گم نام مجاہد آزادی- قاضی محسن علی، یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیش کش

الٰہ آباد کے مجاہدین میں قاضی محسن علی صدر الصدور کا نام سرفہرست ہے، جب مولوی لیاقت علی مغل گورنر مقرر ہوئے تو محسن علی نے نظم ونسق قائم کرنے میں پوری مشقت کی اور انقلابیوں کو ایک دھاگے میں باندھا

خسرو باغ الہ آباد / تصویر شاہد صدیقی علیگ
خسرو باغ الہ آباد / تصویر شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

یہ امر روز اول کی روشن ہے کہ برطانوی نو آبادیاتی نظام کے خلاف 190 سالہ جدوجہد میں ارض ہند کی فضائیں مسلمانوں کی جاں نثاریوں سے معمور رہی ہیں، وطن عزیز کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے، جہاں ان کی قربانیوں کے نقش موجود نہ ہو۔ مسلمانوں نے عددی تناسب سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔

6 جون کا دن پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857 میں بہت اہمیت کا حامل ہے، اس دن ساکنین الٰہ آباد نے چھٹویں رجمنٹ کے سردار رام چندر اور سیف اللہ خاں میواتی کی رہنمائی میں انگریزوں کے خلاف طبل جنگ بجایا اور دیکھتے ہی دیکھتے خصوصاً دریاباد کے پٹھانوں، شادآباد، رسول پور کے میواتیوں کے ساتھ ساتھ الٰہ آباد کے بیشتر دیہاتوں کے زمیندار اور باشندگان بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔


پر گنہ چائل سرکشی کا مرکزی مقام بن گیا،جہاں کی پولیس نے بھی دلیران ہند کا پورا تعاون کیا۔ ڈبلو ٹی گروم لکھتا ہے کہ: ”ہم یہاں سپاہیوں، مسلمانوں، دیہاتیوں اور درحقیقت تمام خلقت سے گھرے ہوئے ہیں۔تمام علاقے مسلح ہوکر ہمارے خلاف کھڑ ے ہوئے ہیں۔“

الٰہ آباد کے جیالے مجاہدین میں قاضی محسن علی صدر الصدور کا نام سرفہرست ہے۔جن کی عمر اس وقت محض 26 برس تھی۔ جب 7 جون کو مرد مجاہدمولوی لیاقت علی نے انقلاب کی زمام سنبھالی اور مغل گورنر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری انجام دینے لگے توقاضی محسن علی نے شہر میں نظم ونسق قائم کرنے میں رات دن ایک کر دیا اور تمام انقلابیوں کو ایک دھاگے میں باندھنے کی پوری تگ و دو کی۔ انگریزی بہی خواہوں کی بدولت فرنگیوں نے الٰہ آباد کا چہار سو سے محاصرہ کرنا شروع کر دیا، مگر انقلابی بھی ہار کہاں ماننے والے تھے وہ اپنی بساط کے مطابق جواب دے رہے تھے۔


قاضی محسن علی نے تمام محاذوں پر اپنی شمشیر زنی کا مظاہرہ کیا۔ وہ 17 جون کو خسرو باغ کی آخری معرکہ آرائی میں شدید زخمی ہوگئے، جہاں سے ان کا وفاد خادم اپنی جان پر کھیل کر نکال کر لے گیا اور انہیں بخشی بازار کی پشتینی کوٹھی کے تہہ خانے میں چھپا دیا۔ جس کی خبر انگریزی مخبروں نے اپنے سفید فام آقاؤں کو بروقت پہنچائی۔ اطلاع ملتے ہی جابر انگریز حکام نے علاقہ کی گھیرا بندی کر لی اور معمولی مقابلہ زنی کے بعد زخمی قاضی محسن علی کو حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں جب انگریزی سپاہی گرفتار کر کے لے جا رہے تھے تو محلے کے نوعمر لڑکے اور بچے سڑکوں پہ نکل آئے جو انگریزوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ انگریزی سپاہیوں کے لاکھ دھمکانے کے باوجود جب وہ نہ رکے تو انہیں بھی گرفتار کر لیا، بعد ازیں انہیں چوک میں نیم کے درختوں پر پھانسی پر لٹکایا دیا گیا۔

تھامسن ایڈ ورڈ اس درد ناک اور دل خراش واقعہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ ”ایک موقع پر چند نوجوان لڑکوں کو محض اس بنا پر پھانسی کی سزاد ے دی گئی کہ انہوں نے غالباً تفنّن طبع کے طور پر باغیوں کی جھنڈیاں اٹھاتے ہوئے بازاروں میں منادی کی تھی۔ سزا ئے موت دینے والی عدالت کے ایک افسر نے پر نم آنکھوں سے کمانڈنگ افسر کے پاس جاکر درخواست کی کہ ان نابالغ مجرموں پر رحم کرکے پھانسی کی سزا کو تبدیل کردیا جائے،لیکن بے سود۔“


قاضی محسن علی کو نمائشی عدالتی چارہ جوئی کے بعد 20 جون 1857 کو تختہ دارکی سزا دے گئی لیکن پھانسی کے وقت فرزند ہند حراساں ہونے کے بجائے پرسکون تھے۔ انہوں نے آزادی کا نعر ہ بلند کرتے ہوئے خود پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈالا اور کلمہ طیب پڑھتے ہوئے مادر ہند پہ قربان ہوگئے، آج بھی محلہ قاضی گنج اوروہاں واقع قاضی جی کی مسجد ان کی عظیم قربانی کی گواہی پیش کررہی ہے تاہم ان کی بے لوث جاں فشانیوں پر تاریخ ہند کے صفحات خاموش ہیں جسے کھلی ناانصافی اور در رخی برتاؤ کہنا بے جا نہ ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔