ڈھلّی کِلّی دِلّی کی، لیکن پھر بھی بنتی راجدھانی!... مرنال پانڈے

سر ایڈون لُٹین اور سر ہربرٹ بیکر کی تیار کردہ نئی راجدھانی دلّی کا آج سے ٹھیک 90 سال پہلے، 13 فروری 1931 کو لارڈ ہارڈنگ نے باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔ سرکاری افسر کی پہلی چھاؤنی بنی سول لائن علاقے میں۔

لال قلعہ کی ایک فائل تصویر (آئی اے این ایس)
لال قلعہ کی ایک فائل تصویر (آئی اے این ایس)
user

مرنال پانڈے

دلّی نو بار بسی اور اجڑی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی شروعات ہی ایک ڈھلّی کِلّی سے ہوئی جب تومر راجہ اننگ پال نے شہر کو شیس ناگ کے پھن پر ٹکائے رکھنے والی کِلّی کو اپنی ضد سے اکھڑوایا اور اس پر شیس ناگ کا خون لگا دیکھ کر اس کو پھر سے روپنے کی ناکام کوشش کی۔ پرانے لوگ تبھی سے کہنے ’’دِلّی کی کِلّی ڈھلّی تنور بھئے متی ہین‘‘۔ بہر حال آخری بار یہ تب اجڑی جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے گوروں نے آبی راستہ سے جڑی اور صنعت کاروں کی نگری بن گئے کلکتے کو راجدھانی بنایا۔ لیکن 1858 میں کمپنی سے اپنے ہاتھ میں لے کر راج کاج چلانے والی جارج پنجم کی حکومت 1905 میں بنگ بھنگ کی ناکام کوشش سے بنگال میں زبردست بدنامی کما لی۔ عوامی انقلاب کے آثار دیکھ کر دسمبر 1911 میں لندن سے ہندوستان کے شاہی دورے پر آئے شاہ جارج پنجم نے اعلان کیا کہ ملک کی راجدھانی کولکاتا کو نہیں، پھر سے دلّی کو بنایا جائے گا۔

بادشاہ جو کہیں وہی درست۔ لہٰذا 25 اگست کو گوروں کی موسم گرما کی راجدھانی شملہ سے لندن خط و کتابت ہوئی اور آناً فاناً میں نئی دلّی کی بنیاد پرانی راجدھانی شاہ جہان آباد سے 3 کلو میٹر دور ڈال دی گئی۔ کورونیشن پارک کنگسوے کیمپ میں، جو تب وائسرائے کی رہائش تھی، اس کی سنگ بنیاد ہوئی تھی۔ لیکن یہ ہوتے ہی دلّی کی ڈھلّی کِلّی کا اثر تھا یا جانے کیا، عالمی جنگ شروع ہو گیا اور کام ڈھیلا ہو گیا۔ بہر حال، سر ایڈون لٹین اور سر ہربرٹ بیکر کی تیار کردہ نئی راجدھانی کا آج سے ٹھیک 90 سال پہلے، 13 فروری 1931 کو لارڈ ہارڈنگ نے باقاعدہ افتتاح کیا۔ پہلی سرکاری افسر چھاؤنی بنی سول لائن علاقے میں۔ مقامی لوگ شاہجہان آباد اور آس پاس کے علاقوں میں ہی رہتے آئے۔ نئی راجدھانی چلانے کے لیے ہندوستانی بابو مدراس پریسیڈنسی اور کولکاتا پریسیڈنسی سے ہی لائے گئے۔ ان کو نئی دلّی میں رہنے کی جگہ دی گئی اور ان پڑھے لکھے محنتی باہری لوگوں کی دلّی بن چلی جسے آج کئی رائٹ وِنگ پارٹی مذاق سے لٹینس گینگ کہتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ برسراقتدار پارٹی کے ہر پرامید رکن کا خواب یہاں رہنے کا ہے۔ اور بیشتر تب کی بنی عظیم الشان کوٹھیوں میں برسراقتدار پارتی کے ہی بڑے وزیر، اور اہم بابوؤں کا ٹھکانہ ہے۔


نئی دلّی کو بنانے کا ٹھیکہ تب کے جانے مانے ٹھیکیدار (آنجہانی خوشونت سنگھ کے والد) سردار سوبھا سنگھ کو دیا گیا۔ عمارتیں بننے میں تاخیر ہوتی دیکھ کر سرکاری کام کاج نمٹاے کے لیے 1912 می یہاں شمالی دہلی میں ایک قلیل مدتی سکریٹریٹ بنایا گیا جو اب اولڈ سکریٹریٹ کہا جاتا ہے۔ جب پہلی عالمی جنگ ہوئی تو کام نے رفتار پکڑی اور 13 فروری کو نئی دلّی کا پہلا یوم پیدائش ہوا!

خرچ کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ صرف کلکتے سے دلّی راجدھانی کا افسری تام جھام لانے کی قیمت ہی چالیس لاکھ پاؤنڈ پڑی تھی۔ راجدھانیوں کی بنیاد ہو کہ منتقلی، پیسہ ہمیشہ ہماری عوام کی ہی جیب کا رہتا آیا ہے۔ بہر حال گھاگھ سیاستداں لارڈ ہارڈنگ افتتاحی تقریر میں ہندو-مسلم تفریق کو نشان زد کرنا نہ بھولے۔ انھوں نے نئی راجدھانی کو ہندوؤں کے لیے پانڈووں کی نگری اور مسلمانوں کے لیے مغلوں کی پرانی راجدھانی بتایا اور جوڑا کہ دراصل یہ شہر اتنا خاص ہے کہ اس سارے دوران عوام تو کلکتے کی جگہ دلّی کو ہی راجدھانی سمجھتی رہی۔ اور اس لیے انگریز حکومت بہادر کو پختہ یقین تھا کہ ان کے اس فیصلے سے سبھی ہندو-مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔

دلّی کی سیاسی حالت اور کسی حد تک اس کا مزاج بھلے بدلتا رہا ہو، لیکن دلّی والے ہر انقلاب کو برداشت کر گئے۔ دلّی تو آج بھی وہ سرزمین ہے جس کی خاک تلے ہزاروں عظیم ہستیاں سو رہی ہیں۔ ان سب کو ہمارا پرخلوص سلام۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔