شہادت حسینیؑ کا مقصد اور ہمارا کردار

پیغام کربلا یہی ہے کہ اے مسلمانوں آج پھر امام حسینؑ کی طرح اٹھو اپنی قلت پر توجہ دیئے بغیر خدا کی طاقت پر بھروسہ رکھو، جو بھی انسان اللہ کے توکل پر ڈٹ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو ہرا نہیں سکتی۔

آج ہم اس بات پر جتنابھی فخر کریں کم ہے کہ اﷲ نے ہمیں سرور کائنات حضرت محمد مصطفےؐ کی امت اور ان کے اہل بیتؑ سے متمسکین میں قرار دیا مگر ساتھ ہی ہمیں اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ یہ اعزاز ہمیں ہماری کوششوں اور کاوشوں کے نتیجے میں عطا نہیں کیا گیابلکہ یہ ہم پر خالق کائنات کے مخصوص رحم و کرم کے سبب مرحمت فرمایا گیا ہے ۔جب کسی شخص کو کوئی اعزاز اس کی صلاحیتوں اور خوبیوں کی بناء پر نہیں بلکہ اک مخصوص رحم و کرم کے سبب عنایت کیا جاتا ہے تو اس شخص کی یہ ذمہ داری ہو جاتی ہے کہ وہ اس اعزاز کی قدر و قیمت اور اس کے معطی کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنی سیرت و کردار کو اس کے مطابق ڈھالتے ہوئے اس کے معیار پر کھراا ترنے کی حتی المقدور سعئی کرتا رہے۔

محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی ہر محبِ اہل بیت ؑ اپنے مخصوص اور منفرد انداز اور طریقے سے نواسہ رسولؐ کےذکرکااہتمام کرتا ہے اور ان کی خدمت میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتا ہے اور یہ بحمد اﷲ1400 سالوں سے جاری وساری ہے۔ زبان، ثقافت اور تمدن کے ارتقاءکے ساتھ ذکر امام حسین ؑ کے طریقے بھی بدلتے رہے مگر روح ذکرامام حسین ؑ اسی طر ح پر نور رہی جیسے چودہ سو سال قبل تھی مگر بیسویں صدی کے اواخر سے آج تک اس کے اہتمام اور انداز میں کچھ انقلابی تبدیلیاں ضرور رونما ہو رہی ہیں کہ ہر ایک دوسرے سے دریا فت کر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی حق عزاداری ادا کر رہے ہیں یا صرف آبا واجداد کی متعارف کی گئی کچھ رسومات کو ادا کرنے کا فرض نبھا رہے ہیں۔ اس موقعہ پریہ سوال کرنا فطری ہے کہ کیا ذکر امام حسین ؑ منعقد کرنے سے پہلے ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم خود سے یہ معلوم کریں کہ آخر مقصد امام حسین ؑ کیا تھا؟ جس کا ذکر ہم کررہے ہیں کیا ہمیں اس کی حقیقی معرفت ہے اور کیا ہم اس عزاداری کے ذریعہ ان عظیم مقاصد کوحاصل کر پا رہے ہیں جن کےلئے امام ؑنے اپنی شہادت پیش کی تھی۔ اس سوال کا جواب معلوم ہوتے ہوئے بھی بیان کرنا آسان نہیں ہے تو پھر شہادت امام حسینؑ کا آخر مقصد کیا تھا؟

مقصد شہادت حسینیؑ سے متعلق اس عقیدے میں بھی کسی شک کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ بار بار ذکر حسینیؑ کرنے سے محبان اہل بیت ؑ کے دلوں میں امام ؑکی محبت مزید بڑھتی ہے اور جذبہ قربانی کو جلا ملتی ہے۔ تاریخ شاہدہے کہ امام حسین ؑ مدینہ سے رخصت ہونے سے عصر عاشور تک متعدد مواقع پر اپنی شہادت کے حقیقی مقصد ”بقائے دین اسلام“ کی وضاحت فرماتے رہے۔ یعنی اپنے نانا رسول خداؐ کے لائے ہوئے دین کے ارکان کا تحفظ کرنا ، جنہیں معرکہ کربلا سے پہلے نیست و نابود اور منہدم کیا جا رہا تھا۔ امام ؑنے شہادت کے ذریعے اپنے نانا ؐکے حقیقی وارث ہونے کی حیثیت سے ان کے کار رسالت کو نئی زندگی عطا فرمائی۔ ہر وقت امام ؑکے پیش نظر انسانی اخلاق کو نشو نما دینا اور حق و صداقت کو عملی حیثیت سے سماج میں رائج کرنا تھا جس کی خاطر انہوں نے اپنی اوراقرباءکی جان کی پرواہ نہ کی ۔

ابتدائے معرکہ کربلاسے ہی امام ؑکے ہر اقدام سے یہ واضح ہوتا رہا ہے کہ آپ امت کی اخلاقی اور روحانی اصلاح کےلئے کوشاں تھے۔اب جبکہ اما م ؑکی شہادت عظمی کا یہ اعلی ٰترین مقصد ان کے پیروکاروں اور محبوں پر واضح ہو چکا ہے تو پھر اس جادہ حق سے ہٹ کر اپنی زندگی گذارنا کس طرح امام ؑکی عظیم قربانی کا حق ادا کرنا کہا جا سکتا ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر سال امامؑ کا ذکر کرتے ہیں مگر اختتام محرم پر جب اپنے کردار کا تجزیہ اور اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں تو کوئی تبدیلی نہیں پاتے اور مثال کےلئے بھی اپنی سیرت میں کوئی ایسا تغیرنہیں پاتے جس کی بنیاد پریہ کہہ سکیں کہ ذکر حسینیؑ سے ہم نے یہ سبق حاصل کئے جو ہماری عملی زندگی میں انقلاب پیدا کر سکیں ۔

گریہ ذکر حسین ؑ کا ضمنی منشاءاور اس کے اصل مقصد کے حصول کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے مگر اس کا اصلی نصب العین نہیں ۔ اسکی اصل منشاء یہ ہے کہ ذکر حسین ؑ سننے والا اپنے امام ؑکے حالات سن کر ان کے طرز زندگی سے سبق لیتے ہوئے اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح کی کوشش کرے ، ان کی دی گئی قربانی کی قدرو منزلت سے آگاہی حاصل کرے اور ان اقدار اسلامی پر عمل پیراہو جن کے تحفظ کےلئے امام ؑنے جام شہادت نوش فرمایا تھا۔

آج ہم سوشل میڈیا پر انبیاءؑ وآئمہؑ کے اقوال اوران کے خطبات کوشیئرکرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے حق محبت اداکردیا، ایسا ہرگزنہیں کیونکہ محبت کے محض اظہارسے ہی محبوب خوش نہیں ہوتابلکہ اس کی سیرت اورکردارکواپنانے سے خوش ہوتاہے۔یہ ہمارا کتنا بڑاالمیہ ہے کہ ہم نے اتنی بے مثال عظیم قربانی امام حسین ؑ کے مقصد کو اتنا محدود کر دیااورشہادت امام حسینؑ کے اصل مقصد سے روگردانی کرتے ہوئے خود کو صرف اس کے ثانوی مقاصد سے منسلک کر لیا ہے۔

اگر عزاداری امام حسینؑ کی کوئی بھی شکل کسی ماننے والے کے کردار کی اصلاح کرنے سے قاصر ہے تو امام ؑکے اس ماننے والے کو اپنے طریقہ عزاداری پر نظر ثانی کرنا چاہئے کیونکہ مقصد امام حسینؑ کی صداقت کی کسوٹی ہی تذکیہ نفس اور اصلاح معاشرہ ہے ۔ مجالس میں گریہ و زاری نجات کا ذریعہ ہے مگر اس وقت جب عزادار امام مظلوم ؑکی شہادت کے رموز و اسرار کی بھی معرفت رکھتا ہو۔ ایسی صورت میں ہر محب اہل بیت ؑ کا یہ دینی فرض ہے کہ وہ امام ؑکے ذکر کو عام کرنے کےلئے جو کچھ بھی ممکن ہو اسے انجام دے اور اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں اس کو عملی جامہ پہنائے۔ بے شک ذکر امام حسین ؑ ہی ہماری شناخت ہے ورنہ کفر و نفاق کے بڑھتے طوفان نے ہماری ہستی اب تک ختم کر چکے ہوتے۔ امامؑ کے انقلابی فلسفہ کا ادراک ہو جانے پر ہی اس کا عملی زندگی میں اتباع کرنا ممکن ہے۔

سب سے زیادہ مقبول