ایس آئی آر کی کھلبلی: خوف، بے بسی اور سیاسی بیانیوں کا سایہ...نندلال شرما
ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا نظر آتا ہے، ایک طرف ایس آئی آر کی دوڑ دھوپ، دوسری طرف یوگی–شاہ جیسے لیڈروں کے بیانات کا خوف، ایسے میں مسلمان کہاں جائیں اور کس سے اپنی بے چینی کا مداوا کرائیں؟

ان دنوں اگر آپ مظفرنگر کے کسی بھی دیہی علاقے میں چلے جائیں، تو آپ کو لوگ بی ایل او کے بارے میں پوچھتے یا انہیں گھیرے کھڑے نظر آئیں گے۔ ہر شخص کی کوشش یہی ہے کہ ایس آئی آر (خصوصی گہری نظرثانی) میں اس کا نام کہیں چھوٹ نہ جائے۔ اسے خواہ مخواہ کا جوش نہ سمجھا جائے، یہ معاملہ لوگوں کے لیے زندگی اور موت جیسا بن چکا ہے۔ تھوڑا آگے بڑھ کر دیکھیں، تو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کیوں۔
بڑے شہروں میں لوگوں کے پاس کئی طرح کے شناختی کارڈ ہوتے ہیں مگر مظفرنگر جیسے شہر تک پہنچیں تو فوراً اندازہ ہوتا ہے کہ نچلے اور نچلے درمیانی طبقے کے خاندان ایس آئی آر کو لے کر کس قدر مشکل میں ہیں۔ ہم جب وارڈ نمبر 50 کے رکنِ بلدیہ نوشاد خان کے کمرے میں پہنچے، تو وہاں بیٹھے ہر مرد و عورت کے چہرے پر فکر کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ وہاں غزالہ بھی موجود تھیں، جو اگرچہ آنگن واڑی کارکن ہیں مگر ان دنوں بی ایل او کی ذمہ داری بھی نبھا رہی ہیں۔ وہ عمر رسیدہ خاتون ہیں۔ ان کے ہاتھ میں فارموں کا ایک موٹا گٹھر تھا اور وہ برقع پوش خواتین کی تفصیلات درج کر رہی تھیں۔
کئی خواتین کی شکایت تھی کہ وہ دیر سے انتظار کر رہی ہیں مگر غزالہ اب تک ان کا فارم نہیں بھر رہیں۔ کچھ عورتیں اس بات کی تصدیق بھی چاہتی تھیں کہ کیا ایس آئی آر والے فارم میں خواتین کی تصویر میں کان دکھائی دینا ضروری ہے؟ اگر نقاب یا حجاب سے کان چھپے ہوں، تو کیا فارم مسترد ہو جائے گا؟ وہاں موجود ایک شخص نے تو مجھ سے بھی کہا کہ اس کی بیوی کی تصویر حجاب میں ہے اور بار بار یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں فارم رد نہ ہو جائے۔
انتظار نامی رہائشی بتاتے ہیں کہ ’’مظفرنگر صدر اسمبلی حلقے کے مہاویر چوک سے کچھ ہی فاصلے پر واقع کھالاپار کے ایک علاقے قصابان میں 2002–03 سے چھ سات سو افراد کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں ہے۔ ہر انتخاب کے وقت لوگ یہی شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارا نام لسٹ میں نہیں۔ ووٹ بنانے کی کارروائی شروع تو ہوتی ہے مگر نتیجہ وہی نکلتا ہے، نام شامل نہیں ہوتا۔ اس مسئلے کا آج تک کوئی حل نہیں ہوا۔ معلوم نہیں اس مرتبہ بھی ہوگا یا نہیں۔‘‘
مظفرنگر کے ہی عارف نے بتایا کہ سب سے زیادہ شکایت یہ ہے کہ لوگوں کو فارم مل نہیں رہے اور بی ایل او فون نہیں اٹھاتے۔ پھر خود ہی کہتے ہیں، ’’بی ایل او فون اٹھائے بھی تو کیسے؟ اس کے فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہتی ہے۔‘‘ دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ فارم بھرا کیسے جائے؟ فارم میں چار الگ خانوں میں معلومات طلب کی گئی ہیں—2003 سے پہلے کے ووٹر، 2003 کے بعد کے ووٹر، 1987 سے پہلے کے ووٹر، الغرض اتنے خانوں نے عوام کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے۔
اس پیچیدگی کی کئی عملی وجوہات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی اسکول میں اگر ووٹنگ سینٹر بنایا گیا ہے اور وہاں چار بوتھ قائم ہیں، تو ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد مختلف بوتھوں میں درج ہو سکتے ہیں۔ سینٹر ایک ہے مگر بوتھ الگ ہیں، اس لیے بی ایل او بھی مختلف۔ نتیجہ یہ کہ ایک گھر میں پانچ افراد ہوں، تو ممکن ہے صرف تین کے فارم پہنچے ہوں۔ ایک ہی پتے پر تین تین بی ایل او کا پہنچنا عام بات ہو گئی ہے۔
پھر ووٹر لسٹ میں نام ہمیشہ ترتیب وار درج نہیں ہوتے، کسی کا نام نمبر 88 پر ہے، دوسرے کا 105 پر، تیسرے کا 107 پر۔ بعض اوقات ووٹر لسٹ میں ایک ہی مکان نمبر کے تحت کئی لوگ درج ہوتے ہیں مگر اصل میں اس نمبر پر رہنے والے افراد حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ اندراج کہاں سے ہو گیا۔
2003 کے مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی میں بھی لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں حلقہ بندی بدل چکی ہے۔ ٹیکنالوجی سے واقف لوگ بھی کئی بار ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں۔ پچھلے 20–22 برسوں میں بہت سے لوگوں کے ای پی آئی سی نمبر بھی الیکشن کمیشن نے تبدیل کیے ہیں۔ پہلے کچھ جگہوں پر نمبر ’یو پی‘ سے شروع ہوتے تھے، اب ’ایکس پی‘ یا دیگر کوڈ سے شروع ہوتے ہیں۔ ایسے میں اپنے یا والدین کے ای پی آئی سی نمبر تلاش کرنا خود ایک محاذ بن چکا ہے۔
جڑودا گاؤں سے مظفرنگر محنت مزدوری کرنے آنے والے تنظیم بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے نام کی اسپیلنگ یا کوئی دیگر تفصیل درست کرائی، تو ان کا پورا ای پی آئی سی نمبر بدل گیا۔ 2003 کی ووٹر لسٹ میں نام الگ اسپیلنگ سے درج ہے اور 2025 کی فہرست میں سی اور سے۔
سماج وادی پارٹی سے وابستہ شارق خان کے دو نام ان کی پریشانی کا سبب بن گئے ہیں۔ دراصل، بہت سے افراد کے دو نام ہوتے ہیں، جیسے شارق کو لوگ پیار سے ’سونو‘ کہتے ہیں۔ اب 2003 میں ووٹر لسٹ میں نام ’سونو‘ درج ہو گیا، بعد میں سارے شناختی کارڈ ’شارق‘ کے نام سے بنے۔ اب کیسے ثابت کیا جائے کہ سونو ہی شارق ہے؟ وقت بدلا ہے اور لوگ بھی زیادہ محتاط ہیں، مگر پرانے دستاویزات کی ضرورت آج بھی وہی ہے۔
ان ہی حالات کی وجہ سے بی ایل او اور پرائمری اسکول کے استاد گوپال شرما بتاتے ہیں کہ 2003 کی ووٹر لسٹ سے ’پارٹ نمبر‘ اور ’سیریل نمبر‘ تلاش کرتے ہوئے لوگ غلطیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف فارم بھرنے کا نہیں، فارم کے لیے مطلوبہ معلومات تلاش کرنے کا بھی ہے۔
کھتولی میں جی ٹی روڈ کے قریب لال محمد محلے میں بیٹھے انتظار نے شکوہ کیا کہ بہت سے فارم غلط نکل رہے ہیں، کہیں نام غلط، کہیں پتا غلط، کہیں آدھار کے مطابق معلومات کچھ اور ہے مگر فارم میں کچھ اور لکھا ہوا ہے۔ ایسی غلطیوں کے سبب کئی فارم مسترد ہو رہے ہیں۔
بی ایل اوز کی بھی اپنی پریشانیاں ہیں۔ شہروں میں تو آر ڈبلیو اے جیسے گروہ موجود ہیں، جہاں بی ایل او ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام نمٹا لیتے ہیں لیکن گاؤں، محلوں اور چھوٹے شہروں میں انہیں ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور کم از کم دو بار۔ اگر کسی گھر کا فرد نہ ملا اور فارم ساتھ لے گیا، تو بی ایل او کو دوبارہ جانا ہی پڑتا ہے۔ اس دوران انہیں ہر طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید یہ کہ ان سب کے باوجود انہیں حکومتی نوکری میں بھی اپنی معمول کی ڈیوٹی نبھانی ہوتی ہے۔ پہلے ووٹر لسٹ کی نظرثانی کئی ہفتوں پر محیط رہتی تھی، اب وقت کم ہے، اس لیے بی ایل او صبح آٹھ بجے سے رات دس بجے تک کام کر رہے ہیں۔
عام طور پر بی ایل او اسی علاقے کا ہوتا ہے، اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گا۔ لال محمد محلے کے 70 سالہ محمد اقبال نے بھی شکوہ کیا کہ وہ آٹھ دن سے فارم ہاتھ میں لیے پھر رہے ہیں مگر جمع نہیں ہو پا رہا لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں، ’’بی ایل او برا آدمی نہیں۔ اس کے پاس بھیڑ بہت ہے، کام بہت زیادہ ہے۔‘‘
اسی مہم میں کچھ رضاکار بھی لگے ہیں۔ جیسے میونسپل چیئرمین کی ہدایت پر 12ویں پاس شمشاد انصاری بی ایل او کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ وارڈ 17 اور وارڈ 60 میں دو سو سے زائد فارم بھروا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کا ہے۔ ایسا فارم پہلی بار بھروایا جا رہا ہے۔ شمساد کہتے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں—جن کا نام 2003 میں نہیں ہے، ان کا 2024 میں ہوگا؛ والدین کا ہوگا؛ خاندان میں کسی نہ کسی کا ضرور ہوگا۔ نام صرف مردہ، ڈپلیکیٹ یا مستقل طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے کٹیں گے۔
جی ٹی روڈ پر ملے آتابھ کمار کہتے ہیں کہ مسلمان بڑے خوف کے عالم میں ایس آئی آر کی دوڑ میں لگے ہیں، جیسے وہ کچھ کھو بیٹھے ہوں یا کچھ کھو دینے کا اندیشہ ہو۔ لوگ سارا دن بھٹک رہے ہیں، بی ایل او کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسلمانوں کو سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو جائے گا۔
ان کے خدشات کی ایک وجہ وہ ویڈیو بھی ہے جو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے منسوب ہے، جس میں وہ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’ایس آئی آر کے بعد تیار ہونے والی ووٹر لسٹ میں جن کے نام نہیں ہوں گے، انہیں مشکوک مان کر ڈٹیکشن سینٹر بھیجا جائے گا اور پھر ملک بدر کر دیا جائے گا۔‘‘ یہ ویڈیو حقیقی ہے یا جعلی—اس بارے میں کسی کو یقین نہیں مگر یہ تقریباً ہر موبائل میں موجود ہے۔
یہی نہیں، کئی اخبارات نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے نام سے یہ خبر بھی شائع کی ہے کہ انہوں نے اضلاع انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ مشکوک غیر ملکیوں کو ڈٹینشن سینٹر میں رکھنے کی تیاری کریں۔ کچھ اخبارات نے تو ان مراکز کے نقشے بھی شائع کر دیے ہیں۔
ان بیانات کے سبب بی جے پی کارکنوں میں بھی ایک سیاسی جوش نظر آتا ہے۔ کھتولی کے لال محمد محلے میں ملے بی جے پی کے نائب صدر بھرتیش شرما نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے پیغام ہے کہ سب کا ایس آئی آر جلد سے جلد کرایا جائے۔ ان کے مطابق صوبہ بڑا ہے، کم از کم ایک کروڑ ووٹ تو کٹیں گے۔
دوسری طرف بھارتیہ کسان یونین کے شہر صدر رضوان قریشی الزام لگاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے نام آ ہی نہیں رہے، ووٹ کاٹے جا رہے ہیں اور حکومت کا مقصد ووٹ کے بنیادی حق کو محدود کرنا ہے۔
لیکن عارف کا ماننا ہے کہ گھبراہٹ جائز ضرور ہے مگر ایسے بیانات صرف سیاسی فائدے کے لیے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی شہریت اور ملک میں ان کی موجودگی پر کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔
وہیں، نوشاد خان کا کہنا ہے کہ ہندو ہو یا مسلمان مردہ، ڈپلیکیٹ یا مستقل نقل مکانی کرنے والے 5 سے 10 فیصد نام تو کٹتے ہی ہیں۔ یہ فطری عمل ہے۔ اور الیکشن کمیشن کی یہ بات بھی درست ہے کہ جن کے نام کٹیں گے، انہیں نوٹس بھیجا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔