یوم اطفال: جدید ہندوستان کے معمار پنڈت نہرو

ستائی ہوئی قوموں کے نجات دہندہ پنڈت جواہرلال نہرو اس حد تک امن عالم کے حامی تھے کہ عرب میں انہیں رسول ہند کہا گیا، وہ عالمی سیاست کی سطح پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں سب سے زیادہ ماہر تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

ہرسال 14نومبرکو وطن عزیز ہندوستان میں’یوم اطفال‘ کے طور پر بڑے جوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ویسے تو دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف تاریخوں میں یوم اطفال منایا جاتا ہے، مگر ہندوستان میں 14 نومبر ملک کے پہلے وزیر اعظم اور جدید ہندوستان کے معمار پنڈت جواہر لعل نہرو کا یوم پیدائش ہے۔ جواہر لعل نہرو کو بچوں سے بے پناہ پیار تھا، انہوں نے اپنے یوم پیدائش کو’بچوں کے دن‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور یوں ان کے دور سے ملک بھر میں ہر سال 14 نومبر بطور ’یوم اطفال‘ منایا جاتا ہے۔ پنڈت نہرو بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور ان کے درمیان رہنا انہیں پسند تھا۔ اسی محبت کے سبب بچے بھی انہیں چاچا نہرو کہا کرتے تھے۔ یوم اطفال بچوں کے تئیں پنڈت نہرو کی اسی بے پناہ محبت اور لگاؤ کی یاد گار ہے۔

اس دن کے منانے کا مقصد بچوں کے تئیں لوگوں میں پیار و محبت کے جذبات کو فروغ دینا اور ان کے حقوق کے تئیں والدین، اساتذہ اور بڑی عمر کے لوگوں میں بیداری لانا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کی آزادی کے بعد بچوں اور جوانوں کی تعلیم، ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے کئی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے جوانوں کی تعلیم کے لئے کئی اہم ادارے مثلا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے پنچ سالہ منصوبے میں مفت پرائمری تعلیم کو شامل کیا اور اسکولی بچوں کو سوئے تغذیہ سے بچانے کے لئے مفت دودھ فراہم کرنے کی تجویز رکھی تھی۔

پنڈت نہرو ہندوستان کی جنگ آزادی کے اہم قائدین اور رہنماؤں میں شامل رہے اور1974 میں ملک کی آزادی کے بعد پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی پیدائش 14 نومبر1889 کو الٰہ آباد میں ہوئی۔ والد مشہور وکیل موتی لال نہرو اور والدہ سوروپ رانی تھیں۔ وہ بچپن سے بڑے ذہین تھے۔ اس لئے ان کے والدین نے ان کا نام جواہرلال رکھا۔ چاچا نہرو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جس کے لئے گھر پر ہی ایک مولوی اور ایک پنڈت کا تقرر ہوا۔ جن سے انہوں نے ہندی، اردو اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم انگلینڈ میں حاصل کی اور بیرسٹرکی ڈگری حاصل کرکے ہندوستان لوٹنے کے بعد جنگ آزادی میں شامل ہوگئے۔

اگست 1947کو ہندوستان آزاد ہوا تو جواہر لال نہرو نے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ بیک وقت مفکر، مورّخ، دانشور، ممتاز15 سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب ادیب بھی تھے۔ مگر وہ صحت مند سیاست کے علمبردار کی حیثیت سے مقبول ہوئے۔ جدید ہندوستان کے اس معمار کی سانس27 مئی 1964 کو ہمیشہ کے لئے رک گئی۔ گاندھی جی کے بعد تحریک آزادی کے عظیم رہنما پنڈت جواہرلال نہرو ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ آزادی کے بعد ملک کی قیادت کا بار جواہرلال نہرو کے کاندھوں پر آیا۔

انگریز ہندوستان سے چلے گئے تھے مگر ملک کی تقسیم کے تکلیف دہ مسائل اور بدحال معیشت حکومت کے لئے چھوڑ گئے تھے۔ آزادی کے بعد ملک میں مضبوطی اور اتحاد کے ساتھ تعمیر نو کا کام شروع کیا گیا اور ہندوستانی سماج میں حب الوطنی اور قومی نظریئے کو فروغ دیا گیا۔ جاگیرداری، زمینداری کو ختم کر کے سرمایہ داری کے رحجانات کو روکتے ہوئے سوشلسٹ سماج کے لئے بہت سے اقدامات کیے گئے۔ اقوامِ عالم میں ہندوستان کا وقار بڑھا۔ اس قافلے میں نہرو جی کے ساتھ مولانا آزاد، سردار پٹیل، بابو راجندر پرشاد اور کئی دیگر رہنما شامل تھے۔

کانگریس کی تاریخ کہیے یا ہندوستان کے عہد حاضر کی تاریخ کا ذکر کیجیے جواہر لال نہرو اس وقت کی وہ شخصیت تھے جسے عہد ساز کہنا ہی پڑے گا۔ نہرو کا دور وہ دور ہے جس کی اہمیت کو ہندوستانی عوام صدیوں تک محسوس کرتے رہیں گے۔ ستائی ہوئی مظلوم قوموں کے نجات دہندہ چاچا نہرو اس حد تک امن عالم کے حامی تھے کہ عرب میں انہیں رسول ہند کہا گیا۔ وہ عالمی سیا ست کی سطح پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں سب سے زیادہ ماہر تھے۔ مہاتما گاندھی نے تحریک آزادی کو ایک نیا موڑ دیا اور اس کے لئے انہیں باپو کہا گیا لیکن اگر وہ سالاراعظم تھے تو نہرو بھی کوئی معمولی سپاہی نہیں تھے۔

گاندھی کے بعد کمان انہیں کے ہاتھ میں تھی جس کی قیادت میں جنگ آزادی میں فتح حاصل ہوئی۔ مہاتما گاندھی نے خود بھی انہیں اپنا جانشین کہا ہے۔ آزادی کے بعد نہرو نے ہی نئے ہندوستان کی تعمیر کی اور اس طرح اس کی تعمیر کی کہ ہندوستان نے تیسری دنیا میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ مسلسل جدو جہد اور اپنی کاوشوں سے وہ آزادی سے قبل ہی تیسری دنیا کے قابل احترام لیڈر بن چکے تھے۔ ملکی سطح پر کانگریس کی تشکیل نو میں نہرو کا بہت اہم رول ہے۔ بکھری ہوئی قومی طاقتوں اور رحجانات میں ہم آہنگی پیدا کرکے انھوں نے کانگریس کی شکل میں ایسی سیاسی جماعت کا روپ دیا کہ وہ حکومت چلا سکنے کے قابل ہو سکی اور اس کی طاقت سال بہ سال بڑھنے لگی۔ جمہوریت کے اصولوں سے انھوں نے کبھی بھی انحراف نہیں کیا۔ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کا احترام کیا اور انہیں اعتماد میں رکھا۔

جواہرلال نہرو کی قیادت کو مثالی قیادت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جنہوں نے ہمیشہ حزب مخالف کو خندہ پیشانی اور فراخ دلی سے برداشت کیا۔ دوسروں کی رائے کا ہمیشہ احترام کیا اور اس طرح انھوں نے انتہائی خوش اسلوبی سے جمہوریت کو آگے بڑھایا۔ یہ نہرو ہی تھے جنھوں نے ثابت کرایا کہ بہت سی خاموش منزلیں جمہوری طریقوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ نہرو کا کارنامہ ہے کہ بین الاقوامی اداروں میں ایک نئی اصولوں کی آواز گونجی۔ یہ انھوں نے اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ کوئی ملک چھوٹے سے چھوٹا بھی بین الاقوامی معاملات میں بغیر کسی طاقت کے استحصال کے اثر ڈال سکتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے یہ کہہ کر مبالغے سے کام نہیں لیا کہ نہرو ہمارے بے تاج بادشاہ ہیں۔

(نواب علی اختر)