بیتے دنوں کی بات: ٹیلیفون اب صرف بات کرنے تک محدود نہیں رہ گیا

اگر تاریخ میں جائیں تو پہلی مرتبہ فون کا استعمال ان بچوں کی طرح ہی ہوا تھا جو بچے پالش کی خالی ڈبی کے دو حصوں کو استعمال کر کے کھیلتے تھے

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>

Getty Images

user

سید خرم رضا

پالش کی ڈبی میں جب پالش ختم ہو جاتی تھی تو بچوں کے مزے آ جاتے تھے کیونکہ وہ اس ڈبی کے دونوں حصوں کے مالک ہو جاتے تھے اور وہ اس کے دونوں حصوں سے یا تو ترازو بناتے تھے یا پھر ٹیلیفون۔ ترازو بنانے میں تو ایک لکڑی درکار ہوتی تھی اور ڈبی کے دونوں حصوں میں تین چھید کر کے تین دھاگوں کے ذریعہ اس ڈبی کے دونوں حصوں کو ایک لکڑی میں ٹانگا جاتا تھا لیکن ٹیلیفون کی نقل کے لئے انہیں زیادہ کچھ نہیں کرنا ہوتا تھا ، بس بیچ میں ایک چھید کرکے اس میں لمبا سا دھگا باندھ کر ڈبی کے دوسرے حصہ میں ایسے ہی بیچ میں چھید کر کے دھاگا ڈال دیا جاتا تھا اور دھاگا اس میں رکا رہے اس کے لئے جدھر سے اسے روکنا ہوتا تھا اس میں اتنی موٹی گانٹھ باندھ دی جاتی تھی تاکہ دھاگا اس چھید سے نکل نہ پائے۔ پھر ڈبی کا ایک حصہ ایک بچے کے کان میں اور دوسرا حصہ دوسرے بچے کے ہونٹوں پر ۔ بہرحال یہ ٹیلیفون کی نقل بچے پالش کی ڈبی کے ذریعہ اپنا کھلونا بنا کر مستی کیا کرتے تھے۔

آج  سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ بچے ایسے کھلونوں سے نہیں کھیلتے بلکہ وہ سچ مچ کے ٹیلیفوں  کے ذریعہ کھیلتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کو چند ماہ ہی ہوتے ہیں کہ وہ  موبائل سے اپنی عمر کے حساب سے واقف ہو جاتا ہے  کیونکہ خود والدین موبائل کا ہر وقت استعمال کرتے ہیں اور شعوری طور پر یا لاشعوری طور  پر وہ بچوں کو کھانا کھاتے وقت، روتے وقت یا سوتے وقت جو خود مائیں اور دادی وغیرہ کرتی تھیں وہ کام اب موبائل سے والدہ یا والد کرا دیتے ہیں ۔ کھانے کے وقت گانا سنانا ہو، روتے ہوئے بچے کو چپ کرانا ہو یا سونے کے لئے لوری سنانا ہو تو اس کے لئے وہ موبائل کا ہی استعمال کرتے ہیں اس لئے بچہ بھی چند ماہ بعد ہی اس کو سمجھنے لگتا ہے اور پھر اس کے بغیر کچھ کرتا بھی نہیں ہے۔ 


ویسے  تو ٹیلیفون کی تاریخ 1876 سے شروع  ہوتی ہے لیکن  ایک زمانہ تھا جب ٹیلیفون کا نمبر بو لکر یا  نام اور نمبر دباکر نہیں ملتا تھا بلکہ پہلے تو ایکسچینج جا کر خاص نام اور پھر نمبر کے ذریعہ ملا کرتا تھا۔ موبائل کی ایجاد سے پہلے ایک ٹیلیفون ہوا کرتا تھا جس میں دو یعنی ا یک سننے اور ایک بولنے  کا گول اسپیکر ہوا کرتا تھا جو بیچ میں پکڑنے اور رکھنے کے لئے ہینڈل سے جڑ ا ہوا کرتا تھا ۔ یعنی یہ ریسیور ٹیلیفون کے اوپر رکھا ہوا کرتا تھا اور اس کے ٹیلیفون پر رکھے جانے سے  دو بٹن دب جاتے تھے جن کے دبنے سے فون کٹ جاتا تھا۔ اس ہینڈل یا ریسیور کے نیچے اسی فون میں ایک گول چکری ہوا کرتی تھی جس میں زیرو سے لے کر نو نمبر کے ہندسو تک چھوٹے چھوٹے گول خانے ہوا کرتے تھے جن میں انگلی ڈال کر ان کو  مطلوبہ نمبر کے لئے گھمایا جاتا تھا ۔ جس سے بھی بات کرنی ہوتی تھی اس کا ایک نمبر ہوتا تھا جو اس فون میں انگلی ڈال کر گھمایا جاتا تھا۔ اس کے بعد اس میں بٹن دبانے اور ہینڈس فری والی سہولتوں والے فون آئے اور اس میں  مستقل ترقی ہو رہی ہے ۔ اس ترقی میں پوری دنیا  اب انسان کی مٹھی یعنی فون میں سمٹ گئی ہے۔ اب پوری دنیا کی معلومات اس چھوٹے سے فون میں موجود ہے۔

اگر تاریخ میں جائیں تو پہلی مرتبہ فون کا استعمال ان بچوں کی طرح ہی ہوا  تھا جو بچے پالش کی خالی ڈبی کے دو حصوں کو استعمال کر کے  کھیلتے تھے۔ ایلگزانڈر گراہم بیل نے 1876ء میں ٹیلی فون کی ایجاد مکمل کی جس سے انسانی آواز کو برقی لہروں کی مدد سے کرہ ارض کے گوشے گوشے میں پہنچانے کا انتظام ہوگیا۔ اس سے پیشتر بھی بہت سے موجد ٹیلی فون کی ایجاد کے لیے کوششیں کرچکے تھے،لیکن کسی کو پوری کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی۔گراہم بیل نے جس اصول پر کام کیا،وہ بہت سادہ اور واضح تھا۔ اس نے سوچا کہ باہر جوآواز پیدا ہوتی ہے، وہ ہواکی لہروں کے ذریعے سے کان میں پہنچتی ہے اور کان کی جھلی میں حرکت پیدا کردیتی ہے۔ یہی حرکت دماغ تک چلی جاتی ہے اور انسان اندازہ کرلیتاہے کہ آواز کیسی ہے یا کیا کہا گیاہے اگر جھلی جیسی دوچیزیں لے کر فاصلے پر رکھی جائیں اور انھیں بجلی کے تار کے ذریعے سے ملا کر ایک کی آوازدوسری تک پہنچائی جائے توکوئی وجہ نہیں کہ اس میں حرکت پیدا نہ ہو۔چنانچہ اسی اصول پر کام کرتے ہوئے اس نے لوہے کی دوپتلی سی پتریاں لیں اور اپنے تجربے میں کامیاب ہوگیا۔10مارچ 1876ء کو گراہم بیل نے سب سے پہلا پیغام اپنے رفیق مسٹرواٹسن کو پہنچایا۔ واٹسن سہ منزلہ مکان کے سب سے نچلے کمرے میں مصروف تھا۔ اردگرد مشینوں کی گڑگڑاہٹ تھی،جس میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔عین اس حالت میں گریہم بیل کی آواز گونجی:’’مسٹر واٹسن! یہاں تشریف لائیے، مجھے آپ سے کام ہے۔‘‘


ٹیلیفون کی ایجاد کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی ایجاد کسی اور چیز پر کام کرنے کے نتیجے میں ہوئی۔آپ  کویہ پڑھ کر حیرانی ہو گی کہ گراہم بیل کا اصل مقصد ٹیلیفون ایجاد کرنا نہ تھا، بلکہ وہ اور اس کے والد بہروں اور گونگوں کی تعلیم میں لگے ہوئے تھے۔ گراہم بیل چاہتاتھا کہ آوازوں کو حرکات میں تبدیل کردے، تاکہ آوازیں اگر بہروں کے کانوں میں نہیں پہنچ سکتیں تو آنکھوں کے ذریعے سے انھیں دکھا کر اصلیت تک پہنچنے کے قابل بنا دیا جائے۔اس کام سے اس کی دلچسپی برابر قائم رہی۔ چنانچہ جب حکومت فرانس سے ٹیلی فون کی ایجاد پر اسے پچاس ہزار فرانک کا انعام دیا تو اس نے یہ رقم اس تجربہ گاہ کے حوالے کردی جو بہروں کی سہولت کے لیے نئی نئی تدبیروں کی چھان بین میں مصروف تھی۔

بہرحال یہ سب بیتے دنوں کی باتیں ہیں کہ ٹیلیفون کیسے ایجاد  ہوا اور اس نے کیا کیا تبدیلیاں اختیار کیں لیکن آج ٹیلیفون سب کی ضرورت ہے اور اس سے بچنا اب ممکن نہیں ہے  کیونکہ چاہے تعلیم ہو ، لین دین ہو ، معلومات ہو یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو بغیر ٹیلیفون کے ادھورا لگتا ہے یعنی ٹیلیفون اب صرف بات کرنے کا اعلی نہیں رہ گیا بلکہ اب زندگی کا ایک لازمی جز ہو گیا ہے جس کے ادھر ادھر ہوتے ہی انسان بن پانی کے مچھلی جیسا ہو جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جس کے فون ہوا کرتا تھا یا  اس کے گھر آیا  کرتا تھا تو اس کو بڑا آدمی سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔