بی ایچ یو سے فیروز خان تو لوٹ گئے، لیکن بسم اللہ خان، نذیر بنارسی، غلام علی، فراق کا کیا کریں گے!

نوتقرر سنسکرت کے پروفیسر فیروز خان واپس اپنے گھر لوٹ گئے ہیں، لیکن ان کی مخالفت جاری ہے۔ آخر یہ کس طرح کی تہذیب ہمارے ملک میں پنپ رہی ہے جہاں زبان کو مذہب سے جوڑا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ناگیندر

بنارس ہندو یونیورسٹی کے سنسکرت ودیا دھرم وگیان (ایس وی ڈی وی) ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر تقرر کیے گئے فیروز خان جے پور لوٹ گئے۔ ان کی مایوسی نجی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کہہ رہا ہے کہ ان کی تقرری واپس نہیں ہوئی ہے اور احتجاجی مظاہرہ وغیرہ ختم ہونے پر وہ لوٹ آئیں گے، لیکن یہ سوال تو بنا ہی رہتا ہے کہ ایسا ماحول بنارس ہی نہیں، پورے ملک میں کیوں بنا دیا گیا ہے۔ کیوں ہر جانب سے مذہبی شناخت کی بنیاد پر تفریق کی خبریں آئے دن آتی رہتی ہیں؟ اور پھر، اگر اس طرح کا واقعہ بنارس میں ہو تو سوچنا تو پڑے گا ہی، کیونکہ یہ تو وزیر اعظم کا انتخابی حلقہ ہے۔ نریندر مودی اب صرف بی جے پی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیڈر ہیں اور وہ پورے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کی ذمہ داری بھی کافی بڑی ہے۔ ان کے علاقے میں مایوس کرنے والا اس طرح کا واقعہ سرزد ہوا تو کیا انھیں اپنی ذمہ داری نہیں نبھانی چاہیے؟

کئی دن سے ایک سوال پریشان کر رہا ہے۔ ذہن اچانک پوچھنے لگا ہے کہ یہ نظیر اکبر آبای صاحب کون تھے جو دیوالی-ہولی پر بھی گیت لکھ ڈالتے تھے! کرشن-کنہیا کی بانسری کی آواز اور لیلائیں انھیں اتنی کیوں بھائیں کہ ان پر بھی گیت لکھ ڈالے۔ گیت بھی ایسے جنھیں ہم آج تک موقع بہ موقع طویل مدت سے گنگناتے آ رہے ہیں۔ بچوں تک کو سناتے، انھیں یاد کراتے آ رہے ہیں۔ لیکن ذہن نے اس طرح پوچھا کہ جاننا ضروری لگا۔ اچانک خیال آیا کہ ارے یہ نظیر اکبر آبادی تو مسلمان تھے۔

اب ہم سوچنے لگے کہ ہمارے بچپن میں ہی یہ ’گل نغمہ‘ جیسا بہترین رزمیہ لکھنے والا شخص فراق گورکھپوری آخر کون تھا؟ نام سے تو ’مسلم‘ ہی لگتا ہے کیونکہ ہر وقت کچھ نئی تخلیق کرنے کی ’فراق‘ میں رہتا تھا، لیکن ڈھونڈا تو پتہ چلا کہ یہ تو گرو گورکھ ناتھ کی زمین سے آنے والا کوئی ’رگھو پتی سہائے‘ تھا جو پتہ نہیں کب فراق بن گیا۔ یعنی یہ شخص تو ہندو نکلا۔ اور اگر ہندو نکلا تو اردو کا اتنا بڑا دانشور کیسے ہو سکتا ہے اور ’گل نغمہ‘ جیسی عظیم تصنیف کیسے پیش کر سکتا ہے۔ ’ہندی‘ میں جنم لینے والا یہ شخص ’اردو‘ میں لکھ کر ’ساہتیہ اکادمی‘ جیسے ایوارڈ پر بھی ’قبضہ‘ کر لیتا ہے، اورکوئی ہندو یا مسلم ’مائی کا لال‘ چوں تک نہیں کرتا۔ ایسی حرکت کے لیے اسے تو اسی وقت پہلو خان کی حالت تک پہنچا دیا جانا چاہیے تھا، اپنا مذہب ’تباہ‘ کرنے کے لیے۔ اسے تو صرف ’ہندی‘ اور ’سنسکرت‘ تک محدود رہ کر ’مذہبی پرچم‘ کی ٹھیکیداری کرنی چاہیے تھی، لیکن اس نے تو مذہب ہی نہیں، پتہ نہیں کیا کیا تباہ کیا ہوگا۔

لیکن پھر یاد آیا کہ یہ تو ’مذہبی پرچم‘ اٹھانے کی ٹھیکیداری کے بھی لائق نہیں تھا۔ ارے، یہ تو نہ اردو کے لائق تھا نہ ہندی کے لائق، کیونکہ یہ تو انگریزی کا پروفیسر تھا اور اتنا بڑا ’انگریز‘ کہ ’ہندی والوں‘ کو دور سے ہی دیکھ کر ’گلیانے‘ لگتا تھا۔ اب ہم پتہ کرنے جا رہے ہیں کہ آخر اس شخص کو 1970 میں ’ساہتیہ اکادمی‘ جیسا بڑا اور مشہور ایوارڈ دیا کس نے؟ کون سی طاقتیں رہی ہوں گی اس کے پیچھے؟

واقعی اب یہ سب تلاش کرنے، تاریخ کو کھنگالنے کا وقت آ گیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ایسی لاتعداد غلطیاں ٹھیک کی جائیں اور تاریخ کو ’پھر سے‘ لکھا جائے۔ کم از کم ہمارا ’حال‘ تو یہی پیغام دے رہا ہے۔ ہمیں یاد آ رہا ہے کئی دہائی پہلے والا ایک اشتہار... ’’پھینک دو یہ کڑاہی، یہ دیگچی، یہ سارے برتن اور لے جاؤ اپنا چمکتا ہوا نیا پریشر ککر...۔‘‘ تو کیا اب صحیح معنوں میں اس اشتہار کے جذبات کے ساتھ کھڑے ہو کر سب کچھ بدل دینے، پرانا سب کچھ پھینک کر ’نیا‘ اختیار کر لینے کا وقت آ گیا ہے۔

ہمیں یاد آ رہا ہے وہ سب کچھ جب ہم آبا و اجداد کی کمائی کے بچے کھچے پیتل، کسکُٹ، پھول جیسی چیزوں سے بنے بھاری بھرکم برتن فروخت کر آئے تھے اور اسٹیل کے چمکتے برتنوں سے گھر کو ’جگمگ‘ کر دیا تھا۔ وہ اسٹیل کے برتن تو کب کے کسی کونے میں گم ہو کر کباڑی کے لائق بھی نہیں بچے، لیکن آبا و اجداد کی اس وراثت کے بیچ سے غلطی سے بچا لیا گیا ایک بھاری بھرکم کٹورا اور لوٹا آج بھی اسی چمک سے گھر میں بنا ہوا ہے اور ہم ویسی ہی تھلیا، پرات، لوٹا، بٹوئی اور کڑاہی تلاشتے پھر رہے ہیں جو اب آسان نہیں ہے۔ بار بار لگ رہا ہے کہ کاش، وہ سب بچا لیا ہوتا۔ ہمیں یاد آ رہا ہے اور سمجھ میں بھی کہ وراثت پر سے اگر پکڑ ڈھیلی پڑ جائے تو وہ ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور لاکھ سر پیٹ لو، لوٹ کر نہیں آتی۔

آچاریہ فیروز خان، سنسکرت اور بی ایچ یو کے ضمن میں مذہب و تہذیب کی نگری کاشی کی زمین سے نکلے تازہ سچ پر بولتے ہوئے پتہ نہیں کیوں یہ سب ’غیر اہم‘ باتیں اس طرح ذہن میں آنے لگیں کہ نیند ختم ہو گئی اور نوٹ پیڈ پر یہ سب اترنے لگ گیا (ہاں، غیر اہم ہی تو ہے یہ سب!)۔ یاد ہی نہ رہا کہ اب یہ سب لکھنے تو کیا، سوچنے کا بھی دور شاید نہیں رہا! لیکن کیا واقعی؟ کیا واقعی ہمیں یہ سب لکھنا-سوچنا بند کر دینا چاہیے، جیسا کہ اکثر دکھایا جا رہا ہے۔

نظر آ رہا ہے کہ اسی بنارس کے مینا ساہ کی گلی والے استاد بسم اللہ خان کمر میں لال انگوچھا لپیٹے بینیا باغ، دال منڈی ہوتے ہوئے کسی سے ’رام رام‘، کسی سے ’جے رام جی‘ کی کرتے، بولتے-بتیاتے پنچ گنگا گھاٹ پر آئے ہیں اور گنگا کی دھارا میں ڈبکی لگا کر سورج کو نمسکار بھی کیا ہے۔ لوٹتے ہوئے وہ بالاجی مندر میں گئے ہیں اور وہاں بیٹھ کر بڑی دیر سے اپنی پسندیدہ شہنائی پر ریاض کر رہے ہیں۔ آس پاس لوگ جمع ہو گئے ہیں... ان میں وہ لوگ ہی زیادہ ہیں جو عقیدت میں ڈوبے ہمیشہ کی طرح گنگا اسنان کرنے آئے ہیں اور سوریہ کو اَرگھ دینے کے بعد عادتاً بسم اللہ خان کی شہنائی کی سازوں میں مدہوش ہو گئے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے پورا برج کرشن کی بانسری کی ساز میں ڈوب جاتا تھا اور اسی بانسری کی ساز جب کسی مسلم فنکار کی بانسری سے نکلتی ہے تب بھی سب کی زبان سے ویسی ہی ’واہ‘ نکلتی ہے۔

تو کیا اب ہمیں بانسری اور شہنائی کی سازوں کو سننے سے پہلے ساز چھیڑنے والے کا مذہب بھی دیکھ لینا ہوگا! یہ بہت بڑا سوال ہے۔ یہ بڑا سوال بھارتیندو پرساد، پریم چند، نذیر بنارسی اور استاد بسم اللہ خان کی زمین سے نکلا ہے۔ اس نے یہ سوال بھی ہمارے سامنے چھوڑا ہے کہ کیا ہم اپنی ان علامتوں کو بھول گئے ہیں اور یہ بھی کہ کیا ہم نے ان سے سبق لینا، سیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ویسے ضمناً بتا دیں کہ یہ اسی بنارس کی ’نئی ہوا‘ ہے جہاں کے عالمی شہرت یافتہ سنکٹ موچن مندر کے سالانہ سنگیت اُتسو میں استاد بسم اللہ خان اگر شہنائی بجاتے رہے تو استاد امجد علی خان کے ساتھ امان اور ایان کا سرود بھی گونجا ہے، ذاکر حسین کا طبلہ بھی اور نظامی برادران کی قوالی بھی۔

ایسے میں اپنے بنارس سے بس ایک سوال کہ کہیں ہم اپنی اس مشترکہ تہذیب کو تو ختم کرنے نہیں بیٹھ گئے جس کی ہم مثال دیتے رہے ہیں۔ اور اس مثال میں ہم استاد بڑے غلام علی خاں کا ’ہری اوم تتست...‘ اور پنڈت جسراج کا ’میرو اللہ مہربان...‘ بھی یاد کرتے ہیں اور یہ بھی بتانے سے نہیں جھجکتے کہ بابا علاء الدین خان کود میہر دیوی کے ماننے والے تھے اور ان کی بیٹی کا نام اَن پورنا تھا۔