مہاتما گاندھی اور اُن کا نظریۂ قومی اتحاد

گاندھی جی کے تمام آدرش و اصول خواہ وہ اہنسا ہو، ستیہ گرہ ہو یا بھائی چارہ، نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہوئے اور عالمی پیمانے پر مفکروں، قلم کاروں اور فنکاروں نے اُنہیں سراہا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مرضیہ عارف ( بھوپال)

مہاتما گاندھی ایک عہدساز بلکہ تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے، اُنہوں نے اپنے قول وفعل، مضبوط عزائم اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کرکے ہندوستان کی تقدیر بدلنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کو بھی غیروں کی غلامی سے آزاد ہونے کی راہ دکھائی ہے۔ گاندھی جی کے اہم کارناموں میں قومی اتحاد، فرقہ وارانہ خیرسگالی، عدم تشدد اور اہنسا کا فلسفہ اِس قابل ہے کہ اُن پر پوری دیانت داری کے ساتھ آج بھی عمل کیا جائے تو ملک کے اندر اور باہر پنپنے والے تشدد اور عدم برداشت کے ماحول کو ہم دور کرسکتے ہیں۔

گاندھی جی کا مسلک تھا کہ ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ یعنی تمام مذہبوں کو پھلنے پھولنے کی آزادی یا ’’جیو اور جینے دو‘‘ کا اصول جو آج بھی مختلف گروہوں، قوموں اور ملکوں کے درمیان ہر مسئلہ کے منصفانہ حل اور پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ ہم گاندھی جی کی تقریروں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ انہوں نے ذات، مذہب، علاقائیت، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر مختلف طبقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی، قومی ایکتا کا یہی نظریہ اُن کی فکرکا بنیادی پتھر ہے، جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیر کرنا چاہتے تھے، گاندھی جی کا یہ نظریہ اُس قومی روایت پر مبنی معلوم ہوتا ہے، جس کے مطابق پوری کائنات کو اللہ کا کنبہ قرار دیا گیاہے۔ ’’الخلقُ عیال اللّٰہ‘‘ کی یہی روایت ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ ملتی ہے۔ یہ گاندھی جی کی آفاقی فکر تھی جس نے اُنہیں رنگ و نسل، ذات برادری اور علاقائیت کے امتیازات سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کی تحریک دی، انسان دوستی کے ا ِسی فلسفے نے اُن کے خیالات کو جِلا بخشی جس پر وہ آخری دم تک کاربند رہے۔

مہاتما گاندھی کو اِس کا احساس تھا کہ ہندوستان کو اُس وقت تک آزادی نہیں مل سکتی جب تک کہ یہاں رہنے اور بسنے والے دو بڑے فرقے باہم مل جل کر رہنا نہیں سیکھ لیں۔ اگر آزادی مل بھی گئی تو حقیقت میں وہ آزادی نہیں ہوگی، جس کے ہم سب متمنی ہیں۔ گاندھی جی ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے، اُن کا خیال تھا کہ اگر ہندو اور مسلمان امن و بھائی چارہ کے ساتھ زندگی گزارنا نہیں سیکھ لیتے تو اِس ملک کا جسے ہم بھارت کے نام سے جانتے ہیں وجود ختم ہوجائے گا۔ گاندھی جی نے مختلف مذاہب کی کتابوں اور دنیا کے قابل ذکر دانشوروں کے افکار ونظریات کا مطالعہ کیا تھا، اُن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہر صبح گیتا کے ساتھ قرآن مجید اور انجیل مقدس کا مطالعہ کرتے تھے، اُن کی کتاب ’’مائی ایکسپریمنٹ وِتھ ٹُروتھ‘‘ میں یہ اعتراف موجود ہے کہ جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران کئی مسلمانوں سے اُن کے گہرے مراسم تھے، جو اسلامی تعلیمات سمجھنے میں اُن کے لئے مفید ثابت ہوئے۔

اُن سے جب معلوم کیا گیا کہ رام راجیہ کے جس تصور کی وہ بات کرتے ہیں، وہ کس قسم کی حکومت کے طرز پر ہوگا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’’وہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کی حکومت کے طرز پر ہوگا‘‘۔ انگلینڈ کے دورانِ قیام اُنہوں نے عیسائیت اور وکالت کے دوران پارسی لوگوں کے میل جول سے اُن کے مذہب کی روح تک پہنچنے کی سعی کی، وہ تمام مذاہب کو احترام کی گہری نظر سے دیکھتے تھے لیکن اپنے آبائی مذہب یعنی ہندو فلاسفی سے اُن کا گہرا تعلق تھا، اِسی طرح گاندھی جی نے پورے ہندوستانی سماج کو غائر نظر سے دیکھا اور سمجھا یہاں تک کہ وہ اِس ملک کی سماجی زندگی کے ’’نبض آشنا‘‘ بن گئے۔

تحریک آزادی کے دوران تو اُن کا ملک کے ہر طبقہ اور ہر علاقے کے لوگوں سے سابقہ پڑا، یہی وہ عوامل تھے جو اُن کے ’’قومی اتحاد‘‘ کے نظریہ کی تشکیل میں مددگار بنے، گاندھی جی کے اِس نظریہ کا تجزیہ کرنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے، یہ اُن کے فطری رجحان کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اُن کے زمانے میں جاری تحریکات اور رجحانات کا تقاضا تھا کہ وہ قومی اتحاد کا سہارا لے کر انگریزوں کی ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت ہندو اور مسلمانوں میں نفرت کے جو بیج بوئے گئے ہیں، اُنہیں پھیلنے نہ دیں۔ 1909ء میں مارل منٹو کی اصلاحات سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا، ہندوؤں اور مسلمانوں میں الگ الگ انتخابی حلقوں کا اعلان، شُدّھی تحریک اور دوقومی نظریہ کا سامنے آنا، یہ وہ عوامل تھے جو آزادی کی تحریک کے لئے زہر ثابت ہوسکتے تھے۔ گاندھی جی نے اِن خطرات کا اندازہ لگاکر اُن سے مقابلہ کے لئے قومی اتحاد کا جھنڈا بلند کردیا، اُنہوں نے نہایت سمجھداری سے کام لے کر ڈاکٹر امبیڈکر اور اعلیٰ طبقہ کے درمیان سمجھوتہ کرایا اور اِس طرح آنے والی ایک بڑی مصیبت کو ٹال دیا۔

ملک میں صدیوں سے چلی آرہی چھوت چھات کی لعنت کے خلاف اُنہوں نے تحریک چلائی اور لسانی تفریق کو دور کرنے کے لئے ہندی یا اُردو کے بجائے ’’ہندوستانی زبان‘‘ کا تصور پیش کیا، وہ اردو کو ایک ایسی زبان کی شکل دینا چاہتے تھے جس میں فارسی اور عربی کی جگہ مقامی اور علاقائی زبانوں کے آسان الفاظ استعمال ہوں،تاکہ ہندوستان کا ہر فرد و بشر اِس زبان کو سمجھ سکے اور یہ ’’ہندوستانی زبان‘‘ پورے ملک کو لسانی سطح پر جوڑنے کا ذریعہ بن جائے۔

گاندھی جی فرقہ وارانہ فسادات کے سخت خلاف تھے، بہار کے نواکھالی علاقے میں فساد ہونے پر، خود وہاں گئے اور طویل عرصہ تک قیام کرکے صورت حال کو نارمل بنانے کی کوشش کی، ہندوستان کی آزادی کے بعد پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ دنگوں سے بھی سب سے زیادہ دُکھی وہی نظر آتے تھے، بعض ناسمجھ لوگوں نے اِسے اُن کی ہندو مخالفت سے تعبیر کیا، جو صحیح نہیں۔ حقیقت میں ظلم کسی کے خلاف ہو، گاندھی جی کا حساس دل اِسے برداشت نہیں کرسکتا تھا اور وہ اُس کے خلاف آواز اُٹھانے پر مجبور ہوجاتے تھے۔

گاندھی جی کے قومی اتحاد کے تعلق سے اِس نظریہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تمام طبقات کو متحد کرنے کے لئے گاؤں اور شہر کو قریب لانے کی کوشش کی، اُنہوں نے دیہی زندگی کی اصلاح اور ترقی پر خاص طور سے زور دیا۔ صنعتی ترقی سے شہروں کی خوشحالی کو دیکھ کر وہ دیہاتوں کے پچھڑے پن کو دور کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اُن کے قول کے مطابق حقیقی ہندوستان دیہاتوں میں بستا ہے اور اِس ہندوستان کو ترقی کے مواقع ملنا چاہیے۔ گاندھی جی کا قومی ایکتا کا نظریہ ذات پات اور علاقائی حدود سے اونچا تھا۔

اُنہوں نے افریقہ میں قیام کے دوران کالے اور گوروں کے درمیان تفریق کو مٹانے میں سرگرم کوشش کی اور وہاں کے سیاہ فام باشندوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اُٹھائی۔ گاندھی جی کے تمام آدرش و اصول خواہ وہ اہنسا ہو، ستیہ گرہ ہو یا بھائی چارہ، نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہوئے اور عالمی پیمانے پر مفکروں، قلم کاروں اور فنکاروں نے اُنہیں سراہا۔ دوسری طرف یہ بھی ایک سچائی ہے کہ گاندھی جی کے قومی اتحاد کے نظریہ کو منافرت پھیلانے اور پھوٹ ڈالنے والوں نے کبھی پسند نہیں کیا۔ جس کی قیمت گاندھی جی کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔

گاندھی جی کی عظمت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد اُنہوں نے اقتدار میں کوئی حصہ نہیں لیا، اقتدار سے اِس دوری نے اُنہیں عظیم سے عظیم تر بنادیا اور وہ علامہ اقبال ؔ کے اِس شعر کی مثال بن گئے؎

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا