یوگی نے ضلع مجسٹریٹوں کو چرواہا بنا دیا

شہروں کے مصروف علاقوں تک میں آوارہ گائے اور سانڈ مصیبت بن کر گھوم رہے ہیں جبکہ گاؤوں میں وہ کسانوں کے سب سے بڑے دشمن بن کر سامنے آئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

عبیداللہ ناصر

شراب دنیا کے ہر مذھب میں ناجائز سمجھی جاتی ہے جس میں ہندو مذھب بھی شامل ہے۔ لیکن سنگھ پریوار نے جو ہندو مذہب کا نیا ورژن پیش کیا ہے اس میں اپنی مقصد برآری کے لئے ہر چیز کو جائز قرار دے دیا ہے۔ اسی فارمولہ کے تحت اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے گایوں کے تحفظ، ان کے رکھ رکھاؤ اور گئو شالوں کے اخراجات اٹھانے کے لئے شراب کی فروخت پر خصوصی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹول ٹیکس میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے ضلع مجسٹریٹوں کو گائے ہانکنے پر بھی مامور کر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ سڑکوں پر آوارہ گائیں دکھائی دیں تو اس کی ذمہ داری ضلع مجسٹریٹوں کی ہوگی۔ انگریزوں کے زمانہ کے آئی سی ایس افسروں کو تو چھوڑیے، آزاد ہندوستان کے آئی اے ایس افسروں کو بھی شاید ہی اس سے پہلے ایسی شاندار ڈیوٹی ملی ہو۔ جس بیوروکریسی کو اسٹیل فریم کہا جاتا ہے اور جس کو سیاسی اثرات سے بلند ہو کر محض آئین ہند کے مطابق کام کرنے اور اپنا فرض منصبی ادا کرنے کا اختیار ہے، اسے یوگی جی چرواہا بنا رہے ہیں۔ یہ شرم اور غیرت ہی نہیں بلکہ عبرت کا مقام ہے۔

در اصل اتر پردیش میں یوگی جی کی حکومت بننے کے بعد سے گائے کو ایک نیا مقام تو حاصل ہو گیا، لیکن وہ عام آدمیوں اور کسانوں کے لئے ایک مصیبت بن گئی۔ شہروں کے مصروف علاقوں تک میں آوارہ گائے اور سانڈ مصیبت بن کر گھوم رہے ہیں جبکہ گاؤوں میں وہ کسانوں کے سب سے بڑے دشمن بن کر سامنے آئے ہیں۔ حالات یہاں تک خراب ہو چکے ہیں کہ کسان ان آوارہ گایوں اور سانڈوں کو ٹرک میں بھر کر سرکاری عمارتوں، اسکولوں اور اسپتالوں میں چھوڑ رہے ہیں۔ آوارہ جانوروں کے گروہ جن کھیتوں کی طرف نکل جاتے ہیں وہاں دیکھتے ہی دیکھتےکئی ایکڑ میں لہلہاتی فصل کھا کر اور اپنے پیروں سے روند کر برباد کر دیتے ہیں۔ ان میں اکثر سانڈ بہت جارح بھی ہو چکے ہیں اور اپنے کھیتوں سے انھیں باہر کرنے گئے کسانوں پر حملہ کر کے زخمی بھی کر دیتے ہیں۔ اس سردی میں کسان پریم چند کے مشہور افسانہ ’پوس کی رات‘ کا ہلکو کسان بنا ہوا ہے۔ یوگی جی کو احساس تو ہو رہا ہے کہ ان کا یہ ’گائے پریم‘ انھیں سیاسی طور سے منہگا پڑ رہا ہے لیکن اس سے بچنے کے لئے انھوں نے نئے ٹیکس لگانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے مزید سیاسی نقصان کا احتمال ہے۔ مثلاً ایکسپریس وے پر ویسے ہی ٹول ٹیکس بہت زیادہ ہے، اس میں مزید اضافہ عوام کو بوجھ محسوس ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نماز بخشوانے کے چکر میں روزے گلے پڑ جائیں۔

دراصل عقیدہ کے نام پر گائے کے سلسلہ میں حکومت کی پالیسی کوتاہ بینی کا نمونہ ہے۔ جو بھی جانور بے کار ہو جاتا ہے وہ کسان کے لئے بوجھ ہوتا ہے۔ برسوں پہلے بھی جب کھیتی کے لئے بیل جزلاینفک ہوتے تھے تب بھی گائے کو عموماً بیلوں کا جوٹھا اور بچا ہوا چارہ ہی کھانے کو دیا جاتا تھا۔ اب جب بیلوں کا زرعی کاموں میں کوئی استمعال نہیں رہ گیا ہے تو دودھ دینے والی گایوں کو تو کسان کھلا پلا دیتا ہے لیکن خالی ہو چکی گایوں اور انکے بچھڑوں کو کھلانا اس پر ایک بہت بڑا معاشی بوجھ ہے۔ وہ انھیں فروخت بھی نہیں کر سکتا۔ مسلم تو مسلم، ہندو بھی اب ان جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہوئے ڈرتا ہے کہ کب نام نہاد گئو رکشک اسے پکڑ لیں۔ بھلے ہی وہ انھیں ماریں پیٹیں نہیں لیکن وصولی تو ضرور کریں گے۔ اس لئے وہ اپنے ان بے کار جانوروں کو کھلا چھوڑ دینے پر مجبور ہیں۔ حکومت لاکھ کوششیں کر لے، تمام آوارہ گایوں، بچھڑوں اور سانڈوں کو گئو شالا میں رکھ پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ نہ تو اس کام کے لئے فوری طور سے اتنی زمین دستیاب ہے اور نہ ہی چارہ پانی۔ یوگی جی حکم تو دے دیتے ہیں لیکن اس کو نافذ کرنے میں افسران کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ سبھی آوارہ جانوروں کو گئو شالا پہنچانے کے لئے یوگی جی نے 10 جنوری کی تاریخ تو طے کر دی لیکن یہ ممکن ہی نہیں۔ ایک جائزہ کے مطابق اتر پردیش میں قریب 2 کروڑ گائے ہیں۔ ان میں اگر 25 فیصد بھی آوارہ ہیں تو 50 لاکھ گایوں، سانڈوں اور بچھڑوں کو کہاں رکھا جائے گا۔ یہ کھوپڑی خراب کر دینے والا سوال ہے۔ اس تعداد میں ہر روز اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ یوگی جی کا یہ احمقانہ ’گائے پریم‘ دیکھئے کیا کیا گل کھلاتا ہے-

5 فیصد بنام 95 فیصد

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہندستانی سماج میں اب بھی محبت، رواداری اور دوستی نبھانے والے عناصر کی اکثریت ہے۔ انھیں سماج میں مذہب، ذات برادری اور مسلک کے نام پر تفریق قطعی پسند نہیں ہے لیکن مودی جی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے نفرت پسند عناصر کچھ زیادہ ہی سرکش ہو کر سامنے آنے لگے ہیں۔ حکومت کی سرپرستی اور شریف لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے ان عناصر کے حوصلے بلند ہونے لگے اور ایسا لگنے لگا کہ پورا ہندستانی سماج ہی نفرت، عدم رواداری اور تشدد پسند ہو گیا ہے۔ اس ماحول کے خلاف ملک کے مختلف حصوں سے کئی آوازیں اٹھیں جو تاریکی میں روشنی کا کرن بن کر چمکیں۔ ایسی ہی ایک آواز، ایک تحریک، ایک مہم لکھنؤ میں سابق میئر اور ممتاز دانشور ڈاکٹر داؤ جی گپتا، سابق وزیر عبدالمعید، ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت چچا امیر حیدر، سابق جج بی بی نقوی صاحب، سابق انجینیئر اے این سنگھ، سراج ولی خان، صحافی بابر نقوی، غفران نسیم، طارق خان، ہمایوں چودھری، طارق صدیقی، شاعر سیف بابر، رفعت فاطمہ، صدف جعفر، ارونا سنگھ، اوپندر آچاریہ، نریندر گوتم، اے کے سنگھ، ٹی این گپتا، رام کشور سمیت درجنوں فکر مند شہریوں نے شروع کی۔ انھوں نے 5 فیصدی نفرتی عناصر بنام 95 فیصد محبت پرست عناصر کے نام سے یہ مہم شروع کی جس کی مختلف مقامات پر کئی کامیاب میٹنگیں، کینڈل مارچ اور مظاہرہ وغیرہ ہو چکے ہیں۔ اس مہم میں جس طرح لوگ جوق در جوق جڑ رہے ہیں اس سے ہندوستانی معاشرہ کی رواداری اور گنگا-جمنی تہذیب کے تئیں لوگوں کی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک غیرسیاسی مہم ہے جس میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی اپنی پارٹی وابستگی سے بلند ہو کر شامل ہو رہے ہیں-