یوم پیدائش پر خاص: مولانا آزاد کی یاد میں... سہیل انجم

مولانا آزاد کے بارے میں بے شمار کتابیں تصنیف کی گئیں اور لاتعداد مضامین قلمبند کیے گئے ہیں۔ ان کے مداحوں میں تمام تر شعبہ ہائے حیات کی سرکردہ شخصیات شامل رہی ہیں۔

By سہیل انجم

مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت ایسی پرکشش اور جاذبِ نظر ہے کہ کوئی بھی اہلِ ذوق اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس شخصیت کے اندر جانے کتنے پہلو پوشیدہ ہیں کہ ایک پر نظر ڈالو تو دوسرا دعوت نظارہ دینے لگتا ہے اور کوئی بھی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں زبردست چارمنگ نہ ہو۔ ان کی عوامی زندگی میں بھی بڑی کشش ہے اور علمی زندگی میں بھی۔ ان کی تصنیفات میں اس قدر علم کا دریا موجزن ہے کہ اگر کسی نے ان کی کسی کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو وہ ساحل پر کھڑے ہوکر تماشائی بنا نہیں رہ سکتا۔ اس کا ذوق وشوق اسے مجبور کرے گا کہ وہ اس دریا کی تہوں میںاتر جائے اور علم وعرفان کے موتی نکال لائے۔

مولانا آزاد کے بارے میں بے شمار کتابیں تصنیف کی گئیں اور لاتعداد مضامین قلمبند کیے گئے ہیں۔ ان کے مداحوں میں تمام تر شعبہ ہائے حیات کی سرکردہ شخصیات شامل رہی ہیں۔ مولانا آزاد پر شورش کاشمیری کی کتاب ”ابوالکلام آزاد“ انتہائی معرکے کی ہے جس میں انھوں نے ایک عقید تمند کی حیثیت سے مولانا کے سفر حیات پر انتہائی دلچسپ انداز میں اور سفر آخرت پر انتہائی دلسوزی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ان کی پوری کتاب مطالعے سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت سے مصنفوں نے ان کے تعلیمی نظریات کو موضوع بنایا ہے اور ساہتیہ اکادمی، للت کلا اکادمی اور ان کے قائم کردہ دیگر تعلیمی اداروں کے حوالے سے ان کے افکار و نظریات کا جائزہ لیا ہے۔

صحافت میں ان کا ایک بہت بلند مقام ہے۔ ان کے ہفتہ وار اخبار ”الہلال“ کی خدمات کو زمانہ فراموش نہیں کرسکتا۔ آج جبکہ صحافت نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے پھر بھی اس کی گرد پا کو بھی نہیں پہنچ سکی ہے۔ وہ آج بھی اردو صحافت کے سفر میں ایک سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ 6 سال کے غور و خوض کے بعد انھوں نے 13 جولائی 1912 کو الہلال کا پہلا شمارہ شائع کیا تھا۔

حکومت ا س پر پابندی لگانے کے بہانے تلاش کرتی رہی۔ بالآخر جب انگریزی روزنامہ ”پانئیر“ الٰہ آباد نے اس کے خلاف ایک بہت سخت مضمون لکھا تو حکومت بنگال نے الہلال کی پہلے والی دو ہزار کی ضمانت ضبط کر لی اور اس کا مشترکہ شمارہ بھی ضبط کر لیا۔ اس کے علاوہ مزید دس ہزار کی ضمانت طلب کی گئی جو مولانا کی استطاعت سے کہیں زیادہ تھی۔ لہٰذا انھوں نے پرچہ بند کر دیا۔ سال بھر کے التوا کے بعد انھوں نے 12 نومبر 1915ءکو دوسرا پرچہ ”البلاغ“ کے نام سے جاری کیا۔ صرف نام کا فرق تھا ورنہ وہ الہلال کا نقش ثانی تھا۔

الہلال نے بڑے بڑے ذی علم اور قدآور حضرات کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کہا کرتے تھے کہ میں الہلال کے مطالعے کے سبب خارزارِ سیاست میں داخل ہوا۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کہتے ہیں کہ سیاست کا چسکہ مجھے الہلال نے ڈالا۔ علامہ انور شاہ کشمیری کے مطابق ابوالکلام نے الہلال کا صور پھونک کر ہم سب کو جگایا ۔ قاضی عبد الغفار کا طرزِ تحریر اپنا تھا لیکن حسنِ تحریر الہلال کا تھا۔ اپنے دور کے عظیم خطیب سید عطاءاللہ شاہ بخاری کا اعتراف ہے کہ الہلال نے مجھے خطابت سکھائی، سیاست پڑھائی اور زبان و بیان کی ندرت بخشی۔ الہلال نہ ہوتا تو جانے کب تک ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی زندگی میں خلاءرہتا۔

علامہ نیاز فتح پوری نے لکھا کہ مولانا آزاد نے الہلال جاری کیا اوراس شان کے ساتھ کہ صحافت کا تمام اگلا پچھلا تصور ہمارے ذہن سے محو ہوگیااور ہم سوچنے لگے کہ کیایہ آواز ہماری ہی دنیا کے کسی انسان کی ہے۔ کیایہ زبان ہمارے ہی ابنائے جنس میں سے کسی فرد کی زبان ہے۔

ڈاکٹر طٰہٰ حسن کے مطابق مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت خود ان کی اپنی صحافت تھی جسے انھوںنے ایجاد کیا تھا اورجوان ہی کہ ساتھ ختم ہوگئی۔

شورش کاشمیری نے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنی صحافتی زندگی میں کسی بھی شخصیت کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ کبھی ان کی زبان یا قلم سے ایسا فقرہ نہیں نکلا جوذاتیات سے آلودہ ہو۔ ان کا دامن تمام عمر ایسی آلائشوں سے پاک رہا۔

رشید احمد صدیقی کے بقول میںنہ مولانا آزاد کو متداول معنوں میں صحافی سمجھتا ہوں اورنہ الہلال والبلاغ کو صرف اخبار۔ مولانا کسی مسئلے پرنہ سرسری طور سے غور کرتے تھے نہ اظہار خیال۔ بلکہ اس بات کا التزام رکھتے تھے کہ جوبات کہی جائے وہ مسلّمات کی روشنی کی تاب لاسکے۔ کسی بڑی حقیقت سے رشتہ رکھتی ہو یا علمی وادبی معیار پرصحیح اترے۔

مالک رام کے مطابق مولانا آزاد نے صحافت کو کلاسک کا درجہ عطا کیا۔ ان کی تحریروں، تقریروں اور ان کے سراپا کا جب کبھی خیال آتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ازمنہ قدیم کے کئی رزمیہ نگار مصروف کار ہوں۔ اپنے زمانے اور اپنے دیار میں مولاناآزاد یونانی دیوتاﺅں سے کم نہ تھے۔ عمر بھر مولانا آزا دکا فیصلہ اور عمل ایک ہی رہا۔ انھوں نے 1912 میں جس راہ پر قدم رکھا تھا 1958 میں اپنی وفات تک اس سے سرمو انحراف نہیں کیا۔ اس سفر حیات میں انھیں اپنوں سے اور غیروں سے کیا کچھ نہیں سننا پڑا۔ لیکن ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔

اس سے قبل مولانا آزاد نے لسان الصدق جاری کیا تھا اور اس نے بھی علمی شخصیات کو اپنے قارئین کے حلقوں میں شامل کر لیا تھا۔ جب یہ ماہنامہ جاری ہوا تو مولانا کی عمر پندرہ برس سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ اس کے مضامین میں لہجے کی متانت اور اسلوب کی ثقاہت سے بیشتر پڑھنے والوں کو خیال ہوا کہ مدیر کوئی معمر سالخوردہ اور تجربہ کار بزرگ ہےں۔ انجمن حمایت اسلام لاہور اس دور کا مشہور ادارہ تھا۔ ”لسان الصدق“ کے مضامین کے معیار اور خطیبانہ انداز نے انجمن حمایت اسلام کے اصحاب مجاز کو اتنا متاثر کیا کہ انھوںنے اپنے1904ءکے سالانہ جلسے کے لیے انھیں لاہور آنے اور اجلاس کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔

انھوں نے خیال کیاہوگا کہ حضرت مدیر کوئی عمر رسیدہ عالم دین بزرگ ہیں۔ تصور کیاجاسکتا ہے کہ جب ابوالکلام آزادکی شکل میں ایک پندرہ بیس سال کا بے ریش لڑکا ان کے سامنے پیش ہوا توان پر کیا گزری ہوگی۔ اگلے دن مولانا آزاد کی تقریر سے انھیں مایوسی نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس سے اگلے دن ان سے پھر تقریر کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ان کی تقریر کا موضوع تھا ”تبلیغ اسلام کا طریق کار“۔

اسی موقع پر مولاناآزادکی پہلی ملاقات مولانا حالی سے ہوئی۔ اس کا قصہ بڑا پُرلطف ہے۔ مولانا آزاد انجمن کے اجلاس شروع ہونے سے ایک دن پہلے لاہور پہنچ گئے تھے۔ اسی دن ان کی ملاقات مولوی وحید الدین سلیم پانی پتی سے ہوئی۔ سلیم کو جب معلوم ہوا کہ یہی ”لسان الصدق“ کے مدیر شہیر ہیں توانھوں نے بجا طورپر اسے عجائب عالم میں سے خیال کیا۔

وہ انھیں مولانا حالی کے پاس لے گئے جو جلسے میں شرکت کی غرض سے آئے ہوئے تھے اور دوسری جگہ کسی دوست کے ہاں مقیم تھے۔ جب سلیم مولانا آزاد کو ساتھ لیے پہنچے تو تعارف سے پہلے انھوںنے حالی سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں ان کی عمر کیا ہوگی؟ حالی نے تامل سے جواب دیا ابھی بہت کم سن ہیں۔ اس پر سلیم نے اصرار کیا کہ نہیں فرمائیے۔ آپ کے خیال میں کیا عمر ہوگی؟ بالآخر مولانا حالی نے کہا ”یہی پندرہ سولہ سال کی ہوگی“۔ اب سلیم نے انھیں بتایا یہی ”لسان الصدق“ کے ایڈیٹر ہیں۔

یہ پرچہ مولاناحالی کی نظر سے بھی گزرتا تھا۔اور وہ اس کے مضامین کے مدّاح تھے۔ ساری دنیا کی طرح وہ بھی یہی گمان کرتے تھے کہ رسالے کے ایڈیٹر کوئی تجربہ کارعالم صحافی ہوںگے۔ یہ جان کر انھیں بہت تعجب ہوا کہ یہ صاحبزادے اس ماہنا مے کے ایڈیٹر ہیں۔اس دن جو تعلقات دونوں میں قائم ہوئے امتداد زمانہ سے ان میں استواری آئی اور ایک دوسرے کے متعلق عزت اور محبت کے جذبات میں اضافہ ہوتا گیا۔

علامہ شبلی سے ان کی پہلی ملاقات بھی بڑی دلچسپ رہی۔ جب انھوں نے بتایا کہ وہ مولانا ابوالکلام آزاد ہیں تو شبلی نے ان کی صورت دیکھ کر کہا کہ اچھا اچھا آپ مولانا آزاد کے صاحبزادے ہیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ نہیں میں ہی آزاد ہوں۔ ان کو یقین نہیں آرہا تھا مگر یقین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بالآخر علامہ شبلی نے مولانا آزاد کو لکھنو بلا کر ماہنامہ الندوہ کا ایڈیٹر مقرر کر دیا۔

مولانا سیاست داں سے کہیں زیادہ ایک علمی آدمی تھے۔ وہ متعدد اسلوب تحریر کے مالک ہیں۔ وہ ”الہلال“ اور ”البلاغ“ میںمجتہدانہ اسلوب اختیار کرتے ہیں اور ”ترجمان القرآن“ میں خطیبانہ ۔ جبکہ ”تذکرہ“ میں ایک مورخ کی مانند واقعات نگاری کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطوط کے مجموعہ ”غبار خاطر“ میں جس گل افشانی گفتار کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔

مولانا آزاد کی بہت سی قیمتی تحریریں گوشہ تنہائی کے بطن سے پیدا ہوئی ہیں۔ وہ گوشہ ¿ تنہائی خواہ جیل کی کال کوٹھری ہو یا پھر شہر بدرکے سرکاری حکم سے پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ۔ بعض اوقات مولانا کے قلم کو بس ایک مہمیز کی ضرورت پڑتی تھی اور جب وہ چل پڑتا تھا تو وہ خود اشہبِ قلم کی باگ کھینچ نہیں پاتے تھے۔ وہ اپنے قلم کو شتر بے مہار کی مانند چھوڑ دیتے اور پھر ایک ایسی تحریر منظر عام پر آجاتی جو شہ پارہ کہلاتی۔

اسی کے ساتھ ایسا بھی ہوا ہے کہ مولانا نے بہت سی چیزیں اس لیے نہیں لکھی تھیں کہ انہیں کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔ لیکن وہ کتابی صورت میں جلوہ گر ہوئیں اور پوری علمی دنیا سے داد وتحسین کی حقدار بنیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ انہوں نے کسی کی بے انتہا فرمائش پر کچھ لکھا اور یہ سوچ کر لکھا کہ اسے زیور طباعت سے آراستہ نہیں ہونا ہے لیکن ایسی چیزیں بھی کتابی صورت میں سامنے آئیں او رجب علم نواز حلقوں میں پہنچیں تو دھوم مچ گئی۔

”تذکرہ“ اور ”غبار خاطر“ دو ایسی ہی قابل ذکرکتابیں ہیں۔ ثانی الذکر کتاب ایسے خطوط کا مجموعہ ہے جو طباعت کے بعد مکتوب الیہ تک پہنچے اور اول الذکر ان کے خاندان کا ایسا تذکرہ ہے جس کو شائع کرانے کے لیے مولانا آزاد تیار نہ تھے۔ لیکن ان کے بہت گہرے دوست فضل الدین احمد نے جن کی بے انتہا فرمائش پر مولانا نے ”تذکرہ“ تصنیف کیا تھا، بالآخر اسے کتابی پیرہن پہنا ہی دیا۔

مولانا نے اپنی آپ بیتی لکھی تھی جو ”آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی “ کے نام سے ان کے انتقال کے بعد 1958ءمیں شائع ہوئی۔

مولانا کا اسلوب بیان بعض اوقات بڑا دلچسپ ہو جایا کرتا تھا۔ خطوط کے مجموعہ ”غبار خاطر“ کے ایک خط میں وہ بہار کا ذکر کرتے ہیں اور مصورانہ انداز میں پھولوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا، کوئی نیلم کی پیالی تھی، کسی پر گنگا جمنا کی قلمکاری کی گئی تھی، کسی پر چھینٹ کی طرح رنگ برنگ کی چھپائی ہو رہی تھی، بعض پھولوں پر رنگ کی بوندیں اس طرح پڑ گئی تھیں کہ خیال ہوتا تھا ، صناع ِقدرت کے مو قلم میں رنگ زیادہ بھر گیا ہوگا، صاف کرنے کے لیے جھٹکنا پڑا اور اس کی چھینٹیں قبائے گل کے دامن پر پڑ گئیں“۔

انھوں نے ایک خط میں چڑیا چڑے کی کہانی بیان کی ہے۔ ایک گوریّے کے ذکر میں ان کی نثر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

”تیسرے دن صبح کو ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ دھوپ کی ایک لکیر کمرہ کے اندر دور تک چلی گئی تھی۔ یہ اس میں جاکر کھڑا ہوگیا۔ پر گرے ہوئے، پاوں مڑے ہوئے، آنکھیں حسب معمول بند تھیں۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ یکایک آنکھیں کھول کر ایک جھرجھری سی لے رہا ہے۔ پھر گردن آگے کرکے فضا کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر گرے ہوئے پروں کو سکیڑ کر ایک دو مرتبہ کھولا بند کیااور پھر جو ایک جست لگا کر اڑا تو ایک دفع تیر کی طرح میدان میں جا پہنچا او ر پھر ہوائی کی طرح فضاو ¿ں میں اڑ کر نظروں سے غائب ہو گیا“۔

اب یہاں مطلب کی بات آتی ہے۔ لکھتے ہیں:

”دراصل یہ کچھ نہ تھا، زندگی کی کرشمہ سازیوں کا ایک معمولی سا تماشہ تھا جو ہمیشہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا رہتا ہے مگر ہم اسے سمجھنا نہیں چاہتے....جوں ہی اس کی خود شناسی جاگ اٹھی اور اسے اس حقیقت کا عرفان حاصل ہو گیا کہ میں اڑنے والا پرندہ ہوں، اچانک قالب بے جان کی ہر چیز ازسر نو جاندار بن گئی“۔

مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی مولانا آزاد کے 38 سالہ رفیق رہے ہیں۔ وہ مولانا کے رفیق جیل تھے۔ دونوں میں بڑی قربت تھی۔ دوستی تھی اور برادرانہ تعلق تھا۔ انھوں نے مولانا آزاد کے بارے میں اپنی کتاب ”ذکر آزاد“ میں لکھا ہے کہ مولانا سے میری رفاقت کی عمر 38 سال ہے۔ میں تقریباً دس برس تو خود مولانا کے گھر میں رہا۔ خلوت میں رہا جلوت میں رہا۔ سفر میں رفاقت کی۔ جیل میں ساتھ ہوا۔ ان کے اخبار ایڈٹ کرنے کی وجہ سے وقت بے وقت ملنا جلنا ہوتا تھا۔ اس لیے ہر رنگ میں ہر حال میں انھیں دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ انہی تعلقات کی بنیاد پر احباب کا اصرار ہوا کہ مولانا کے سلسلے میں کوئی کتاب لکھوں۔ لیکن ان کی جدائی سے ایسا دھکا لگا ہے کہ ابھی تک دل و دماغ قابو میں نہیں۔ مولانا کی شخصیت بڑی ہمہ گیر تھی، محرم اسرار دین تھے، مفسر قرآن تھے، محدث تھے، فقیہ تھے، فلسفی تھے، مورخ تھے، ادیب تھے، طبیب تھے، انشا پرداز تھے، اخبار نویس تھے، سیاسی مدبر تھے، قومی لیڈر تھے، مجاہد حریت تھے:

ہے رنگِ لالہ و گل و نسترن جدا جدا

آخر میں مولانا آزاد کے ساتھ مولانا ملیح آبادی کا شوخیوں سے پُر ایک مکالمہ سن لیجیے:

مولانا ملیح آبادی نے خود لکھا ہے کہ مجھے کلکتہ آئے ہوئے تھوڑے دن ہوئے تھے کہ مسجد ناخدا میں مولانا آزاد تقریر کرنے کے لیے گئے۔ میں ساتھ تھا۔ سیڑھیوں پر جوتے اتار کر وہ تو آگے بڑھ گئے اور میں نے ان کے جوتے اٹھا لیے۔ واپسی پر قاعدے سے ان کے سامنے رکھ دیے۔ مولانا کچھ نہیں بولے۔ ٹیکسی میں بھی دیر تک گم صم رہے۔ اس کے بعد کی گفتگو ملاحظہ فرمائیں:

مولانا: مولوی صاحب یہ آپ نے کیا کیا؟

میں: وہی جو میں نے کیا۔

مولانا: مجھے سخت اذیت ہوئی۔

میں: اذیت تو ہوئی ہوگی۔

مولانا: میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔

میں: آپ کو میری عزت کرنا ہی چاہیے۔

مولانا: آپ کو نہیں چاہیے کہ مجھے تکلیف دیں۔

میں: چاہیے تو نہیں مگر تکلیف دینے میں مجھے لطف آتا ہے۔

مولانا: آئندہ پرہیز کیجیے۔

میں: پرہیزگاری میری وضع نہیں۔

مولانا نے منہ گھما کر مجھے غور سے دیکھا اور فرمایا آپ میں شوخی بہت ہے۔

میں: عرض کیا جی ہاں۔

دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں

دوچار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں

مولانا: مگر آپ شعر ناموزوں پڑھتے ہیں۔

میں: یہی تو کمال ہے۔

(مولانا آزاد پر کچھ مختصر لکھنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور یہ فن ہم جیسے کم علموں کو نہیں آتا۔ اس لیے بہت کوشش کرکے مضمون کو مختصر کیا ہے پھر بھی طویل ہو گیا ہے۔ مگر اس طوالت میں بھی ایک لطف ہے، ایک مزا ہے۔ کیونکہ ذکر مولانا آزاد جو ٹھہرا۔)