یومِ عاشورہ پر خاص: امامِ حسینؓ محترم تھے اور محترم ہیں... مفتی محمد مکرم

امام عالی مقام کے قدموں پر عظمتیں نچھاور ہیں۔ انھیں تو دنیا و آخرت کی سرداری ملی ہوئی ہے۔ وہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ وہ تو محبوب محبوب رب العالمین ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

مفتی محمد مکرم

حضرت امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت عظمیٰ ظاہر کرتی ہے کہ دین کی حفاظت کس قدر مشکل ہے۔ وہ چاہتے تو شہادت کی نوبت ہی نہیں آتی۔ وہ پاکیزہ نفوس اگر دعا کر دیتے تو حالات آناً فاناً بدل جاتے۔ اگر وہ زمین پر عصا مارتے تو دجلہ و فرات کے چشمے ابل جاتے۔ اگر وہ چاہتے تو تین دن تک فاقوں کی نوبت نہیں آتی۔ من و سلویٰ نازل ہو جاتا۔ اگر وہ یزید کے لیے بد دعا کر دیتے تو سب نیست و نابود ہو جاتے۔ ان کی خدمت میں فرشتوں کی فوجیں دست بستہ حاضر تھیں۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ مباہلہ کے دن عیسائی پیچھے کیوں ہٹ گئے تھے۔ اسی لیے کہ انھیں معلوم تھا کہ اگر ہم ان مقدس نفوس کے مقابلہ پر آئے اور غضب الٰہی کے شکار ہوئے تو صفحہ ہستی سے عیسائیوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ وہی سب کچھ یہاں بھی ہو سکتا تھا اور دنیا دیکھ لیتی کہ آل رسول کا مقابلہ کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لیکن مقصد تو ملت اسلامیہ کو استقامت کا درس دینا تھا۔

امام عالی مقام کے قدموں پر عظمتیں نچھاور ہیں۔ انھیں تو دنیا و آخرت کی سرداری ملی ہوئی ہے۔ وہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ وہ تو محبوب محبوب رب العالمین ہیں۔ وہ تو راکب دوش رسول ہیں۔ وہ تو سیدۃ النسا حضرت فاطمہ زہراء کے جگر گوشہ اور شہزادۂ علی حیدر ہیں، خلافت تو ان پر صبح و شام مدام نچھاور ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی لیکن عاشورہ محرم پر جام شہادت نوش کر کے قیامت تک کے لیے انھوں نے حسینیوں کو جام عشق پلا دیے اور یزیدیوں کو رسوا کر دیا۔ آج یزیدی منھ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔ ان پر لعنتوں کی برسات ہو رہی ہے۔ امام کو خلافت کی چاہ نہیں تھی۔ انھیں امامت کا شوق نہیں تھا۔ وہ تو گوشہ نشیں ہو گئے تھے۔ ان سے زیادہ عابد و زاہد کون ہو سکتا تھا۔ کوفہ والوں نے انھیں بے شمار خطوط بھیجے، وفود بھیجے، ان کے نانا کا واسطہ دیا اس لیے وہ مجبوراً کوفہ جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ پہلے آپ نے مسلم بن عقیل کو حالات کی تحقیق کے لیے بھیجا۔ انھوں نے کوفہ والوں کی عقیدت و محبت کی تصدیق کی اور لکھا کہ ہزاروں افراد نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اور یہاں کے باشندے آپ کی آمد کے بے چینی سے منتظر ہیں۔ آپ جلد تشریف لے آئیں۔ اس خط کے بعد حضرت نے کوفہ جانے کا عزم مصمم کر لیا۔ جب اہل مکہ کو آپ کی تیاری اور روانگی کا علم ہوا تو سب نے ہی آپ کو سفر سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کی۔

سب جانتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا کیا مرتبہ تھا اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انھوں نے کوئی ایسی غلطی بھی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ سوچنے کا شائبہ بھی بچے۔ وہ تو محترم تھے اور محترم ہیں۔ ان کی لڑائی کی نیت نہیں تھی۔ اگر لڑائی کی نیت ہوتی وہ اہل خانہ اور بچوں کو ساتھ کیوں لے جاتے۔ انھوں نے باضابطہ جنگ کے لیے فوج کی تیاری بھی نہیں کی تھی۔ نہ انھوں نے ہتھیار جمع کیے تھے۔ وہ تو دین کی حفاظت کے لیے اور ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور تقدس کے لیے نکلے تھے انھوں نے اپنے سفر کے دوران موقع بموقع تقریریں فرمائیں اور اپنا نظریہ دشمنوں پر واضح کر دیا۔ لیکن کیا کہیے! یزید، ابن زیاد اور ان کے کارندوں پر ’ختم اللہ علی قلوبھم و علی سمعھم و علی ابصارھم غشاوۃ ولھم عذاب عظیم‘ کی مہر لگ چکی تھی۔ انھوں نے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کرنے کی ٹھان رکھی تھی تو کوئی کیا کر سکتا تھا۔ ایسے ہی بدنصیبوں کے لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے ’یریدون لیطفئوا نوراللہ بافواھھم و للہ متم نورہ ولو کرہ الکافرین‘۔

امام عالی مقام کی ایک ایک تقریر اتنی موثر اور جامع تھی کہ وہ ان کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا... اے لوگو! تم جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہو، یہ اسی رسول کا ارشاد ہے کہ حسن اور حسین میرے دونوں نواسے جوانان اہل بہشت کے سردار ہیں۔ تم میں کون ہے جو اس حدیث کا انکار کرتا ہے۔ بے غیرتو! ذرا شرم کرو اور اگر خدا و رسول پر ایمان رکھتے ہو تو سوچو کہ اس سمیع و بصیر، شاہد و شہید خدا کو کیا جواب دو گے اور محسن اعظم نور مجسم رحمت عالم حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منھ دکھاؤ گے۔ اپنے رسول کا گھر اجاڑنے والو! اگر قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اپنے انجام پر نظر کرو۔ بے وفاؤ! تم نے مجھے خطوط لکھے اور میرے پاس قاصد بھیجے اور کہا کہ ہماری رہنمائی کیجیے ورنہ ہم خدا کے حضور آپ کا دامن پکڑ کر شکایت کریں گے۔ میں نے تم پر اعتماد کیا اور یہاں چلا آیا۔ بے شرمو! تمھیں تو چاہیے تھا کہ میری راہ میں آنکھوں کا فرش بچھا دیتے۔ میرے پاؤں کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بناتے۔ حسب وعدہ سب کچھ مجھ پر نثار کرتے مگر تم نے میری آنکھوں کے سامنے چمن زہرا کے لہلہاتے ہوئے پھولوں کو کاٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کے ٹکڑوں کو خاک و خون میں تڑپایا، میرے اعوان و انصار کو قتل کیا۔ اب مجھے بھی ذبح کرنا چاہتے ہو۔ اب بھی وقت ہے، غیرت و شرم سے کام لو اور میرے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہ کرو۔ میرے قتل کا وبال اپنی گردن پر نہ لو۔ بولو، کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا کہ آپ یزید کی اطاعت قبول کر لیں۔ ورنہ بجز جنگ کے کوئی چارہ نہیں ہے۔ (شام کربلا، صفحہ 158)

جنگ ہوئی اور امام عالی مقام تین دن کے بھوکے پیاسے، اپنے شہزادوں اور رشتہ داروں کی شہادت سے نڈھال، ان کے مقابلہ پر آئے اور جام شہادت نوش کر کے امت کو قیامت تک کے لیے نصیحت فرما دی کہ باطل سے سمجھوتہ نہ کرنا، باطل کے سامنے سر نہ جھکانا، اصل زندگی تو آخرت کی ہے اس کی فکر کرنا۔

آج کل کچھ ناعاقبت اندیش، جاہل، خائن اوربددیانت لوگ جو حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آل رسول کی محبت اور عشق سے محروم ہیں اور اسرار محبت و رموز معرفت سے بالکل بے بہرہ ہیں وہ اپنی شقاوت و بدنصیبی کی بنا پر امام عالی مقام کی عظمت پر طرح طرح کے ناپاک الزام و بہتان لگاتے ہیں۔ معاذ اللہ! یہ لوگ امام عالی مقام کے بلند ترین مقام اور آپ کے عظیم الشان کردار کی حقیقت کو کیا جانیں۔ امام کے ارشادات کو دیکھیے اور حق و صداقت پر استقلال ملاحظہ کیجیے۔ بلاشبہ آپ نے آنے والی نسلوں کے لیے عزیمت کی مثال قائم کر دی اور اپنے اعلیٰ کردار اور مقبول عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ اس طرح ظالموں اور جابروں کے سامنے کلمہ حق ادا کیا جاتا ہے اور حق و صداقت کے پرچم کو بلند رکھا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو، امت کے ہر فرد کو دین متین اور صراط مستقیم پر گامزن رہنے اور امام عالی مقام کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

اے امام عالی مقام!

تمھارے عزم و ارادہ کی استقامت کو

قدم قدم پر شجاعت سلام کہتی ہے

ہوئی جو نصیب میدان کربلا میں تمھیں

وہ کامیاب شہادت سلام کہتی ہے

بہ صد عقیدت، بہ صد افتخار و ادب

تمھیں رسول کی امت سلام کہتی ہے

Published: 21 Sep 2018, 7:23 AM