جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

ایک سال قبل قومی آواز کے آن لائن ایڈیشن کا افتتاح کرتے موتی لال وورا

قومی آواز کی بہت چھوٹی سی ٹیم، دوست احباب اور قومی آواز کے خاندان میں شامل قارئین حضرات نے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے اس سفر کو آسان بنا دیا۔

’قومی آواز‘ آن لائن ایڈیشن کو آج پورا ایک سال ہو گیا ہے۔ اس کے لئے وہ تمام لوگ جو ایک سال کے اس مختصر سفر میں ’قومی آواز‘ خاندان کا حصہ بنے ہیں سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ یہ ایک سال کا سفر کئی نوعیت سے ماضی کی صحافتی زندگی سے جدا تھا۔ یہ وہ صحافت ہے جس میں ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو کچھ ہے اسکرین پر ہے۔ اس میں خبر کا رپورٹر، ایڈیٹر سے لے کر قاری تک پہنچنے کا وقفہ بہت مختصر، تیز اور چیلنجوں سے بھرا ہے۔ خبر پڑھنے کے لئے اب صبح کے اخبار اور چائے کی ضرورت نہیں، جب چاہا، جب میسج آیا یا جب فرصت ہوئی موبائل نکالا اور خبر دیکھ لی۔

اس نئے میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا کے اپنے تقاضے ہیں اور چیلنجز ہیں۔ بہترین ذرائع والے میڈیا گھرانوں کے پاس ایک پوری ٹیم ہے اس لئے ان سے خبروں کی رفتار میں مقابلہ کرتے ہوئے خود کو جدا رکھنا اور اپنے مخصوص قارئین کوخبر کے ہر پہلو سے روشناس کرانا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ’قومی آواز‘ کی بہت چھوٹی سی ٹیم، دوست احباب اور ’قومی آواز‘ کے خاندان میں شامل قارئین حضرات نے اس سفر کو آسان بنا دیا۔ ہم اس سے بھی منکر نہیں ہو سکتے کہ اس سفر میں مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی حکومت نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ اگر یہ حکومت ملک کے عوام کے لئے اچھا کام کرتی تو ہم ایک اشتہاری ایجنسی بن کر رہ جاتے لیکن اس حکومت کے عوام مخالف پالیسیوں اور بنیادی مسائل سے دوری نے ہمیں ایک تعمیری صحافت کرنے کا موقع دیا۔

اپنے ایک سال کے سفر میں ’قومی آواز‘ نے خبروں کو اپنے قارئین تک جلد از جلد پہنچانے کے ساتھ ساتھ یہ پوری کوشش کی کہ کہیں اردو اور ملت کے مسائل اس دوڑ کی نذر نہ ہو جائیں۔ ہم نے اس سفر میں اپنی ملی تنظیموں کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے مثبت تنقید بھی کی۔ ایسا کرتے ہوئے کچھ تنظیموں اور افراد کی دل آزاری بھی ہوئی مگر ’قومی آواز‘ کی ادارتی میٹنگوں میں ہمارے گروپ ایڈیٹر جناب ظفر آغا صاحب کی ایک ہی ہدایت رہتی تھی کہ تنقید برائے تنقید نہیں ہو نی چاہئے بلکہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے اور خبر میں حقیقت بیانی سے کام لینا ہوگا اپنے جذبات سے نہیں۔ اس دوران ہمارے کچھ قارئین حضرات نے ہمیں سنگھ کے ایجنٹ سے لے کر مسلم دشمن جیسے القاب سے بھی نوازا۔ لیکن ہماری ٹیم نے پوری بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دینے کے بجائے ہمیشہ اپنے اندر جھانک کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں ہم کچھ غلطی تو نہیں کر رہے ہیں، اللہ کا بڑا کرم ہے کے ’قومی آواز‘ کی ٹیم کا ضمیر بہت صاف ہے۔

اس بات کا ہم سب کو علم ہے کہ آج ملک میں اقتدار کی باگ ڈور ایسی تنظیم اور کچھ ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہے جن کی سوچ اصلی ہندوستان سے جدا نظر آتی ہے اس لئے ملک میں انتشار جیسی کیفیت اور عوام میں عجیب بے چینی ہے اور یہ صورتحال اپنے آپ میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

ملک میں گائے کے نام پر ہجومی تشدد (موب لنچنگ)، معاشی صورتحال کا خراب ہونا، بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی کا بڑھنا، سماج کے مختلف طبقوں میں خلیج پیدا ہونا یہ بہت سے مسائل میں سے چند مسائل ہیں جس کی وجہ سے ملک کے ذی شعور طبقہ میں ایک طرح کی مایوسی نظر آ رہی ہے۔ اس لئے ان حالات میں ’قومی آواز‘ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ تعمیری صحافت کرتے ہوئے مثبت تنقید کے سہارے ملک کی ترقی میں جو بھی کردار ادا کر سکتا ہے وہ کردار ادا کرے۔ اس کوشش میں ’قومی آواز‘ کے قارئین کی ذمہ دای بھی بڑھ جاتی ہے۔

اب چونکہ ’قومی آواز‘ کے قارئین نے ایک خاندان کی شکل اختیار کر لی ہے تو وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ ’قومی آواز‘ کبھی اپنے مقصد سے نہ ہٹے اور تیزی سے بڑھ رہے اپنے اس کنبہ کو اور بڑھائیں تاکہ ہماری بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔

حقیقت یہ ہے کہ پہلا سال جہاں اس نئے ڈیجیٹل میڈیا کو سمجھنے اور ’قومی آواز‘ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متعارف کرانے میں گزرا انشاء اللہ موجودہ سال اپنے قارئین کے مشوروں پر عمل کر کے کچھ نئے ادوار اور کھولنے ہیں۔ آئندہ سال 2019 چونکہ عام انتخابات کا سال بھی ہے اس لئے ہم سب کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جائیں گی اور ہماری کوشش رہے گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رائے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

اس ایک سال کے سفر میں قومی آواز کا ناقابل تلافی نقصان بھی ہوا ہے اس نے نایاب انسان، بہترین صحافی اور شفیق سرپرست کی شکل میں نیلابھ مشرا جیسی شخصیت کو کھویا ہے۔ اس سفر میں نیلابھ جی ہمیں بیچ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے لیکن ان کے دئیے ہوئے اصول ہمارے ساتھ ہیں جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔

آخر میں ’قومی آواز‘ کے سرپرست حضرات، گروپ ایڈیٹر، اپنے نیشنل ہیرالڈ اور نوجیون کے ساتھی، ’قومی آواز‘ کی ٹیم ، ’قومی آواز‘ کے قارئین اور ’قومی آواز‘ کے خیر خواہوں کا شکر گزار ہوں اور یہ امید کرتا ہوں کہ ہمارا آئندہ کا سفر ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول