بی جے پی گھر میں تو ہندو-مسلم کر لے گی لیکن افغانستان میں ہمارے مفادات کا کیا ہوگا؟...ظفر آغا

مودی جی کے لیے امریکہ ہی سب کچھ ہے اور اسی کا ہم افغانستان میں نقصان اٹھا رہے ہیں، دیکھتے جائیے بی جے پی کی خارجہ پالیسی کیا گل کھلاتی ہے۔

ترجمان طالبان / العربیہ ڈاٹ نیٹ
ترجمان طالبان / العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

ظفر آغا

آج تقریباً پانچ ماہ کی غیر حاضری کے بعد قلم اٹھا رہا ہوں۔ کسی بھی صحافی کے لیے پانچ مہینے نہ لکھنا کسی کالے پانی کی سزا سے کم نہیں ہے۔ لیکن کرتا کیا! کووڈ-19 نے ایسا دبوچا کہ مئی کے ماہ میں اسپتال پہنچ گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ دہلی میں کووڈ کے مریضوں کو اسپتال میں داخلہ بھی میسر نہیں تھا۔ وہ تو اگر پرینکا گاندھی بذات خود مدد نہ کرتیں تو شاید بغیر علاج ختم ہی ہو جاتا۔ بس یوں سمجھیے کہ ان کی مدد سے دوسری زندگی ملی اور کووڈ سے بچ کر گھر واپس لوٹا۔ لیکن ابھی اسپتال ہی میں تھا کہ اطلاع ملی کہ اہلیہ ثمینہ رضوی اور بیٹا مونس آغا بھی کووڈ ے شکار ہو چکے ہیں۔ پھر خبر آئی کہ بیوی بھی اسپتال میں داخل ہو گئی ہیں۔ ان کی مدد بھی پرینکا گاندھی نے ہی کی۔ بیٹے کا علاج گھر پر ہی ہوتا رہا۔ میں تو اسپتال سے زندہ سلامت گھر آ گیا، لیکن افسوس اہلیہ گھر نہ لوٹ سکیں اور کووڈ کا شکار ہو کر اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔ سمجھیے کمر ٹوٹ گئی۔ گھر اور زندگی کی جیسے ہر امید ٹوٹ گئی۔ زندگی میں ایک عجیب اندھیرا چھا گیا۔ ثمینہ کے بغیر زندگی کے معنی ہی فوت ہو گئے۔ پانچ ماہ کا عرصہ ہونے کو آیا لیکن ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ وہ اب کبھی نہیں لوٹیں گی۔ ثمینہ تمھارے بغیر زندگی کیسے کٹے گی تم آ کر یہی سمجھا دو تو شاید میرے آنسو تھم جائیں۔

اردو زبان میں اہلیہ کے لیے ایک اصطلاح ہے شریک حیات۔ یعنی وہ جو آپ کی زندگی میں شریک ہو۔ یہی سبب ہے کہ ہر پل ثمینہ تمھاری کمی کا احساس کم نہیں ہوتا۔ وہ گھاؤ ہے کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے۔ زندگی میں پہلی بار خود کو تمھارے بغیر بے سہارا اور مجبور محسوس کر رہا ہوں۔ پلیز تم ایک بار آ کر مجھ کو اپنے بغیر زندگی گزارنے کا گر سکھا دو۔ میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں کیونکہ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کیا کروں اور کیا کہوں! اور جو کوئی چھوڑ کر گیا اس کو رو پیٹ کر الوداع کہہ دیا۔ آخر صبر کر لیا۔ تم کو ثمینہ کیسے الوداع کہوں۔ بھلا کوئی خود اپنی زندگی کو ہی الوداع کہتا ہے!


مودی جی کی چمک دمک دھندلی پڑ گئی

پانچ ماہ صحافت میں پانچ صدیوں سے کم نہیں ہوتے۔ ملک و بیرون ملک میں کیا کچھ نہیں بدل گیا اس درمیان۔ کووڈ کی دوسری لہر لاکھوں لوگوں کو نگل گئی۔ موت کا قہر جاری رہا اور ہندوستانی باشندے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی میں دم توڑتے رہے۔ اُدھر مرکزی اور ریاستی حکومتیں جھوٹ بولتی رہیں۔ ذرا سوچیے، جس اتر پردیش میں کووڈ سے مرنے والوں کی لاشیں گنگا میں تیرتی رہی تھیں، اس ریاست کی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یوگی حکومت نے کووڈ کے درمیان سب سے زیادہ قابل تعریف کام کر ڈالا۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کچھ ہو سکتا ہے کیا! لیکن جب حکومتیں جھوٹ بولنے پر کمر بستہ ہو ہی جائیں تو آپ کر ہی کیا سکتے ہیں۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ حکومت کے خلاف منھ کھولنا ملک سے غداری ہو۔ یہ کون سی جمہوریت ہے، اس کی تعریف تو صرف بی جے پی ہی سمجھا سکتی ہے۔

لیکن سچ کا خود اپنی روش ہوتی ہے۔ جب جب سچ کو دبایا جاتا ہے، تب تب وہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کووڈ کی دوسری لہر میں حکومت نے جتنا جھوٹ بولا، سچ اتنا ہی چمکا۔ بھلا گھر پر لاش جل اٹھے اور آپ کے اعداد و شمار چین و سکون دکھائیں، اس سیاہ جھوٹ کو ہضم کر پانا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے سرکردہ لیڈر عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ وہ نریندر مودی جن کے ہر جھوٹ پر عوام وہ واہ کرتی تھی، وہی عوام مودی سے عاجز نظر آنے لگی۔ کووڈ کی دوسری لہر میں مودی جی کی مقبولیت نصف سے بھی کم ہو گئی۔ وہ مودی جی جن کی مقبولیت کا گراف انڈیا ٹوڈے کے مطابق کووڈ کی دوسری لہر سے قبل 66 فیصد پر تھی، وہ گھٹ کر 24 فیصد پر آ گئی۔ بی جے پی کے لیے اس سے بڑا خسارہ کیا ہو سکتا ہے۔ پارٹی کا ہیرو، بی جے پی کو الیکشن جتانے والے لیڈر کی شبیہ دھندلی ہو گئی۔ حالانکہ انڈیا ٹوڈے کے سروے کے مطابق وہ اب بھی ملک کے سب سے قدآور لیڈر ہیں۔ لیکن اب مودی جی پر سے عوام کا بھروسہ ختم ہو گیا۔


یہ گزشتہ پانچ مہینوں کا ہی نہیں بلکہ گزشتہ سات سالوں کی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ گزشتہ سات سالوں میں اس ملک نے مودی جی کے ہر جھوٹ کو آنکھ بند کر کے سچ مانا اور ان پر یقین کیا۔ لیکن اب وہ اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مودی جی کو پہنچنے والا یہ نقصان بی جے پی کے لیے انتخابی نقصان بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بی جے پی اب انتخاب ہارے گی ہی، یہ کہہ پانا ممکن نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مودی جی کے پاس نفرت کی سیاست کا ایسا ’برہماستر‘ (اسلحہ) ہے جو انتخاب میں عوام کی آنکھیں بند کر دیتا ہے۔ مودی جی انتخاب میں ’مسلم دشمن‘ کا ایسا حوا کھڑا کر دیتے ہیں کہ ووٹر ماضی کو بھول کر مودی جی کے نشہ میں ڈوب کر بی جے پی کو اپنا ووٹ دے دیتا ہے۔ اس لیے مودی جی کی مقبولیت میں کمی سے بی جے پی کا انتخابی نقصان بھی ہوگا، ایسا ابھی پکّا نہیں ہے۔ ہاں، بنگال میں ممتا بنرجی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اپوزیشن اگر اپنا گھر درست کر لے اور بے خوف ہو کر مودی کے خلاف میدان میں اترے تو مودی جی کو شکست دینا بڑی بات نہیں ہے۔ لیکن افسوس اور تلخ حقیقت یہی ہے کہ اپوزیشن کا گھر ابھی تک درست نہیں ہے اور مودی جی کے خلاف میدان اب بھی خالی پڑا ہے۔

لیجیے، پھر وہی طالبان

پڑوس میں سالوں کے بعد پھر انہی طالبان کا ڈنکا بج رہا ہے جن کو اکھاڑنے کے لیے امریکہ کی قیادت میں تقریباً ساری دنیا نے متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ دو دہائیوں کے بعد خود امریکہ افغانستان چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور اب وہاں پھر سے طالبان کی حکومت ہے۔ کون طالبان! پاکستانی دہشت گرد سیاست کے سپاہی طالبان۔ وہی طالبان جن کے راج میں عورتوں کو بچہ پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ہے۔ جی ہاں، وہی طالبان جن کے شریعہ راج میں اسکول و کالج اور جدید تعلیم حرام ہے۔ اور تو اور، ان کے لیے تو مکمل جدیدیت ہی حرام ہے۔ ان کے یہاں کسی طرح کے حقوق انسانی کی کوئی گزر ہی نہیں ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ ایک قائلی دہشت گرد راج کا دوسرا نام طالبان ہے۔


لیکن یہ طالبان پھر واپس آئے کیسے! سچ پوچھیے تو ان کی واپسی امریکہ کی مہربانی ہے۔ جی، وہی امریکہ جس نے 11/9 کے بعد انہی طالبان کو افغانستان میں اقتدار سے چلتا کیا تھا اور وہاں اپنی فوج تعینات کر دی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں، دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے عراق میں صدام حسین کو ہٹایا گیا۔ آخر راتوں رات اسی افغانستان سے اپنی فوج ہٹا کر اسی امریکہ نے پھر سے اس ملک کو طالبانی دہشت گردوں کے حوالے کر دنیا میں دہشت گردی کو پھر سے نئی جان دے دی۔ ایک بار پھر سے افغانستان پر پاکستانی دہشت گردانہ سیاست کا پرچم لہرا رہا ہے۔ لیکن اس طالبانی تبدیلی سے ہمارے لیے کیا سبق ہے! سیدھی سی بات ہے کہ امریکہ نے اپنے مفاد کے آگے اپنے کسی ساتھی کی ایک نہیں سنی۔ وہ ہندوستان جو اب خارجہ پالیسی میں صرف امریکہ کا دَم بھرتا ہے، وہ منھ تاکتا رہا اور امریکی فوج راتوں رات افغانستان چھوڑ کر چل دیے۔ ہندوستان کے دور اندیش افراد، ملک کی تعمیر کرنے والے لیڈران پہلے سے اس بات کو سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ایک ایسی خارجہ پالیسی کو بنیاد بنایا تھا جس میں ہندوستان اپنے مفاد کو کسی ایک ملک کی جھولی میں نہیں ڈالے گا۔ لیکن مودی جی کے لیے امریکہ ہی سب کچھ ہے۔ ہم ہندوستانی اسی بے وقوفی کا انعام افغانستان میں پا رہے ہیں۔ آگے دیکھیے بی جے پی کی یہ خارجہ پالیسی کیا کیا رنگ دکھاتی ہے۔ اور تو کچھ نہیں، ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے امریکی مفادات تو علاقے میں محفوظ رہیں گے، لیکن ہندوستان کو افغانستان جیسی ناکامیاں ہی ہاتھ لگیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 Sep 2021, 9:11 PM