آئین سے دشمنی: ملک کو اس موڑ تک کیسے لایا گیا؟...کرشن پرتاپ سنگھ

سوال یہ ہے کہ اگر 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں عوام نے بروقت ہوشیاری نہ دکھائی ہوتی اور ’چار سو پار‘ کے منصوبے کو ناکام نہ بنایا ہوتا تو آج ہمارے آئین اور جمہوریت کا کیا حال ہوتا؟

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
i
user

کرشن پرتاپ سنگھ

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں، اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ بہت سوں کو یاد ہوگا کہ بیسویں صدی کے نوّے کے عشرے میں ملک کے اب تک کے سب سے کم عمر وزیرِ اعظم مرحوم راجیو گاندھی نے آنے والے چیلنجز کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کو اکیسویں صدی میں لے جانے کی بات کی تھی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی (کمپیوٹر، مواصلات)، تعلیم، سائنس اور پنچایتی راج جیسے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کی وکالت کی، تاکہ ملک جدید، مضبوط اور شمولیتی بن سکے اور عالمی سطح پر تکنیکی مسابقت کا سامنا کرتے ہوئے سماجی و معاشی ترقی کر سکے۔

ان کی دور اندیشی نے اسی وقت اس صدی کو ہندوستان کی صدی بنانے کے خواب دیکھنے کی بنیاد رکھ دی تھی، لیکن بدقسمتی سے ہم نے نہ صرف ان کا بلکہ ان کے خوابوں کا بھی الم ناک انجام دیکھا۔ آج حالات یہ ہیں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، اس کے ذیلی اداروں اور ان سے وابستہ حکومتوں نے گزشتہ پچیس برسوں میں سے نصف سے زیادہ وقت آئین اور جمہوریت سے اپنی دشمنی نکالنے میں ضائع کر دیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اس نظریاتی خانوادے نے راجیو گاندھی کے دور میں بھی ان کے وژن کا مذاق اڑایا تھا۔ ملک کے آئین، جمہوری اقدار بلکہ قومی ترانے تک سے ان کی ناپسندیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

اگر ماضی کی باتوں کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے اور موجودہ ’مہانائک‘ نریندر مودی کے پورے دورِ اقتدار پر گفتگو نہ بھی کی جائے، تو صرف گزشتہ دو تین برسوں میں سامنے آنے والے واقعات ہی اُن تمام شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بننے کے لیے کافی ہیں جو ملک کے مستقبل، آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

کچھ ہی عرصہ پہلے تک جنوری آتے ہی تمام ذرائع ابلاغ یومِ جمہوریہ کی تیاریوں سے بھر جاتے تھے، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ 22 جنوری 2024 کو، یعنی یومِ جمہوریہ سے چند دن پہلے، ایودھیا میں زیرِ تعمیر رام مندر میں وزیرِ اعظم کے ہاتھوں رام للا کی پران پرتشٹھا کرائی گئی۔ اب اس کی سالگرہ سے جڑی تقریبات کو شعوری طور پر یومِ جمہوریہ کی خبروں پر حاوی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔


وزیرِ اعظم کو ایک مخصوص مذہب کے مبلغ، پجاری یا مذہبی پیشوا کے طور پر پیش کرنا آئین کے اس بنیادی اصول کی نفی ہے جسے ہم ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ کہتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل ایسا ہے جیسے عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی گئی ہو کہ مودینے ہی 500 سال کا انتظار ختم کر کے رام کو ایودھیا واپس لالئے ہیں، حالانکہ یہ سوال نظر انداز کر دیا گیا کہ وہ اس سے پہلے بھی بارہا ایودھیا آ کر انہی دیوتا کے سامنے ماتھا کیوں ٹیکتے رہے۔

دو سال قبل، نامکمل مندر میں ہونے والی پران پرتشٹھا کو ’راموتسو‘ اور ’راشٹر کا اتسو‘ کہا گیا۔ اسے غیر معمولی بنانے کے لیے آئینی اور جمہوری اقدار کی پامالی سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ اس تقریب کے لیے یومِ جمہوریہ اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کی جینتی سے ذرا پہلے کی تاریخ منتخب کی گئی، اور شنکراچاریوں کے شدید اعتراضات کے باوجود اسے بدلا نہیں گیا۔ اس جلد بازی کے پیچھے صرف ایک مقصد تھا—آنے والے لوک سبھا انتخابات میں سیاسی فائدہ۔

اسی طرح 2020 میں رام مندر کے لیے بھومی پوجن کی تاریخ بھی آزادی کے دن سے عین پہلے، 5 اگست رکھی گئی۔ اس فیصلے میں بھی علامتی سیاست کی واضح جھلک تھی۔ گزشتہ نومبر میں مندر پر دھرم دھوجا لہرانے کے لیے یومِ آئین (26 نومبر) سے ایک دن پہلے یعنی 25 نومبر کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔

ان تمام تاریخوں کے انتخاب سے صاف ظاہر ہے کہ مقصد یہ ہے کہ ہر قومی دن سے پہلے ایک مذہبی تقریب لا کر اس کی معنویت کو دھندلا دیا جائے۔ یوں جمہوری اور آئینی اقدار کے جشن سے پہلے مذہبی سیاست کا شور کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ پران پرتشٹھا کے موقع پر مودی کو ’وشنو کا اوتار‘ قرار دیا گیا اور اس دن کو 15 اگست 1947 جتنا اہم بتایا گیا۔ اس پر کئی شنکراچاریے برہم بھی ہوئے اور انہوں نے صاف کہا کہ سیاست دانوں کو ایسے مذہبی امور سے دور رہنا چاہیے۔

دوسری طرف، منی پور جل رہا تھا، لوگ جان کے خوف میں مبتلا تھے، مگر اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لیے یہ مسئلہ ترجیح نہ بن سکا۔ اس ماحول میں رام کے نام پر ہونے والی سیاست نے خود رام کے اقدار—انصاف، مساوات اور رحم—کو ہی مجروح کیا۔

مودی کو اپنے عقیدت مندوں کی اس اندھی وابستگی سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا ہنر آتا ہے۔ اسی کے سہارے بغیر کسی باضابطہ اعلان کے ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کر دیے گئے اور ملک کو ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔


آج بہت سے لوگ اس پر خوش ہیں، جیسے انہوں نے چالاکی اور دانش مندی کے فرق کو مٹا دینے میں کامیابی حاصل کر لی ہو۔ افسوس یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب ان کی خوشی میں شریک ہوں، مگر اتنی گنجائش بھی پیدا نہیں کرنا چاہتے کہ ملک کے عیسائی بے خوف ہو کر کرسمس منا سکیں۔

یہ سب کچھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی اس منظم نظریاتی مہم کا حصہ ہے، جسے وہ ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘ کے نعرے کے تحت مکمل کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کولکاتا میں کہا کہ ہندوستان پہلے سے ہی ایک ’ہندو راشٹر‘ ہے—ایک ایسا بیان جو براہِ راست آئین کی روح سے ٹکراتا ہے۔

ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہے کہ اگر 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں عوام نے بروقت ہوشیاری نہ دکھائی ہوتی، ’چار سو پار‘ کے منصوبے کو ناکام نہ بنایا ہوتا، اور حکومت کو بیساکھیوں پر نہ لا کھڑا کیا ہوتا، تو آج ہمارے آئین اور جمہوریت کا کیا حال ہوتا؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔