دلت کوٹہ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر ایک نیا شکنجہ

جب سے اجے سنگھ بشٹ (یوگی آدتیہ ناتھ) نے مارچ 2017 میں اتر پردیش وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے، پورے اتر پردیش، بلکہ پورے ملک میں دلتوں کے اندر ایک قسم کی بے چینی پائی جا رہی ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک تنازعے کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اجے سنگھ بشٹ (یوگی آدتیہ ناتھ)نے حال ہی میں ایک بیان دیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لئے مجوزہ کوٹہ نافذ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ اس سلسلے میں ایک مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیرغور ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مذہبی بنیادوں پر داخلہ نہیں دیتی، حالانکہ اے ایم یو ترمیمی ایکٹ 1981 کی شق 5(2)(c) کی رو سے اے ایم یو کو ہندوستانی مسلمانوں کی ثقافتی اور تعلیمی ترقی کے فروغ کے لئے خصوصی اقدام کرنے کا استحقاق حاصل ہے۔ اس استحقاق کی بنیاد پر صرف ایک مرتبہ 2005میں اے ایم یو نے اپنی داخلہ پالیسی کے حوالے سے خود کو ایک مسلم اقلیتی ادارہ کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کوشش کو الہٰ آباد ہائی کورٹ نے اکتوبر 2005میں غیر قانونی قرار دے دیا جس کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی اور تب سے یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے 2005سے قبل کی علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کی داخلہ پالیسی کو کالعدم قرار نہیں دیا جس میں کسی قسم کے مذہبی ریزرویشن کی گنجائش نہیں ہے۔

اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور قومی کمیشن برائے درج فہرست ذات کے صدر رام شنکر کٹھیریا نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو لکھیں گے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دی جانے والی سرکاری گرانٹ روک دی جائے کیونکہ اس نے ’ریزرویشن کوٹہ نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے‘۔

اس کے ایک دن کے بعد اتر پردیش کے صوبائی کمیشن برائے ایس سی /ایس ٹی، برج لال نے مبینہ طور پر اے ایم یو کو ایک نوٹس جاری کیا ہے کہ اسے اس بات پر سخت اعتراض ہے کہ اس نے ابھی تک ایس سی/ ایس ٹی کوٹہ کیوں نافذ نہیں کیا ہے۔

اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریزرویشن کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے افسران کی جانب سے یونیورسٹی کو نشانہ بنایا جانا ایک کھلی سیاسی شعبدہ بازی ہے۔ بدقسمتی سے پرنٹ اور ٹیلی ویژن میڈیا کا ایک بڑا حلقہ مختلف سیاسی گروہوں کی جانب سے اے ایم یو کو نشانہ بنانے کی کوشش کے پس پشت موقع پرستانہ سیاسی ہتھکنڈوں کو سامنے لانے کی ہمت نہیں کر پایا ہے۔

7 مئی کو ایک اہم ٹیلی ویژن نیوز چینل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر کئی گھنٹوں کا مباحثہ کیا جس میں اے ایم یو کو اس بات پر گھیرنے کی کوشش کی گئی کہ اس کے اسٹوڈنٹس یونین ہال میں 1938سے محمد علی جناح کی تصویر کیوں آویزاں ہے۔یہ وہ وقت تھا جب کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم اپنے آخری مرحلے میں تھی۔ اس معاملے کو یوپی کے کیرانہ میں ہونے والے پارلیمانی ضمنی انتخاب تک جاری رکھا گیا۔

اس تناظر میں، بی جے پی کے مایوسی میں اٹھائے گئے سیاسی اقدام، خاص طور سے دلت ووٹ بینک کے تعلق سے اس کی فکر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو اس کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے باوجود نظر آتی ہے۔ اترپردیش کے پھولپور اور گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی ایس پی اور ایس پی کے اتحاد کے باعث بی جے پی کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھی اس حقیقت کے باوجود کہ گورکھپور طویل مدت سے موجودہ وزیر اعلیٰ کا اور پھولپور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کا گڑھ رہا ہے۔ جب سے اجے سنگھ بشٹ نے مارچ 2017 میں اتر پردیش وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے، پورے اتر پردیش، بلکہ پورے ملک میں دلتوں کے اندر ایک قسم کی بے چینی پائی جا رہی ہے۔

لندن کے گارجین اخبار نے 22 مئی 2018 کو ایک رپورٹ میں لکھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون میں فارغ التحصیل ایک دلت نوجوان سنجے جادو نے ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے کہ حکومت کو اس کی بارات کو تحفظ فراہم کرنے کے احکامات دیے جائیں۔ اس کی بارات کا راستہ مغربی اتر پردیش میں ایک ایسے علاقے سے ہو کر گذرتا تھا جو اعلیٰ ذات کے راجپوت ہندؤوں پر مشتمل تھا جس سے خود وزیر اعلیٰ اجے کمار بشٹ کا تعلق ہے۔ راجپوت اس گاؤں سے کسی دلت کی بارات کو گذرنے نہیں دیتے ۔ گھوڑے پر سوار کسی دلت دولہے کا بارات لے کر اس گاؤں سے گذرنا ایک ’ابھیشاپ‘ سے کم نہیں۔

دلتوں کے بی جے پی کی جانب سے عدم اطمینان کا سلسلہ حیدرآباد یونیورسٹی کے ایک ذہین دلت طالب علم روہت ویمولا کی خود کشی سے ہی شروع ہو گیا تھا جس کے بعد پورے ملک میں ایک ہنگامہ شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد گجرات کے اونا اور بہار کے مظفر پور میں دلتوں پر مظالم کے واقعات نے صورت حا ل کو مزید ابتر بنا دیا۔بڑے تعلیمی اداروں مثلاً آئی آئی ٹی وغیرہ میں جبر و تشدد اور جانبداری کے واقعات کے بعد دلت طلبہ کی خود کشی کے واقعات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ابھی اپریل میں 1989کے دلت مظالم ایکٹ کی تادیبی شقوں کو ختم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی بند منعقد کیے گئے۔ اس پورے تناظر میں کسی دلت لیڈر یا تنظیم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دلت کوٹہ کا مطالبہ نہیں کیا، حالانکہ اسی دوران وہ مرکزی تعاون یافتہ یونیورسٹیوں میں ہر یونیورسٹی میں مجموعی تناسب کے بجائے ہر شعبے میں غیر مجموعی طور پر تقرری میں ریزرویشن کے سلسلے میں یو جی سی کے حالیہ حکم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اس کے علاوہ انہوں نے مرکزی یونیورسٹیوں میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے زمرے میں کوٹہ کے باوجود درج فہرست ذاتوں کو دی جانے والی کم نمائندگی کے اعداد و شمار بھی پیش کئے ہیں۔ لیکن دلتوں کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلوں یا ملازمتوں میں موجود نہایت قلیل مواقع کی کبھی اتنی پرواہ نہیں رہی اور اس وجہ سے انہوں نے کبھی اس کو مسئلہ نہیں بنایا۔ اس کے برخلاف انہیں ہمیشہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی اکثریت والی کثیر التعداد یونیورسٹیوں میں نمائندگی کی فکر رہی۔وہ پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں میں بھی ریزرویشن کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جس پر بی جے پی نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی ہے۔ دلتوں کو اقتدار کے مراکز اور عمل میں بھی باوقار حصہ داری کی فکر رہی ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اعلیٰ ذات کے لوگ انہیں جائز حصہ نہیں دینا چاہتے ہیں۔

اس کے متضاد انتہا پسند قسم کے اعلیٰ ذات کے ہندو میرٹ کے نام پر ریزرویشن کی مخالفت کرتے رہے ہیں، گوکہ انہیں اس سلسلے میں پرائیویٹ اداروں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ زمین دار قسم کے لوگوں نے کالج قائم کئے، ان میں اپنی ہی ذات کے لوگوں کی تقرری کی اور اس کے بعد ان کالجز کو صوبائی حکومتوں نے اپنے انتظام میں لے لیا۔ یہ میرٹ کے بجائے ایک قسم کا صد فی صد ریزرویشن کا انتظام تھا۔ اسی طرح نجکاری سے قبل بھی سماج کے متمول لوگ اضافی رقم دے کر میڈیکل اور انجینئرگ جیسے کورسز میں داخلہ پا لیتے تھے اور اس طرح کے داخلے کسی بھی طرح میرٹ پر مبنی نہیں تھے۔

آئندہ پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر دلت -مسلم اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی بی جے پی کی کوشش بہت واضح ہے۔ یہ بات عوام کی یادداشت میں ہے کہ 2013 میں رونما ہونے والے مظفر نگر کے ہولناک فسادات سے قبل 2012 میں اترپردیش کے پسماندہ مسلمانوں کو یکجا کرنے کے لیے پسماندہ کرانتی ابھیان شروع ہوا تھا جس میں ایک دلچسپ نعرہ دیا گیا تھا ’دلت پچھڑا ایک سمان، ہندو ہو یا مسلمان‘۔ اس تحریک کا پہلا مرحلہ 30ستمبر 2013کو تکمیل کو پہنچنے والا تھا (ہلال احمد، اکنامک اینڈ پالیٹیکل ویکلی، 5؍اکتوبر 2013)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا کی موجودہ تعداد پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی مذہبی ریزرویشن کے بغیر بھی یونیورسٹی کے پیشہ ورانہ کورسز میں تقریباً 50فی صد طلبا غیر مسلم ہیں۔ لیکن اس بنیاد پر اے ایم یو کو زوال کے گرداب میں نہیں دھکیلا جانا چاہئے۔

اے ایم یو میں میڈیکل کورسز کو چھوڑ کر انٹرنل طلبا کے ساتھ ہی ملازمین اور الُمنائی کے بچوں کے لئے ایک قسم کا غیر اعلانیہ کوٹہ موجود ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ چیز فطری مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہے اور ایک مخصوص طبقہ کو ترجیح دینا ہے۔پسماندہ ذات کے اجلاف و ارزال ، اشرافیہ کی اس برتری کے خلاف پہلے بھی احتجاج کرتے رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ درج فہرست ذات کے طور پر اس ارزل طبقہ کے اندراج کا معاملہ آج بھی نامکمل ہے۔ یہ دراصل 1950کے صدارتی آرڈی ننیس کے ذریعہ لوگوں پر نافذ کیا گیا مذہب پر مبنی امتیاز ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک ایسی داخلہ پالیسی اختیار کی جانی چاہئے جس میں اس قسم کے پسماندہ طبقات کے لیے ان کی پسماندگی کے مطابق خصوصی مراعت دی جائے اور جو تاریخی اعتبار سے مستحصل طبقات ہیں ان کے لیے ریزرویشن میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔

اے ایم یو سے بالاتر بھی، ’باضابطہ‘ اقلیتی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ مسلم اشرافیہ طبقے کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے زیر انتظام اداروں میں سماجی انصاف کے اعلیٰ اقدار کو راہ دیں۔

(ترجمہ: محمد شمیم الزماں)

سب سے زیادہ مقبول