قابلیت اور بہادری کی مثال دہلی پولیس کے سابق کمشنر ڈڈوال کا انتقال

دہلی پولیس کے دبنگ اور قابل کمشنر رہے یدھ بیر سنگھ ڈڈوال کا 22 ستمبر کی شب انتقال ہو گیا۔ آئی پی ایس کے 1974 بیچ کے افسر رہے یدھ بیر سنگھ ڈڈوال کی بیماری کی وجہ سے موت ہوئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اندر وششٹھ

دہلی پولیس میں گزشتہ کچھ سالوں سے کمشنر کے عہدہ پر ایسے آئی پی ایس افسر تعینات کیے جا رہے ہیں جو پیشہ ور طور پر کمزور اور ناقابل ثابت ہوتے ہیں ایسے کمشنر کی وجہ سے ہی نہ صرف دہلی پولیس کی بلکہ آئی پی ایس جیسے باوقار سروس کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا کہ کمشنر عہدہ پر قابل اور باصلاحیت آئی پی ایس بھی رہے تھے۔ جن کی قابلیت اور قائدانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیت کی آج بھی مثال دی جاتی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اگر دو تین بہترین کمشنروں کی گنتی کی جائے تو ان میں سے ایک یدھ بیر سنگھ ڈڈوال ہیں۔ حالانکہ کہا تو یہ تک جاتا ہے کہ یدھ بیر ڈڈوال کے بعد ایسا دوسرا کوئی کمشنر نہیں آیا جس کی قابلیت کی مثال دی جا سکے۔ ایسے بے مثال افسر کا 22 ستمبر کی شب انتقال ہو گیا۔ آئی پی ایس کے 1974 بیچ کے افسر رہے یدھ بیر سنگھ ڈڈوال کی موت بیماری کی وجہ سے ہوئی۔

پولیس کمشنر کے عہدہ پر جولائی 2007 سے نومبر 2010 تک یدھ بیر سنگھ ڈڈوال نے پوری قابلیت ے ساتھ کام کیا۔ آئی پی ایس افسران کے ذریعہ پولیس اہلکاروں، رسوئیے اور کار وغیرہ وسائل کے غلط استعمال کو روکنے کی انھوں نے ہی کوشش کی۔ آئی پی ایس افسروں کے ذریعہ اپنے ساتھ چہیتے پولیس اہلکاروں کو بھی لے جانے کی روایت کو ڈڈوال نے بند کر دیا تھا۔ لیکن ان کے جانے کے بعد یہ روایت دوبارہ شروع ہو گئی۔ 2010 میں ہوئے کامن ویلتھ گیمز کے لیے سخت سیکورٹی انتظامات کرنے کا سہرا ڈڈوال کو ہی جاتا ہے۔


ڈڈوال ڈسپلن کے ساتھ چلنے والے، سخت اور دبنگ قسم کے انسان تھے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کامن ویلتھ گیمز کی ریہرسل دکھانے کے لیے آئی پی ایس اجے چودھری اپنی بیوی کو لے کر اسٹیڈیم پہنچ گئے، تو ڈڈوال نے اجے چودھری کو ڈانٹ لگائی اور واپس بھیج دیا۔ کامن ویلتھ گیمز میں کروڑوں روپے کے سیکورٹی سے متعلق سامان کمشنر ڈڈوال اور جوائنٹ کمشنر کرنل سنگھ وغیرہ کی کمیٹی نے خریدے تھے۔ لیکن پولیس کی خرید پر کسی نے ذرا بھی انگلی نہیں اٹھائی، جب کہ شیلا دیکشت حکومت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات لگے۔ کسی بے قصور کو جھوٹے معاملوں میں پھنسانے والے پولیس اہلکاروں، انسپکٹر تک کو واپس سب-انسپکٹر بنانے جیسی سخت کارروائی ڈڈوال کے ذریعہ کی جاتی تھی۔

13 ستمبر 2008 کو دہلی میں سلسلہ وار 5 بم دھماکے ہوئے جس میں 22 لوگوں کی موت ہوئی اور 131 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان بم دھماکوں میں شامل دہشت گردوں کو اسپیشل سیل نے 6 دنوں میں ہی تلاش کر لیا۔ 19 ستمبر 2008 کو بٹلہ ہاؤس میں مبینہ انکاؤنٹر میں دو دہشت گرد مارے گئے اور انسپکٹر موہن چندر شرما شہید ہو گئے۔ اس انکاؤنٹر کو لے کر زبردست تنازعہ ہوا اور اس وقت برسراقتدار کانگریس کے لیڈروں دگ وجے سنگھ اور سلمان خورشید نے اسے فرضی انکاؤنٹر کہہ کر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ اور قومی حقوق انسانی کمیشن نے اس انکاؤنٹر کو درست مانا۔ اس وقت کے کمشنر یدھ بیر سنگھ ڈڈوال اور اسپیشل سیل کے اس وقت جوائنٹ کمشنر کرنل سنگھ نے عدالت، حکومت، لیڈروں اور کمیشن وغیرہ کے سامنے پولیس کی بات مضبوط سے رکھی اور انکاؤنٹر کو صحیح ثابت کیا۔ کرنل سنگھ کے مطابق پولیس کی ایک تقریب میں اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پولیس کے کام کی تعریف کی۔


یدھ بیر سنگھ ڈڈوال نے ہی دہلی پولیس میں پرانے تمام اسٹینڈنگ آرڈر کو ریویو کر کے ان میں اصلاح کرنے کا اہم کام کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا نے جب دہلی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کے لیے دہلی پولیس کی ایک اسپیشل ٹاسک فورس بنائی تھی، جس کا سربراہ یدھ بیر سنگھ ڈڈوال کو بنایا گیا تھا۔ ایس ٹی ایف کے سربراہ ڈڈوال اور اس وقت کے ڈی سی پی کرنل سنگھ کی ٹیم نے دہلی کے سبھی بڑی بڑی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی شروع کی تو بلڈروں اور ایم سی ڈی کے بدعنوان انجینئروں میں دہشت پھیل گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔