یو اے پی اے، ضمانت اور سپریم کورٹ کی خود اصلاح...سنجے ہیگڑے
یو اے پی اے کے تحت ضمانت کے معاملات میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت آئینی آزادی اور ٹرائل میں تاخیر کے سوال پر اپنے مؤقف کا ازسر نو جائزہ لے رہی ہے

اس سال جنوری میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ مئی میں اسی عدالت نے سید افتخار اندرابی کو ضمانت دے دی۔ دونوں معاملات میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمات قائم تھے۔ دونوں افراد پانچ برس سے زیادہ عرصے سے مقدمے کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے جیل میں رہ چکے تھے۔ ایک ہی قانون، ایک جیسی طویل حراست لیکن عدالتی تشریح مختلف۔ ان چند مہینوں کے دوران سامنے آنے والی تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ عدالتیں بعض اوقات اپنے سابق قانونی رخ پر نظر ثانی بھی کرتی ہیں۔
اس پوری بحث کا مرکز یو اے پی اے کی دفعہ 43-ڈی(5) ہے۔ اس دفعہ کے مطابق اگر ابتدائی طور پر عدالت کو یہ محسوس ہو کہ تفتیشی ایجنسی کے الزامات درست معلوم ہوتے ہیں تو ضمانت دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ قانون کی سادہ تشریح یہی بنتی ہے کہ عدالت ابتدائی مرحلے پر تفتیشی ادارے کے مؤقف کو اہمیت دے اور اسی بنیاد پر آزادی محدود کر دے۔
کئی برس تک اس قانون کی تشریح دو مختلف قانونی زاویوں کے درمیان گھومتی رہی۔ سنہ 2019 میں سپریم کورٹ نے ظہور احمد وٹالی مقدمے میں سخت مؤقف اختیار کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر شواہد کی باریک جانچ مناسب نہیں اور ابتدائی طور پر اگر الزامات قابل اعتبار دکھائی دیں تو ضمانت نہ دی جائے۔
پھر 2021 میں کے اے نجیب مقدمے میں تین رکنی بنچ نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر مقدمے کا اختتام قریب نہ ہو اور کسی شخص نے پہلے ہی طویل عرصہ جیل میں گزار دیا ہو تو یو اے پی اے کی سخت شرائط آئین کے آرٹیکل 21 کے سامنے نرم پڑ سکتی ہیں۔ آرٹیکل 21 ہر شہری کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے۔
اس فیصلے نے ایک اہم اصول واضح کیا کہ آزادی بنیادی اصول ہے جبکہ طویل حراست معمول نہیں بن سکتی۔ اگر کسی شخص کا مقدمہ برسوں تک مکمل نہ ہو تو محض مقدمے کے نام پر غیر معینہ مدت تک قید مناسب نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کوئی قانون آئین سے بالاتر نہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ قانونی تشریح دوبارہ سخت رخ اختیار کرنے لگی۔ مختلف دو رکنی بنچوں نے کے اے نجیب فیصلے کو محدود دائرے میں دیکھنا شروع کیا جبکہ وٹالی فیصلے پر زیادہ زور دیا گیا۔ 2024 میں گرووندر سنگھ مقدمے کے بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ کئی معاملات میں کے اے نجیب فیصلے کی عملی اہمیت کم ہوتی دکھائی دی۔
اسی پس منظر میں جنوری 2026 میں دہلی فساد سازش معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے پانچ ملزمین، گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی۔ یہ افراد پانچ برس سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکے تھے۔
تاہم اسی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے انہیں سازش کے اہم کرداروں میں شمار کیا۔ عدالت نے کہا کہ محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا ایک سال گزرنے کے بعد وہ دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔
اس فیصلے میں ایک اہم قانونی بحث یہ تھی کہ عدالت نے کے اے نجیب فیصلے کو ایک محدود استثنا کے طور پر دیکھا، نہ کہ آئینی اصول کے طور پر۔ یوں دفعہ 43-ڈی(5) بنیادی اصول بن کر سامنے آئی جبکہ آرٹیکل 21 نسبتاً پس منظر میں دکھائی دیا۔
چند ماہ بعد جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ کے سامنے سید افتخار اندرابی کا معاملہ آیا۔ وہ جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں دیہی ترقی محکمہ کے ملازم اور ایک سیاسی کارکن تھے۔ جون 2020 میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر یو اے پی اے اور دیگر قوانین کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔
مئی 2026 تک وہ تقریباً چھ برس جیل میں گزار چکے تھے۔ مقدمے میں سیکڑوں گواہوں کے بیانات ابھی باقی تھے۔ ٹرائل جلد مکمل ہونے کا امکان نہیں تھا۔ عدالت نے انہیں ضمانت دے دی لیکن معاملہ صرف ایک ضمانت تک محدود نہیں رہا۔ فیصلے میں بنچ نے تفصیل سے بتایا کہ تین رکنی بنچ کے فیصلے کی قانونی اہمیت کو بعد کے کم تعداد والے عدالتی فیصلوں میں کس طرح محدود کیا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کے اے نجیب فیصلہ اب بھی قابل عمل قانونی اصول ہے۔ اگر کوئی کم تعداد والی بنچ اس سے اختلاف رکھتی ہے تو اسے خود تشریح بدلنے کے بجائے معاملہ بڑی بنچ کے سامنے بھیجنا چاہیے۔ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا یہی ہے۔
عدالت نے اس دوران سرکاری اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا۔ پارلیمان میں پیش معلومات کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان ملک بھر میں تقریباً دس ہزار پانچ سو افراد یو اے پی اے کے تحت گرفتار ہوئے جبکہ سزا پانے والوں کی تعداد صرف چند سو رہی۔ کئی علاقوں میں شرح سزا ایک فیصد سے بھی کم رہی۔
اس کے بعد عدالت نے غیر معمولی صاف گوئی کے ساتھ یہ وضاحت کی کہ کس طرح تین ججوں کی بنچ کے ایک فیصلے کی قانونی حیثیت کو کم تعداد والی بنچوں کے فیصلوں کے ذریعے خاموشی سے کمزور کیا جاتا رہا۔ فیصلے میں متعلقہ مقدمات کا نام لے کر ذکر کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ گرووندر مقدمے میں وٹالی فیصلے کی ایسی تشریح کی گئی جیسے نجیب کا فیصلہ آیا ہی نہ ہو۔ اسی طرح گلفشاں فاطمہ مقدمے، جس کا فیصلہ چار ماہ پہلے آیا تھا، نے نجیب فیصلے کی اہمیت کو تقریباً ایک حاشیے تک محدود کر دیا۔
عدالت کی دلیل بالکل واضح تھی۔ نجیب کا فیصلہ قانون تھا۔ یہ تین ججوں کی بنچ نے دیا تھا۔ اس لیے چھوٹی بنچوں پر اس کی پیروی لازم تھی۔ اگر وہ اس سے اتفاق نہیں کرتیں تو باوقار اور قانونی راستہ یہ تھا کہ معاملہ بڑی بنچ کو بھیج دیا جاتا۔ نجیب فیصلے پر عمل کرنے کا تاثر دیتے ہوئے درحقیقت اس کی نئی تشریح کر دینا عدالتی نظم و ضبط نہیں تھا، بلکہ کچھ اور تھا۔
اس کے بعد ججوں نے ایک اور غیر معمولی قدم اٹھایا۔ انہوں نے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ دسمبر 2025 میں وزارت داخلہ کے وزیر مملکت نے لوک سبھا میں کچھ اعداد و شمار پیش کیے تھے۔ ملک بھر میں 2019 سے 2023 کے درمیان یو اے پی اے کے تحت تقریباً 10 ہزار 500 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ صرف 335 افراد کو سزا سنائی گئی۔ سزا کی شرح دو سے چھ فیصد کے درمیان رہی۔ جموں و کشمیر میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم تھی۔ یعنی 100 میں سے 99 معاملات میں انجام بریت کی صورت میں نکلا۔
ججوں نے پھر وہ بنیادی سوال اٹھایا جو سب سے زیادہ اہم تھا۔ جب ایسے اعداد و شمار عدالت کے سامنے موجود ہوں تو کیا صرف سنگین الزامات کی بنیاد پر اندرابی جیسے شخص کو برسوں جیل میں رکھا جا سکتا ہے؟ عدالت نے اس سوال کا جواب انہیں ضمانت دے کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ اپنا پاسپورٹ جمع کرائیں، ہر پندرہ دن میں ایک بار ہندواڑہ پولیس اسٹیشن میں حاضری دیں، مقدمے میں تعاون کریں اور گواہوں پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالیں۔
فیصلے کے اختتام میں ایک ایسا پہلو بھی تھا جس نے اسے مزید اہم بنا دیا۔ جسٹس بھوئیاں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس حکم کی تیاری میں ان کی ساتھی جج جسٹس ناگرتنا کی قیمتی آرا شامل تھیں۔ ایسی عدالت میں جہاں باہمی اعتراف کم دیکھنے کو ملتا ہے، یہ جملہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔
تو اس پوری بحث سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اس سے دو اہم اصول سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ آئین صرف ایک نعرہ نہیں ہے۔ آرٹیکل 21 کسی قانون کے اوپر الگ سے معلق نہیں رہتا، بلکہ وہ اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یو اے پی اے کی دفعہ 43-ڈی(5) فوری اور منصفانہ ٹرائل کے حق کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کی تشریح آرٹیکل 21 کے ساتھ مل کر کی جانی چاہیے۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ عدالتی نظم و ضبط کی ایک واضح سمت ہوتی ہے۔ دو ججوں کی بنچ خاموشی کے ساتھ اس اصول کو تبدیل نہیں کر سکتی جسے تین ججوں کی بنچ طے کر چکی ہو۔ اختلاف کا درست راستہ یہ ہے کہ کھل کر اختلاف ظاہر کیا جائے اور معاملہ بڑی بنچ کو بھیجا جائے۔ مناسب طریقہ یہ نہیں کہ پرانے فیصلے کا حوالہ دیا جاتا رہے اور نئے فیصلے کو ایک غیر معمولی استثنا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔
عمر خالد اور شرجیل امام کے مقدمات اب بھی یو اے پی اے کے تحت ضمانت کے قانونی معیار سے متعلق بڑی بحث کے مرکز میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے سے جڑے اہم قانونی سوالات بڑی بنچ کو بھیج دیے ہیں، جہاں اس بات پر مزید وضاحت ہو سکتی ہے کہ سخت انسداد دہشت گردی قوانین اور شخصی آزادی کے آئینی حق کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔ جنوری سے مئی تک سامنے آنے والی عدالتی بحث نے کم از کم یہ ضرور دکھایا ہے کہ عدالتیں وقت کے ساتھ اپنے قانونی اصولوں اور تشریحات پر دوبارہ غور بھی کرتی ہیں اور ادارہ جاتی ارتقا کا عمل اسی طرح آگے بڑھتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
