروری امداد پہنچائی، ان کے پس ماندگان کی جس طرح تعزیت کی اور ان کی ڈھارس بندھائی، شلوار جمپر اور سر پر دوپٹہ میں ملبوس جس طرح گلے مل کر پسماندگان کا دکھ درد بانٹا، لگا ہی نہیں کہ یہ ملک کی وزیر اعظم ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ کوئی قریبی رشتہ دار ہے جو دکھ کی اس گھڑی میں تسلی دینے کے لیے آیا ہے۔ اس کے باوجود یہ تارک وطن اور مہاجر تھے مگر انھوں نے کہا ’’یہ ہمارے لوگ ہیں‘‘ ان کی حفاظت ہماری ہماری منصبی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے پوری اپوزیشن، میڈیا، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لے کر اس سانحہ کا مقابلہ کرنے اور مظلومین کے حق میں کھڑے ہونے کی تلقین کی اور پورا نیوزی لینڈ ایک جٹ نظر آیا۔ پارلیامنٹ کا تعزیتی اجلاس السلام علیکم سے شروع ہوا۔ پہلی بار دنیا کے کسی ملک کی پارلیمنٹ میں قرآن پاک کی تلاوت سے اس کا آغاز کیا گیا۔ جمعہ کی اذان، خطبہ اور نماز ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا اور اٹھارہ ہزار لوگ نمازیوں کی حفاظت میں ہیومن چین بناکر کھڑے رہے، خود وزیر اعظم بہ نفسِ نفیس موجود رہیں۔

وزیر اعظم جیسنڈا ارڈن نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جس شخص نے یہ حرکت کی ہے وہ دہشت گرد، ظالم اور کرمنل ہے، جس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ مگر اس سے اہم لوگوں کے آنسو پونچھنا ہے، ان کو تحفظ دینا ہے اور اس طرح کے حادثات دوبارہ نہ ہوں اس کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو خود ایک نسل پرست شخص ہیں نے جب جیسنڈا ارڈن سے ہمدردی کرتے ہوئے پوچھا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں وہ ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں تو جیسنڈا نے جواب دیا ’’مسلمانوں کے لیے محبت اور ہمدردی۔‘‘

جیسنڈا ارڈن نے اپنے طرزِ عمل سے ثابت کردیا ہے کہ انسانیت دوستی کیا ہوتی ہے اور سیاسی چالبازیوں سے اوپر اٹھ کر کیسے مظلومین کی داد رسی کی جاتی ہے۔ دہشت گردی سے لڑنے اور اس کو ختم کرنے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے اور ایک حکمراں کو ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے؟ دنیا بھر کے تمام وزراء اعظم، صدور اور سلطنتوں کے سربراہوں کو خواہ وہ کسی ملک اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں ان کو جیسنڈا ارڈن سے سبق لینا چاہیے خصوصاً مسلم سربراہوں کو، میں وزیر اعظم جیسنڈا ارڈن اور نیوزی لینڈ کی عوام کو ان کی بے مثال انسانیت دوستی کے لیے سیلوٹ کرتا ہوں۔

میں ذاتی طور پر ان کے طرزِ عمل سے اتنا متاثر ہوا ہوں کہ میں انہیں شانِ انسانیت (Epitome of Humanity) کا خطاب دیتا ہوں اور نوبل پیس پرائز کی سفارش کرتا ہوں۔ اگر ایسا ہوجائے تو جیسنڈا کا نہیں نوبل پرائز کا وقار بلند ہوگا اور ساری دنیا کے مسلمانوں اور انسان دوست افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ جیسنڈا ارڈن کی اس مہم میں ان کا ساتھ دیں اور نیوزی لینڈ کی عوام، وہاں کی سیاسی پارٹیوں، وہاں کی پارلیمنٹ، پریس، پولس، سول ایڈمنسٹریشن اور سول سوسائٹی کو تہنیت کا پیغام بھیجیں اور اپنے اپنے ملک میں نیوزی لینڈ کے سفارت خانے کو مبارک باد کا پیغام دیں۔

آخر میں میں ان لوگوں سے جو مسلمان ہیں اور کسی نوع کی دہشت گردی میں مبتلا ہیں اور اپنے اندر انتقامی جذبہ رکھتے ہیں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا یہ طرزِ عمل انسانیت اور اسلام کے خلاف ایک ظلم ہے اور بدترین گناہ ہے۔ آپ یہ جنگ کبھی نہیں جیت سکتے ہیں۔ اس لیے اس حماقت سے باہر آئیں اور دنیا کے سامنے اسلام کا امن، محبت، خیرسگالی اور خدمت کا جو اصل چہرہ ہے انہیں کو پیش کریں، قرآن کا حکم ہے کہ اچھائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ تم برائی کا جواب اچھائی سے دو، دیکھو گے کہ جو تمہارا کٹّر دشمن ہے وہ تمہارا جگری دوست بن جائے گا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اسلام کی اس تعلیم کو اپنا شعار بنالیں تو ہمارے حالات بھی بدلیں گے اور دنیا کا منظر نامہ بھی بدلے گا۔

Published: 31 Mar 2019, 10:10 PM