حرمین شریفین میں تراویح کے ایمان افروز مناظر... ثناء اللہ صادق تیمی

حکومت سعودی عرب حرمین شریفین پر خصوصی توجہ صرف کرتی ہے۔ یہاں کے حکمراں اپنے لیے خادم حرمین شریفین کا لقب اختیار کرتے ہيں اور ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ زائرین کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

ثناء اللہ صادق تیمی

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تقدس دنیا کے تمام مسلمانوں کی نظر میں مسلم ہے۔ مکہ مکرمہ میں ان کا قبلہ ہے اور مدینہ منور ہ میں مسجد نبوی ہے اور وہیں اللہ کے آخری نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں۔ مسجد حرام مکہ مکرمہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر اور مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے۔ پوری دنیا سے مسلمان مکہ مکرمہ حج ادا کرنے آتے ہیں جو اسلام کا پانچواں رکن ہے اور اس مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو یہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ مسلمان محبت کی پوری شدت اور عقیدت کی گہرائی کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کرتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے، یہیں غار حراء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی بار وحی نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ گئے اور وہيں آپ نے ایک شاندار اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، اسلامی تہذب کے اصول متعین کیے، ایک انتہائی درجے میں مثالی معاشرہ قائم کیا اور وہيں فوت بھی ہوئے۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کی ان دونوں شہروں سے گہری عقیدت وابستہ ہے۔ وہ یہاں آنے کا خواب دیکھتے ہیں، دعائيں کرتے ہیں اور یہاں پہنچنے کو اپنی خوش نصيبی سمجھتے ہیں۔ شعراء شاعری کرتے ہیں، ادباء تحریریں رقم کرتے ہيں اور خوش بیان لوگ اپنی خوش بیانی کے جادو جگاتے ہیں۔

دکھا دے یا الہی وہ مدینہ کیسی بستی ہے

جہاں پر را ت دن مولی تیری رحمت برستی ہے


سچی بات بھی یہی ہے کہ جب نگاہیں خانہ کعبہ کا دیدار کرتی ہیں اور مسلمان مسجد نبوی کو دیکھتا ہے تو وہ ایک الگ ہی احساس تلے ہوتا ہے، جیسے بس وہ ہے، حرمین شریفین کی پاکیزگی اور روحانیت ہے اور دنیا جیسے کہیں ہے ہی نہیں۔

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر

کیا چیز ہے دنیا بھول گیا

حکومت سعودی عرب حرمین شریفین پر خصوصی توجہ صرف کرتی ہے۔ یہاں کے حکمراں اپنے لیے خادم حرمین شریفین کا لقب اختیار کرتے ہيں اور ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ حرمین اور ان کے زائرین کو ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں اور انہیں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ اس معاملے میں بطور خاص مملکت سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے حرمین کی زبردست توسیع کی ہے، پورے نظام کو بہت اچھے اندازمیں منظم کیا ہے اور حج و عمرے کے فريضے کو امن و امان کے ساتھ آسانی و سہولت سے بھر دیا ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان آتے ہيں اور عمرہ و حج کے فرائض ادا کر کے خوش و خرم واپس جاتے ہیں۔


مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں روحانیت کی صبا چلتی ہے، یہاں آنکھوں سے توبہ کے آنسو بہتے ہیں، دلوں میں حق پر چلنے کا ایک عزم بیدار ہوتا ہے، ماضی کے گناہوں کو آہ و گریہ زاری کے تسلسل اور شدت سے دھونے کی کوشش کی جاتی ہے اور پورے سال یہاں روحانیت و پرہیزگاری کی ایک خاص چادر سی تنی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہ کیفیت مزيد گہرا جاتی ہے۔ مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور اس مہینے میں عمرہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس مہینے میں عمرہ کرنے کی خاص فضلیت ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے جیسا ہے۔ مسلمان تمام اطراف عالم سے بھاری تعداد میں عمرہ کے لیے آتے ہیں اور پر امن ماحول میں آسانیوں کے ساتھ عمرہ ادا کر کے حکومت سعودی عرب کی کامیاب انتظامی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔


ماہ رمضان میں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ مسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل و ہدایت کی پیروی کرتے ہوئے تراویح کی نماز بھی ادا کرتے ہیں۔ حرمین شریفین میں تراویح کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ رمضان سے قبل ہی ائمہ کا لائحہ تیار ہو جاتا ہے۔ بھیڑ کی تنظیم کے لیے خصوصی تیاری کی جاتی ہے، سیکورٹی کے اہلکار بڑھا دیے جاتے ہیں، آمد و رفت کے لیے بسوں کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ حرمین کے زائرین کامل خشوع و خصوع کے ساتھ تراویح کی سنت ادا کر سکیں۔

واضح رہے کہ دنیا کا سب سے بڑا دسترخوان بھی حرمین شریفین میں ہی لگتا ہے۔ افطار کا ایسا انتظام کہیں اور دیکھنے کو نہیں مل سکتا۔ 10 سے 15 منٹ کے اندر ہزاروں کی تعداد میں تعینات عملہ دسترخوان بچھاتے ہیں، سامان افطار بانٹتے ہیں، روزے دار افطار سے فارغ ہوتے ہیں اور منٹوں کے اندر دسترخوان اٹھا لیا جاتا ہے اور مغرب کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ ایک عجیب و غریب روحانی ماحول ہوتا ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔


حرمین شریفین میں ان ائمہ کو امامت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے جو قواعد و ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں۔ حرمین اور ان کے احاطوں میں جب قرآن کریم کی آیتيں ان کی شیریں آواز میں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو دل کی دنیا میں کیا کیا کیفیت گزر جاتی ہے۔

مسجد حرام میں اس مرتبہ رمضان سنہ 1447 ہجری میں شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس، شیخ ڈاکٹر یاسر الدوسری، شیخ ڈاکٹر ماہر المعقیلی، شیخ ڈاکٹر عبداللہ الجہنی، شیخ ڈاکٹر ولید شمسان، شیخ ڈاکٹر بدر الترکی اور شیخ ڈاکٹر بندر بلیلہ تراویح کی نماز پڑھا رہے ہیں، جب کہ مسجد نبوی میں شیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان، شیخ ڈاکٹر عبدالمحسن القاسم، شیخ ڈاکٹر خالد المھنا، شیخ ڈاکٹر عبداللہ القرافی، شیخ ڈاکٹر محمد برہجی، شیخ ڈاکٹر صلاح البدیر اور شیخ ڈاکٹر احمد حذیفی تراویح کی نماز میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح حرمین شریفین میں قرآن کریم کی تلاوتوں کی ایمانی خوشبو پھیل رہی ہے۔ ائمہ کرام کی شیریں آواز، اللہ کے کلام کی ہیبت اور مقام کے تقدس سے ایک خاص فضا بنتی ہے اور جب ائمہ ترغیب و ترہیب کی آیتوں سے گزرتے ہوئے بے ساختہ رونے لگتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ حرمین شریفین کے تراویح کے یہ حسیں مناظر ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ کا باعث ہوتے ہیں۔

(مضمون نگار ثناء اللہ صادق تیمی، مکہ مکرمہ کے حرم مکی میں ادارۃ الترجمہ سے منسلک ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔