فرنگیوں کے حواس باختہ کرنے والی ہندوستان کی دلیر بیٹی بیگم حضرت محل

واجد علی شاہ نے بیگم حضرت محل کی تعریف و توصیف یوں کی ہے کہ ’’میری محلات میں ایک محل ایسی ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہمیں اپنے حق کے لیے لڑنا چاہیے۔ بنا لڑے دنیا میں کوئی چیز نہیں ملتی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>

Getty Images

user

شاہد صدیقی علیگ

تحریک 1857ء میں جہاں ہندوستانی فرزندان نے ملک عزیز کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا تھا، وہیں دختران ہند نے بھی اپنے عزم و استقلال اور جرأت و شجاعت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ فرنگیوں کے حواس گم ہو گئے تھے۔ جن کی لازوال قربانیاں تاریخ ہند کا ایک روشن و تابناک پہلو ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم ہستی کا نام ہے بیگم حضرت محل، جن کی پیدائش فیض آباد کے غلام حسین کے گھر 1830ء میں ہوئی۔ ان کے والد نے اپنی لخت جگر محمدی خانم کی ایسی تعلیم و تربیت کی جس کی بدولت وہ نواب واجد علی شاہ کے قائم کردہ ’پری خانہ‘ سے گزرتی ہوئی ان کی شریک حیات بنی اور نواب موصوف کے والد محترم امجد علی شاہ نے افتخار النساء نام عطا کیا۔ جن کے بطن سے رمضان علی عرف مرزا برجیس قدر ہوئے تو شاہی خاندان کے رسم و رواج کے مطابق ’محل‘ کے خطاب کی حقدار ہوئیں اور بیگم حضرت محل کہلائی۔

واجد علی شاہ نے بیگم حضرت محل کی تعریف و توصیف یوں کی ہے کہ ’’میری محلات میں ایک محل ایسی ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہمیں اپنے حق کے لیے لڑنا چاہیے۔ بنا لڑے دنیا میں کوئی چیز نہیں ملتی۔‘‘

حرص و طمع کی پیکر کمپنی حکومت نے 13 فروری 1856ء کو ریاست اودھ کا انضمام کر لیا اور واجد علی شاہ پر نااہلی کا بے بنیاد الزام لگا کر معزول کر کے کلکتہ بھیج دیا۔ نواب کے ملازمین اور سپاہیوں کو بے دخل کر دیا، چھتر منزل سے شاہی خاندان کے متعلقین کو باہر نکال دیا۔ کمپنی کے ان اقدام کا عوام کے ذہن و دل پر کافی گہرا اثر پڑا اور تاجران فرنگ کے خلاف اندر ہی اندر نفرت کی آگ سلگنے لگی۔ اسی اثنا میں 13 اپریل 1857ء کو میرٹھ کے دیسی سپاہیوں نے کارتوسوں کے خلاف بغاوت بلند کر دی۔ جس کا رد عمل 30 اپریل کو لکھنؤ میں بھی نظر آیا۔ جب 7 رجمنٹ نے نئے کارتوس قبول کرنے سے انکار کر دیا تو انگریز حکام آپے سے باہر ہو گئے اور تختہ دار کی سزاؤں کو معمولی بنا دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنگ آزادی کے روح رواں مولوی احمداللہ عرف ڈنکا شاہ آگرہ سے لکھنؤ پہنچے اور حریت پسندی کی شمع روشن کر کے پورے حلقے کو درخشندہ کر دیا۔


انجام کار 30 مئی کو لکھنؤ میں برطانوی استعماری کی زنجیروں کو کاٹنے کے لیے ہندوستانی جیالے اتر پڑے، جسے کچلنے کے لیے کمپنی حکام نے سخت گیر قدم اٹھائے، لیکن جون کے دوسرے ہفتہ میں احمداللہ شاہ اور سید برکت احمد کی فیض آباد سے لکھنؤ آمد فرنگیوں پر بجلی بن کر گری۔ جن کی کمان میں 30 جون کو چنہٹ کی لڑائی میں انقلابی سپاہیوں نے انگریزی فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ تمام فرنگیوں کو بیلی گارد یعنی ریزیڈنسی میں پناہ لینی پڑی جو تین مہینے تک محصور رہے، مگر ضمیر فروشوں کی بدولت وہاں ضروریات زندگی بروقت پہنچتی رہی، بیلی گارد کو چھوڑ کر پورے اودھ پر باغیوں کا تسلط قائم ہو گیا۔

لکھنؤ کو ابتری سے نکالنے کے لیے عنان حکومت کا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ مرزا رضا علی بہادر فرزند واجد علی شاہ کا نام پیش کیا گیا تو انھوں نے انکار کر دیا۔ الحاصل امرائے اودھ محمود خاں، شیخ احمد حسین اور راجہ جے لعل سنگھ نے مرزا برجیس قدر کا نام تجویز کیا، ان کے نام پر دیگر بیگمات کی رضامندی بھی لی گئی۔ چنانچہ 5 جولائی کو برجیس قدر کو لال بارہ دری میں 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ مسند پر بٹھایا جن کی عمر اس وقت دس سال و چند ماہ تھی۔ امور معاملات کی ذمہ داری بیگم حضرت محل کے سپرد کی۔


ڈاکٹر کوکب قدر بیگم حضرت محل کی دلیری اور حوصلہ مند فیصلہ کو سراہتے ہوئے رقم کرتے ہیں کہ:

’’انجام سے بے پروا اپنے اکلوتے لخت جگر برجیس قدر کو آزادی کی قربان گاہ میں پیش کر دینا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ اسی ناقابل تسخیر ہمت اور جرأت کے لیے نپولین نے اپنی شہرت اور عظمت کو اپنی ماں کا رہین منت بتایا تھا۔ برجیس قدر اپنی ماں کے اس سے کہیں زیادہ مرہون منت تھے۔ جو پندرہویں صدی کے فرانس کی جون آف آرک کی طرح انگریزوں کے تسلط کو للکارتی اور پژمردہ دلوں کو گرماتی مثل شہاب ثاقب کے پردہ گمنامی سے نمودار ہوئی اور اودھ کے طول و عرض میں آزادی کی روح پھونک دی۔‘‘

اودھ کے حالات اور حریت پسندوں کی عرضداشت مغلیہ دربار میں پہنچی تو مغل بادشاہ بہادر شاہ نے بھی انقلابیوں کے نام فرمان بھیجا۔

’’یہ بہت اچھا ہوا کہ تم نے مرزا برجیس قدر کو مسند وزارت پر بٹھایا۔‘‘

شاہی فرمان کا جواب لے کر عباس مرزا 9 ستمبر کو شاہدرے پہنچے۔ خطاب سے سرفراز کیے گئے۔ دلی کی لڑائی فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکی تھی چنانچہ بڑی مشکلات سے نکل کر واپس پہنچے۔

بیگم نے دگرگوں صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے بڑی کاوشیں کیں۔ اپنے پاس سے زر نقد چوبیس ہزار روپے اخراجات کے لیے دیے، مگر درباریوں کی ریشہ دوانیاں مخاصمت اور رقابتوں کے سبب نظم و نسق قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ آپسی چپقلش اور ذاتی مفادات کی خاطر عمائدین اودھ کو مولوی احمداللہ شاہ کی کمان قبول نہیں تھی۔ ڈنکا شاہ کی روز افزوں مقبولیت انھیں گراں گزرتی تھی۔ ان کی عامیانہ حرکتوں کی وجہ سے فوج بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ مزید برآں محل کی بیگمات بھی بیگم عالیہ اور مرزا برجیس قدر سے بغض اور کینہ رکھتی تھیں جو پس پردہ فرنگیوں کے خبر رساؤں سے رابطہ رکھتی تھی۔


چلمن کے پیچھے سے فوج کی کمان کرنا سہل کام نہ تھا۔ تاہم وہ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوئیں۔ ان کی فراست، دور اندیشی اور ذہانت کا ولیم رسل قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ بڑی بے باکی سے لکھتا ہے کہ:

’’بیگم نے بڑی توانائی اور قابلیت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ ان رانیوں اور بیگمات کے پرجوش کردار کو دیکھ محسوس ہوتا ہے کہ زنان خانوں اور حرم کے اندر رہ کر بھی یہ کافی عملی و ذہنی طاقت اپنے اندر پیدا کر لیتی ہیں۔‘‘

2 جولائی کے حملہ میں زخمی ہوا سر ہنری لارنس جاں بر نہ ہو سکا۔ بیگم حضرت محل اور احمداللہ شاہ کی حکمت عملیوں کی بدولت انگریز بیلی گارد کی دیواروں سے سر پٹکنے پر مجبور ہو گئے جن کی حالت زار کی اطلاعات نے انگریزی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔ محصورین کی رہائی کے لیے جنرل ہیولاک نے جولائی کے اواخر میں کانپور سے لکھنؤ پہنچنے کی بڑی دوڑ دھوپ کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔ اگست میں اس نے دوبارہ پر تولے مگر مجاہدین سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ہیولاک کے بعد جنرل اوٹرم نے ستمبر کے آخر میں محصور لوگوں کی رہائی کی جسارت کی مگر وہ خود مخمصہ میں پھنس گیا۔ مجاہدین نے 37 مرتبہ بیلی گارد کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی جو انگریز زر خرید غلاموں کی بدولت صدائے بہ صحرا ثابت ہوئی۔ آخر کار 27 نومبر کو جنرل کولن کیمپ بیل بیلی گارد میں چھ ماہ سے پھنسے محصورین کو آزاد کرا کر لکھنؤ آوٹرم کے حوالے کر کے خود تانتیا ٹوپے کی سرکشی کے لیے کانپور روانہ ہو گیا۔ تمام انقلابی مراکز کی انقلابی مہم کے شعلے سرد ہونے کے بعد بیشتر انقلابی رہنما بیگم حضرت محل کے پرچم تلے جمع ہو گئے۔ جن میں مولوی احمداللہ شاہ بخت خاں، نانا صاحب عظیم اللہ خاں، بخت خاں، مولانا سرفراز علی، مولانا فیض احمد بدایونی، ڈاکٹر وزیر خاں نواب تفضل حسین خاں فرخ آبادی، شہزادہ فیروز شاہ، مولوی لیاقت علی الٰہ آبادی، مرزا بلاقی مرزا کوچک اور خان علی خان شاہجہاں پوری وغیرہ تھے۔ علاوہ ازیں تقریباً ایک لاکھ اسّی ہزار کفن بردوش فوجی آر پار کی لڑائی کے لیے کمربستہ تھے۔ لکھنؤ کے انقلابی خیمے کی خبریں سن کر فرنگی اعلیٰ افسران تذبذب میں پڑ گئے۔ لہٰذا جہاں ایک طرف جیمس اوٹرم، نیل اور سرکولن کیمپ بیل جیسے تجربے کار افسران لکھنؤ کی انقلابی حکومت کی بیخ کنی کا روڈمیپ تیار کر رہے تھے، جن کے ہمراہ نیپال کے راجہ رانا جنگ بہادر، گورکھوں، بھوٹانیوں اور سکھ ریاستوں کی فوجیں مجاہدین کا بھوکے شیر کی مانند شکار کرنے کو بے چین تھیں تو وہیں دوسری جانب انقلابی خیمہ میں حسد، جلن اور آپسی پھوٹ اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔


25 فروری 1858ء کو بیگم حضرت محل نے ہاتھی پر بیٹھ کر عالم باغ کی لڑائی میں شرکت کی۔ وہ بخت خاں کی شجاعت دیکھ کر بڑی متاثر ہوئی۔ بخت خاں کی توپیں فرنگیوں نے چھین لی تھیں۔ بیگم نے انھیں تیقن دلایا کہ ان کی توپوں کے نقصان کی پاجبائی کر دی جائے گی۔

بیگم عالیہ اپنی فوج کے دلیر سپاہیوں اور سرداروں کی حوصلہ افزائی و عزت افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں تلقین بھی کرتی رہیں۔ نبی بخش تعلقہ دار بھٹو امو کو فہمائش کی تم اس وقت لڑو گے جب میرے سر کے بال فرنگیوں کے ہاتھ میں ہوں گے۔ تعلقہ دار اس وقت اپنے حواریوں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، یہ سنتے ہی دسترخوان سے اٹھا اور کہا اب کھانا حرام ہے اور تقریباً ڈیڑھ سو آدمیوں کو لے کر انگریز فوج پر چڑھ بیٹھا اور جام شہادت نوش کی۔

اسی طرح راجہ مان سنگھ اپنی فوج کے ساتھ شجاعت سے لڑتا بھڑتا رہا اور حق نمک ادا کیا۔ بیگم صاحبہ نے اسے اعزاز و اکرام سے سرفراز کیا اور مزید انعامات دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن ہوا کا رخ دیکھ کر تمام تعلقہ داروں میں سب سے پہلے وہ برطانوی خیمہ میں جا کھڑا ہوا۔

آفریں! بے لوث مجاہدین نے ناموافق حالات و جنگی ساز و سامان کی عدم موجودگی کے باوجود انگریزوں سے گھمسان لڑائی لڑی اور اپنے لہو کی آخری بوند تک ان کے خلاف ایسی شجاعت و دلیری کا مظاہرہ کیا کہ جنرل کولن کیمپ بیل نے دانتوں تلے انگلی دبا لی۔ لکھنؤ کی ہر گلی و کوچہ کو انقلابیوں نے اپنے خون سے لالہ زار بنا دیا۔ مگر جدید اسلحہ، آزمودہ کار افسران، تازہ دم فوجیں اور سب سے بڑھ کر سید میر واجد علی، نقی خاں، انگد تیواری اور قنوجی لعل جیسے غداروں کی ٹولیوں کا مقابلہ آخر کہاں تک ہوتا۔ لہٰذا موقع و محل کی مناسبت سے جناب عالیہ مع برجیس قدر اور انقلابیوں کے ساتھ قیصر محل چھوڑ کر لال دروازہ میں غلام رضا کے دولت کدے پر آ گئی، وہاں سے سرائے حسین آباد پہنچیں لیکن خطرہ بدستور تھا۔ چنانچہ وہ بروز سہ شنبہ 29 رجب 1274ھ مطابق 16 مارچ 1858ء کو بوقت شام بادل ناخواستہ موضع بھراؤں پہنچیں۔ جہاں راجہ مرون سنگھ بڑی بے رخی سے پیش آیا تو وہ محمود آباد سے ہوتی ہوئی باڑی چلی گئی۔ جہاں راجہ ہردت سنگھ نے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ بیگم نے اودھ کے راجگان اور تعلقہ داروں کے تعاون سے انگریزوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی آخری سعی کی مگر کامیاب نہیں ہو سکی۔ انجام کار انھوں نے نیپال کی ترائی کا رخ کیا۔ اگرچہ انگریز گورنر جنرل نے بیگم حضرت محل کو لکھنؤ واپس آنے کا پیغام بھیجا کہ ہم آپ کے اعزاز و اکرام کو برقرار رکھیں گے جو ایک شاہی خاندان کو دیے جاتے ہیں اور وظیفہ بھی بدستور جاری رہے گا۔ لیکن انھیں کوئی سیاسی اقتدار عطا نہیں کیا جائے گا، لہٰذا جلد از جلد دانش مندی سے کام لے کر سپر اندازی کر کے آئندہ کے لیے باوقار زندگی اور فراخ دلانہ سلوک حاصل کرنا چاہیے، لیکن حضرت محل جیسی خود دار خاتون نے انگریزوں کی شرائط پر زندگی گزارنے کے بجائے دیار غیر میں ناسازگار و تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنے کا عزم کیا اور مادر ہند کی آزادی کی تمنا لیے نیپال میں 7 اپریل 1879ء کو اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔


بیگم حضرت محل کو امرت لعل ناگریوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ:

’’بیگم عالیہ (بیگم حضرت محل) نے بھی رانی لکشمی بائی کی طرح خواتین کے ایک فوجی گروہ کی تشکیل کی تھی۔ محلوں کی باندیاں ان کی نگرانی میں قواعد وغیرہ کرتی تھیں اور ان کی شاگرد کہلاتی تھیں۔ انھوں نے جاسوس عورتوں کی بھی اچھی تنظیم تیار کی تھی۔ اس طرح آپسی نفاق کے مایوس کن حالات میں بھی ایک ایک فرد کے دل میں بغاوت کا جذبہ تقریباً پونے دو برس تک اودھ میں برقرار رکھنا بیگم ہی کا کام تھا۔‘‘

1962ء میں لکھنؤ کے وکٹوریہ پارک کا نام بدل کر حضرت محل پارک رکھا گیا۔ 1984ء میں حکومت ہند نے بیگم حضرت محل کے نام ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

(بشکریہ: دی تاج ٹائمز نیوز پورٹل، 7 اپریل 2022)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔