افطار کی تقسیم: رمضان کی ایک اہم روایت… انظار احمد صادقؔ

افطار کی تقسیم کی روایت مسلمانوں کو ایثار اور قربانی کا درس دیتی ہے۔ یہ روایت امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کو بھی مٹاتی ہے اور معاشرے میں از راہ انسانیت محبت و ہمدردی کو فروغ دیتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>افطار کی تقسیم، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

انظار احمد صادق

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہم پر تمام تر سعادتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے، لیکن اب یہ اختتام کی طرف بڑھ چکا ہے۔ چہار جانب رحمت الہی کی بارشیں ہو رہی ہیں۔ پوری فضا روحانیت سے بھری ہوئی ہے۔ ہر طرف ہمدردی اور بھائی چارے کے سائے دوڑتے پھرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں عام دنوں کے مقابلے دعوتوں کی بڑی کثرت ہوتی ہے۔ افطاری، رات کے کھانے اور سَحری تک میں ایک دوسرے کو مدعو کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے اہم دعوت، افطار کی دعوت سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ شریعت محمدیہ نے اس دعوت کی بے انتہا اہمیت و فضیلت بتائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزے دار حضرات پوری وسعت قلبی کے ساتھ افطار کی تقسیم بھی کرتے ہیں۔ یعنی اپنے گھروں میں افطار تیار کرنے کے بعد آس پڑوس کے گھروں میں اس کی تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ’دعوت افطار‘ سے کچھ مختلف ضرور ہے، لیکن دعوت کی ہی ایک شکل ہے۔ الحمد للہ افطار کی تقسیم سے متعلق یہ روایت ہر سال بڑی مضبوطی اور شدت کے ساتھ آگے بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

رمضان المبارک میں افطار کی تقسیم کی روایت پر جب آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ روزے کے آغاز کے اول دن سے ہی اس کی تاریخ جڑی ہوئی ہے۔ افطار کی تقسیم کوئی معمولی عمل کا نام نہیں ہے، بلکہ افطار کی تقسیم رمضان المبارک کی عظیم ترین سماجی اور روحانی روایت ہے، جس میں ایک روزہ دار دوسرے روزے دار کو افطار کراتا ہے اور وہ اس عمل کو محض ایک رسم سمجھ کر انجام نہیں دیتا، بلکہ اس روایت کو عین عبادت تصور کرتا ہے۔ یہی حق اور درست بھی ہے۔ اس کے پیچھے مقصد روزہ دار کو افطار کرانا ہے، جس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد حدیثیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افطار کرانے پر روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے۔ در اصل  یہ عمل ہمدردی و غم گساری، بھائی چارہ اور بخشش کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ چاہے وہ ایک کھجور یا پانی سے ہی کیوں نہ ہو۔


سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مغرب کی) نماز سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ کھولتے، اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

اسی طرح سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اس کے لیے اس کی مثل ثواب ہے، اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی ہو۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔


ایک تیسری روایت میں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر شخص میں اتنی استعداد کہاں ہوتی ہے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کرائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ثواب اس کو بھی ملے گا جو روزہ دار کا روزہ دودھ ملے ہوئے ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، یا ایک کھجور، یا ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، اور جو کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے اس کو تو اللہ تعالی میرے حوض سے ایک گھونٹ پلائے گا، اس کے بعد وہ پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو گا۔ (سنن بیہقی)۔ شيخ الألبانی اور شيخ زبير على زئی رحمھما الله نے اس حدیث کو صحت کے اعتبار سے صحیح کے درجے میں رکھا ہے۔

افطار کی تقسیم کی یہ روایت انسانیت کو فروغ دیتی ہے۔ مسلمانوں کو ایثار اور قربانی کا درس دیتی ہے۔ ہر قسم کے بھید بھاؤ کے قلعوں کو قمع کرتی ہے۔ یعنی یہ روایت امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کو مٹاتی ہے اور معاشرے میں از راہ انسانیت محبت و ہمدردی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اتحاد کی قوت کا مظہر ہے اور یہ سب رمضان کی حقیقی روح کے عین مطابق ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ روایت گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کا پروانہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ ان سب کے علاوہ افطار کی دعوت و تقسیم سے اللہ تعالیٰ ہمارے رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک ماہ کی تمام ساعتوں کی سعادتوں سے نوازے، آمین!

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔