وزیراعظم مودی کاملک میں سب سے زیادہ ہوائی اڈے بنانے کا دعویٰ کتنادرست ؟

سنہ 2015 کے بعدملک میں صرف چھ نئے ہوائی اڈے بنے یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مجموعی طور پر دس ہوائی اڈے استعمال میں آئے۔ بہر حال یہ تعداد وزیراعظم مودی کے دعوؤں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے گذشتہ ہفتے ٹویٹ کیا تھا کہ ہندوستان میں اب 100 ہوائی اڈے ہیں اور گذشتہ چار سالوں یعنی مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ان میں سے 35 ہوائی اڈوں کو مکمل کیا گیا ہے۔ حزب اختلاف کو نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آزادی کے 67 سال بعد 2014 تک ہندوستان میں صرف 65 ہوائی اڈے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال ایک ہوائی اڈہ تعمیر کیا گیا۔اگر آپ ان اعداد و شمار کو بنیاد بنائیں تو یہ نظر آئے گا کہ موجودہ مودی حکومت نے سالانہ نو ہوائی اڈے تعمیرکئے۔ کیا سرکاری اعداد و شمار بھی وزیر اعظم کے ان دعوؤں کی تصدیق کرتے ہیں؟ اس سلسلے میں جب پتہ کیاگیاتووزیراعظم کادعویٰ حقیقت کے برعکس پایاگیا۔ شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچوں کے لئے ذمہ دار ادارہ ایئرپورٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر فی الحال 101 ہوائی اڈے درج ہیں۔ شہری ہوابازی کے ضابطہ کار ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی فہرست میں 31 مارچ سنہ 2018 تک گھریلو ہوائی اڈے درج ہیں لیکن جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو اعداد و شمار مزید الجھا دیتے ہیں۔ ڈی جی سی اے کے اعداد و شمار میں گھریلو ہوائی اڈوں کی تعداد سنہ 2015 تک 95 تھے، جن میں سے 31 مستعمل نہیں تھے۔ وہیں سنہ 2018 میں ملک میں مجموعی طور پر 101 ہوائی اڈے موجود ہیں، جن میں سے 27 غیر مستعمل ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سنہ 2015 کے بعد ملک میں صرف چھ نئے ہوائی اڈے بنے یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مجموعی طور پر دس ہوائی اڈے استعمال میں آئے۔ بہر حال یہ تعداد وزیراعظم مودی کے دعوؤں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انھوں نے اپنے دعوے میں کہا کہ سنہ 2014 سے ملک میں 35 ہوائی اڈے بنے۔ رواں ماہ دہلی میں منعقدہ شہری ہوا بازی کی ایک کانفرنس میں بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے سربراہ الیگزینڈر دی جونیاک نے ہوائی اڈہ بنانے کے معاملے میں ہندوستان کی تعریف کی تھی۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ دہائی میں ہندوستان میں ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی حیرت انگیز ہے۔ جس ایک دہائی کی انھوں نے بات کی اس میں مودی کے چار سال سے قبل کی مدت بھی شامل ہے یعنی کانگریس کی قیادت والایوپی اے کادوراقتدار۔

یہاں یہ بھی قابل غور ہے کہ جن ہوئی اڈوں کا افتتاح مودی حکومت کے چار سالوں میں ہوا ہے ان کی ابتدا ان سے پہلے والی حکومت کے دور میں ہوئی تھی جو موجودہ دور حکومت میں مکمل ہوئے۔ گذشتہ سال حکومت نے مختلف شہروں کے درمیان پرواز کی سہولت کے لئے’اڑان‘ نامی اسکیم لانچ کی تاکہ بڑے شہروں اور دور دراز کے علاقوں کے درمیان ہوئی رابطہ قائم ہو سکے۔ رواں سال کے اوائل میں سول ایوی ایشن کے وزیر جینت سنہا نے کہا کہ سنہ 2035 تک ہندوستان کو 150 سے 200 ہوائی اڈوں کی ضرورت ہوگی۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اپنے ایوی ایشن کے شعبے کو کھولا ہے۔ مسافروں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ملک میں ہوابازی کے شعبے میں مختلف کمپنیوں میں سخت مقابلہ نظر آیا اور ہوائی سفر کی قیمتوں میں کمی اسی جنگ کا نتیجہ ہے۔

بہر حال طویل مسافت کے لئے ابھی بھی ہندوستان میں بہت سے مسافر ریل کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی وجہ اس کا سستا ہونا ہے۔ اب راجدھانی دہلی اور معاشی مرکز ممبئی کے درمیان دو گھنٹے کا ہوائی سفر اب دنیا کے مشغول ترین ہوائی راستوں میں شمار ہونے لگا ہے۔آئی اے ٹی اے کے مطابق آنے والے 20 سالوں میں ہندوستان میں ہر سال ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد 50 کروڑ سے زیادہ ہو جائے گی۔ لیکن حال میں آئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوائی اڈے کی تعداد (ہر 10 لاکھ شخص پر ایک ہوائی اڈے) کے معاملے میں ہندوستان کی درجہ بندی ابھی کم ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مسافروں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر مستقبل میں بڑے شہروں کو دوسرے ہوائی اڈے کی ضرورت ہوگی۔ جبکہ رواں سال کے شروع میں سی اے پی اے کی ایک رپورٹ میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سنہ 2022 تک ہندوستان کے ہوائی اڈوں کا نظام اپنی بنیادی صلاحیت سے زیادہ کا بوجھ اٹھا رہا ہوگا۔

سب سے زیادہ مقبول