بیماری پھیلاتے نل اور سچائی چھپاتی حکومت... رشمی سہگل
رپورٹ کے مطابق ہندوستان عالمی آبی وسائل کے محض 4 فیصد حصہ کے ساتھ دنیا کی تقریباً 18 فیصد آبادی کو خوراک دستیاب کراتا ہے۔ ہندوستان کی ندیاں، جو آج بھی پینے کے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، بری طرح آلودہ ہیں

کہتے ہیں کہ پانی ہی زندگی ہے۔ لیکن ان دنوں ہندوستان میں پانی ہی موت اور بیماری کا سبب بنا ہوا ہے۔ سیوریج کی گندگی اس کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے گھروں تک آنے والے پینے کے پانی کو محفوظ رکھنے کی ضرورت جس تیزی سے بڑھی ہے، اسی تیزی کے ساتھ ایسا کرنا مشکل بھی ہوتا جا رہا ہے۔ کئی شہروں سے خبریں آ رہی ہیں کہ خطرناک طریقے سے بچھائی گئی اور نہایت قریب سے گزرنے والی سیوریج لائنوں سے ہونے والے رساؤ کے باعث پینے کے پانی کی پائپ لائنیں مسلسل آلودہ ہو رہی ہیں۔ اس کی اصل وجہ 40 سے 50 سال پرانی، زنگ آلود پائپوں کو تو مانا جا رہا ہے، لیکن حل کے لیے کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا۔
جنوری 2026 کے پہلے 15 دنوں میں ہی آبی امراض کے کئی معاملات دیکھنے میں آئے۔ گجرات کی راجدھانی گاندھی نگر میں جنوری کے آغاز میں ہی 150 سے زیادہ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ہندوستان کا ٹیکنالوجی ہب کہلانے والے بنگلورو کے لنگراج پورم میں 4 جنوری کو 30 خاندانوں میں دست اور پیٹ کے انفیکشن کی شکایت درج کی گئی۔ 7 جنوری کو گریٹر نوئیڈا میں لوگوں کے آلودہ پانی پینے کے بعد بیمار پڑنے کی خبر آئی۔ یہ واقعات اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گئے کہ یہ سب اندور میں پھیلے قہر کے فوراً بعد ہوا، جسے ہندوستان کا ’بہترین، صاف اور اسمارٹ‘ شہر مانا جاتا ہے، جہاں 31 دسمبر 2025 تک 3,200 لوگ بیمار پڑ چکے تھے۔ دست کے باعث بھاگیرتھ پورہ میں 17 لوگوں کی موت بھی ہوئی اور 200 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
8 جنوری کو ’ڈاؤن ٹو ارتھ‘ نے خبر دی کہ پٹنہ کی کنکڑ باغ ہاؤسنگ کالونی کے لوگ بھی ایسے ہی قہر کا شکار ہوتے ہوتے بچے، جب بیشتر گھروں میں نلکوں سے بدبودار پیلا پانی آنے لگا۔ شکایات کے باوجود میونسپل کارپوریشن نے عارضی طور پر ہی مرمت کرا کے جان چھڑانا مناسب سمجھا۔ رائے پور کے کچنا ہاؤسنگ بورڈ علاقہ میں رہنے والے 100 لوگ بیمار پڑ گئے۔ رانچی میں حکام نے پینے کے پانی کی 300 سے زیادہ خراب پائپ لائنوں کی نشاندہی کی۔ گروگرام میں دسمبر 2025 میں سیکٹر 70-اے کے 70-60 لوگ آلودہ پانی کے باعث بیمار پڑ گئے، جن میں سے کم از کم 10 کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔
پانی سے مالا مال اڈیشہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017 سے 2022 کے درمیان اڈیشہ میں 42.24 لاکھ لوگ شدید دست سے اور 4.63 لاکھ لوگ ٹائیفائیڈ سے بیمار پڑے، اور یہ سب آلودہ پانی کے باعث ہوا۔ پوری، کٹک، ڈھینکنال اور جاجپور سمیت اڈیشہ کے کئی مقامات سے ہیضہ کے پھیلاؤ کی خبریں آئیں۔
یہ سب انتظامی ناکامی اور ایک قریب آتے قومی ہنگامی حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 2018 میں نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ہندوستان اپنی تاریخ کے سب سے شدید آبی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ حیران کن طور پر 6 کروڑ ہندوستانی شدید آبی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے اور آبی امراض کے باعث ہر سال 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔
پانی کے ذرائع تیزی سے گھٹ رہے ہیں، حالات اور بھی خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان عالمی آبی وسائل کے محض 4 فیصد حصے کے ساتھ دنیا کی تقریباً 18 فیصد آبادی کو خوراک فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان کی ندیاں، جو آج بھی ہمارے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں، بری طرح آلودہ ہو چکی ہیں۔ اگست 2024 میں مرکزی آبی کمیشن کے ایک مطالعہ سے پتہ چلا کہ 81 ندیوں اور ان کی معاون ندیوں میں آرسینک، کیڈمیم، تانبا، لوہا، سیسہ، پارہ اور نکل سمیت ایک یا ایک سے زیادہ زہریلی بھاری دھاتوں کی مقدار یا تو بہت کم یا حد سے زیادہ پائی گئی۔
پلّا میں جمنا سے لیے گئے نمونوں میں پارے کی سطح مقررہ حد سے 9 گنا زیادہ پائی گئی۔ جل شکتی وزارت کے مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) کے چیئرمین کشویندر ووہرا نے اعتراف کیا کہ مقررہ حد سے زیادہ مقدار میں بھاری دھاتوں کی موجودگی، ان کی غیر بایو ڈیگریڈیبل فطرت کے باعث، نباتات اور حیوانات کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔
گنگا ندی میں آرسینک، سیسہ، لوہا اور تانبا جیسی 4 بھاری دھاتوں کی آلودگی پائی گئی۔ اس معاملہ میں تاپی بیسن کے جنوب میں مغرب کی طرف بہنے والی ندیاں دوسرے نمبر پر رہیں، جہاں 64 فیصد (یعنی 36 نگرانی مراکز میں سے 23) میں دھاتوں کی حد سے زیادہ مقدار پائی گئی۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ زیر زمین پانی کا استعمال واٹر ریچارج کے تناسب سے کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی بڑی ریاستوں میں زیر زمین پانی کا استعمال حد سے بڑھ گیا ہے اور آبی سطح میں کمی آئی ہے۔ ماہرین پانی کے ذخیرے میں اضافہ اور مصنوعی ریچارج کے لیے ’جل شکتی ابھیان‘ کے قومی آبی ذخائر کی نقشہ بندی اور انتظامی پروگرام کو وسعت دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بارش کے پانی کو یوں ہی بہہ کر ضائع ہونے سے روکنے کے لیے، ہیومن رچنا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹڈیز کے آبی ارضیات کے ماہرین نے پانی کے ذخیرے میں اضافے کے لیے چھتوں پر روایتی بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے طریقوں میں بہتری کی ہے۔ فرید آباد میں قومی شاہراہ 19 کے کنارے 4 مقامات پر کیے گئے اس تجربے میں، بارش کے پانی کو مٹی سے رِس کر جمع ہونے اور شہر کے زیر زمین پانی کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کو یقینی بنانے کے لیے 4 مرحلوں پر مشتمل چھاننے (فلٹریشن) کا طریقہ اپنایا گیا۔
انٹیک (آئی این ٹی اے سی) نے وارانسی کے اسّی گھاٹ پر گنگا میں ملنے والی اسّی ندی پر ایک اور تجربہ کیا۔ گنگا کی ’صفائی‘ کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی قومی ندی میں آج بھی ہر دن ایک ارب گیلن سے زیادہ کچا فضلہ اور صنعتی کچرا بہایا جا رہا ہے۔ انٹیک کے قدرتی وراثت شعبہ کے پرنسپل ڈائریکٹر منو بھٹناگر یاد کرتے ہیں کہ ’’ہمارے کیریئر کی شروعات ہی 2010 میں چانکیہ پوری کے کشک نالے، 2012 میں دوارکا کے پالم نالے اور تاج محل کے مشرقی دروازے سے گزرنے والے بدبودار نالے کی صفائی کرتے ہوئے ہوئی تھی۔‘‘ انٹیک کی حکمت عملی نہایت سادہ تھی۔ ندی کے کنارے 100 لیٹر مفید بیکٹیریا کا محلول ڈالا گیا۔ بیکٹیریا نے نامیاتی فضلے کو تحلیل کرنے میں مدد کی، تحلیل شدہ آکسیجن کی سطح بڑھائی اور بدبو کو خاصی حد تک کم کیا۔ بھٹناگر کہتے ہیں کہ ’’ان بیکٹیریا کا استعمال سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) میں کیا جاتا ہے، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ انہیں کسی بہتی ندی کی صفائی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔‘‘ جو نتائج سامنے آئے وہ مثبت رہے۔ 2 مہینوں کے اندر آلودگی کی سطح 60 سے 70 فیصد تک کم ہو گئی اور بدبو بھی خاصی گھٹ گئی، جس کی تصدیق وارانسی کے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ اور آزاد تجربہ گاہوں نے بھی کی۔
بھٹناگر بتاتے ہیں کہ ’’وارانسی میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) لگانے پر 75 کروڑ روپے سے زیادہ کی متوقع لاگت آئے گی اور یہ تب ہی شروع ہو سکیں گے جب زمین کا حصول ہو جائے، سب کو معاوضہ دے دیا جائے، پلانٹس لگانے کے ساتھ ساتھ تمام گھروں کو سیوریج پائپ سے جوڑ دیا جائے۔ اس کے برعکس، تمام 33 نالوں کی حیاتیاتی بحالی پر ہر سال تقریباً 3 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔‘‘ اس کے باوجود اس سادہ اور سستے حل میں نہ تو مرکزی حکومت کی کوئی خاص دلچسپی نظر آتی ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت کی۔
ہندوستان کے ’جل پرش‘ کہلانے والے راجندر سنگھ کہتے ہیں ’’ہماری ندیاں آئی سی یو میں ہیں۔ ہمارا زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ نہ مرکزی حکومت اور نہ ہی ریاستی حکومت کے پاس اب تک اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی طویل مدتی منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔‘‘ ان کی نظر میں یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ ہندوستان، جس کے پاس ایک ہی سکہ کے 2 رخ کہے جانے والے خشک سالی اور سیلاب کے انتظام میں 2,500 برس کی مہارت ہے، آج دنیا کے سب سے زیادہ آبی بحران والے ممالک میں شامل ہے۔ ایک ایسی حکومت جو قدیم ہندوستانی علمی نظاموں کی قسمیں کھانے کا دکھاوا کرنے میں پیچھے نہیں رہتی، اس نے روایتی علمی نظاموں کو پوری طرح نظرانداز کر دیا ہے۔
راجندر سنگھ کہتے ہیں کہ جو حکومت قدیم ہندوستانی علمی نظاموں کی قسمیں کھانے کا دکھاوا کرنے میں کبھی اور کہیں بھی پیچھے نہیں رہتی، اس نے خشک سالی سے نمٹنے کے روایتی، برادری پر مبنی اور وقت کی کسوٹی پر پرکھے ہوئے طریقوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انہی آبی نظاموں کو دوبارہ زندہ کرنے میں ہی آبی سطح میں اضافہ اور صاف پینے کے پانی کی روزانہ دستیابی کو یقینی بنانے کی کنجی ہے۔ لیکن کیا کوئی ہے، جو ان کی بات سن رہا ہو؟
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔