نل سے نکلی موت... پنکج چترویدی
اگست 2025 میں ’امرت 2‘ کے تحت اندور میونسپل کارپوریشن کو 1073 کروڑ روپے کا ٹھیکہ ایس پی ایم ایل انفرا نے دیا۔ اس میں 1650 ایم ایل ڈی کا انٹک سسٹم اور 400 ایم ایل ڈی کا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانا شامل ہے

اندور کے بھاگیرتھ پورہ، سانویر روڈ کے پاس ذیلی متوسط طبقہ کی رہائش ہے۔ چونکہ یہیں ایک صنعتی علاقہ ہے، اس لیے یہاں کی بڑی آبادی مزدوری کے لیے دہائیوں پہلے باہر سے آئی اور پھر وہ یہیں بس گئی۔ یہ بات اندور کے میئر عوامی طور پر کہتے رہے ہیں کہ اندور کے لوگ پانی نہیں، گھی پیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں پانی کی فراہمی بہت مہنگی ہے۔ اندور کا اہم آبی ذرائع نرمدا ندی ہے، جو شہر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور اور سطح سمندر سے بہت نیچے بہتی ہے۔ نرمدا کے پانی کو ’جلود‘ (کھرگون) واقع پمپنگ اسٹیشن سے اندور لانے کے لیے تقریباً 500 سے 600 میٹر (تقریباً 1800 فیٹ) کی اونچائی تک لفٹ کرنا پڑتا ہے۔ اندور میونسپل کارپوریشن کو اس پانی کو پمپ کرنے کے لیے ہر مہینے تقریباً 25 سے 30 کروڑ روپے صرف بجلی بل کی شکل میں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اندور میں 1000 لیٹر (ایک کلو لیٹر) پانی پہنچانے کی لاگت تقریباً 21 سے 25 روپے کے درمیان آتی ہے، جبکہ یہ خرچ دوسرے شہروں میں زیادہ سے زیادہ 5 یا 6 روپے ہوتا ہے۔ اندور میونسپل کارپوریشن پانی کی فراہمی پر سالانہ تقریباً 350 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرتا ہے، اس میں سے تقریباً 35 فیصد سے 40 فیصد پانی ’اَن کاؤنٹیڈ فار واٹر‘ (یو ایف ڈبلیو) ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ پانی لیکیج، چوری یا ناجائز کنکشن کے سبب بغیر کسی ریوینیو کے برباد ہو جاتا ہے۔ اتنی مہنگی لاگت والے پانی کی بربادی شہر کی معیشت پر دوہرا بوجھ ڈالتی ہے۔
ایک طرف جہاں شہر ساتویں بار صفائی کا پرچم لہرانے کی تیاری کرتا ہے، وہیں دوسری طرف بڑی آبادیوں میں آلودہ پانی سے ہوتی اموات انتظامیہ کے ’اسمارٹ سٹی‘ والے دعووں پر سنگین سوالیہ نشان لگاتی ہیں۔ یہ بحران صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ مخدوش بنیادی ڈھانچہ، انتظامیہ کی سستی اور اندور کے پیچیدہ آبی بحران کا ایک خوفناک سنگم ہے۔ بھاگیرتھ پورہ کی گلیوں میں پھیلی بیماری کی ابتدائی وجہ ’کراس کنٹامنیشن‘ پایا گیا ہے۔ جانچ رپورٹس کے مطابق علاقہ میں پینے کے پانی کی اہم پائپ لائن ایک پبلک ٹوائلٹ کے ٹھیک نیچے سے گزر رہی تھی۔ دہائیوں پرانی اس پائپ لائن میں لیکیج نے سیور کے پانی کو جذب کر لیا۔ جب نلوں سے پانی کی سپلائی شروع ہوئی تو وہ پانی نہیں بلکہ بیماریوں کا زہر تھا۔ ہیضہ اور گیسٹرو اینٹیرائٹس نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں گھروں کو اپنی زد میں لے لیا۔ اوپر سے گلیوں میں کبھی ٹیلی فون والوں نے تو کبھی سیور والوں نے کھدائی کی اور اس دوران ٹوٹے پائپ کو لاپروائی سے جوڑا۔
ابھی 5 دہائی پہلے تک اندور میں 2 ندیاں تھیں۔ 50 سے زیادہ تالاب اور تقریباً 650 کنوئیں و باؤڑی بھی موجود تھی۔ شہرکاری سبھی کو ہضم کرتا گیا اور آبادی کا پانی پر انحصار نرمدا تک محدود ہو گیا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ضلع میں شہر سے کچھ ہی دوری پر 7.5 ندیوں کا سنگم ہو، وہ بہت زیادہ خرچ کرنے کے بعد بھی طلب سے تقریباً 130 ایم ایل ڈی کم پانی ہی فراہم کرا پا رہا ہے۔ غور کرنے والی بات ہے کہ ضلع کی جاناپاؤ پہاڑی سے نکلنے والی چنبل، گمبھیر، انگریڑ، سمریا، بیرم، چورل، کارم، نیکیڑیشوری ندیوں میں سے کچھ جمنا میں اور کچھ نرمدا میں ملتی ہیں۔ پھر بھی مخدوش پائپ سے مہنگا پانی بھیجنا مجبور نہیں، ایک بڑی سازش معلوم ہوتی ہے۔
جہاں تک بھاگیرتھ پورہ کا سوال ہے، یہ لاپروائی دراصل لال فیتہ شاہی اور لالچ کا ملا جلا نتیجہ ہے۔ مدھیہ پردیش کے آلودگی کنٹرول بورڈ کے علاقائی دفتر نے 17-2016 اور 18-2017 میں شہر کے 60 مقامات سے پینے کے پانی کے سیمپل لے کر جانچ کے لیے لیب بھیجے تھے۔ اس کی رپورٹ 2019 میں آئی۔ 60 میں سے 59 نمونے فیل نکلے تھے۔ بورڈ نے 2022 تک میونسپل کارپوریشن کو 3 بار خط لکھ کر متنبہ کیا تھا کہ ان مقامات پر پینے کا پانی صاف کرنے کے بعد ہی استعمال کیا جائے۔ جن 59 مقامات پر پانی پینے لائق نہیں ملا، ان میں بھاگیرتھ پورہ گلی نمبر 1 اور 2، کھاتی پورہ، رام نگر، ناہر شاہ ولی روڈ کھجرانا، میٹل مین فیکٹری کے سامنے سانویر روڈ، گووند کالونی وارڈ-12، شنکر باغ کالونی، پردیشی پورہ وارڈ-5، بڑا گنپتی سبھاش اسکول کے پاس، رام مندر کے پاس صدر بازار، کاکا پبلک اسکول کے پاس نرنجن پور، راؤجی بازار پولیس اسٹیشن کے پاس جونی اندور، آر پی اپارٹمنٹ سوسائٹی وغیرہ شامل ہے۔ کارپوریشن کے ذریعہ کوئی کارروائی نہیں کرنے کے بعد علاقائی دفتر نے سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ، بھوپال کو بھی خط لکھ کر اس کی جانکاری دی تھی۔ یہی نہیں، سنہ 21-2015 تک کے ’امرت 1‘ منصوبہ میں شہر میں 650 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ اس کا اہم مقصد پرانی پائپ لائنوں کو بہتر کرنا، نئے پمپنگ اسٹیشن بنانا اور آبی تقسیم نظام کی توسیع کرنا تھا۔
ابھی اگست 2025 میں ’امرت 2‘ کے تحت اندور میونسپل کارپوریشن کو 1073 کروڑ روپے کا ٹھیکہ ایس پی ایم ایل انفرا نے دیا ہے۔ اس میں 1650 ایم ایل ڈی کا انٹیک سسٹم اور 400 ایم ایل ڈی کا نیا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانا شامل ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے ’امرت 2‘ کے تحت مجموعی طور پر 1668 کروڑ روپے کی تجویز تیار کی ہے، جس کا ہدف شہر کے ساتھ ساتھ شامل ہوئے نئے 29 گاؤں میں پائپ لائن بچھانا اور 32 نئی ٹنکیاں بنانا ہے۔ ایک بات تو صاف ہے کہ پانی کے نام پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کے بعد بھی اگر ’بھاگیرتھ پورہ میں پینے کے پانی کے سبب 13 اموات اور 200 لوگ سنگین طور پر بیمار ہوتے ہیں، تو صاف ہے کہ بیشتر بجٹ کاغذوں پر خرچ ہو رہا ہے۔
اس واقعہ کے بعد زونل افسر اور اسسٹنٹ انجینئر معطل/برخاست کیے گئے اور ایک 3 رکنی جانچ کمیٹی کی تشکیل کی گئی، تاکہ قصورواروں کی شناخت اور جوابدہی یقینی ہو سکے۔ لیکن عام لوگوں کو حکومت کے دعوے پر کوئی بھروسہ نہیں۔ ابھی ستمبر میں ہی شہر کے سرکاری اسپتال کے نوزائیدہ بچہ وارڈ میں 2 بچوں کی موت چوہا کاٹنے سے ہو گئی تھی۔ تب بھی کمیٹی بنی، بیان بازی ہوئی، لیکن حالات بہتر نہیں ہوئے۔ شہری منصوبہ بندی کا ابتدائی اصول کہتا ہے کہ پینے کے پانی اور سیور کی لائنیں کبھی بھی ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں ہونی چاہیے کہ ایک کا رساؤ دوسرے کو ’زہر‘ بنا دے۔ اس شہر پر تو ’اسمارٹ سٹی‘ کے نام پر بھی کئی کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اس حادثہ نے سارے ملک کو متنبہ کر دیا ہے کہ جب تک ’زمین کے اوپر‘ کی صفائی ’زمین کے نیچے‘ کی سیکورٹی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چلے گی، تب تک صفائی کے یہ تمغے ادھورے ہی رہیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔